آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔ یہ بات تو طے ہے کہ نوازشریف کو جیل بھیجا جائے گا مگر صرف یہ طے کرنا باقی ہے کہ جیل عام انتخابات سے پہلے بھیجاجائے یا بعد میں۔ ویسے جیل میں قید نوازشریف ، جلسوں سے خطاب کرتے نواز شریف سے زیادہ خطرناک ہے ۔ انتخابات سے قبل نوازشریف کو جیل بھیجے جانے کی صورت میں کیا منظر ہوگا؟ اگرعام انتخابات سے قبل ہی فوری سزا طےکر لی گئی تو آئندہ تین ہفتوں کے اندر نوازشریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ احتساب عدالت آئیں گےجہاں معزز جج انہیں باضابطہ سزا سنائیں گے ۔ اب تک کی عدالتی سماعت اور حالات متوقع فیصلے کا واضح اشارہ دے رہے ہیں ۔ سزا میں قید کے ساتھ جائیداد کی قرقی بھی ہوگی اور مخالفین کی دشنام طرازی بھی۔
شریف خاندان کیخلاف فیصلہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت اس درخواست سے بھی منسلک ہے جس میں چاروں احتساب ریفرنسز پر بیک وقت سزا سنانے یا ایک ایک کرکے سزا سنانے کے بارےمیں فیصلہ ابھی باقی ہے۔ احتساب عدالت کے معزز جج صاحب نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ نوازشریف کیخلاف تینوں کیسز کا فیصلہ اکٹھا سنائیں گے مگر اب ان کا کہنا ہے کہ وہ تینوں کرپشن ریفرنسز کا الگ الگ فیصلہ سنائیں گے ۔ یعنی اگر کسی ایک کیس میں نوازشریف ہائیکورٹ سے ضمانت لے بھی لیں تو دوسرے کیس میں اندر ہوں گے۔ نوازشریف اس سب کیلئے ذہنی

طور پر تیار ہیں اور بیٹی کی وجہ سے پریشان بھی۔ ظاہر ہے وہ سابق وزیراعظم سے پہلے بیٹی کے باپ بھی ہیں۔ کمرہ عدالت سے نکل کر نوازشریف کو پینتیس قدم کے فاصلے پر مرکزی دروازے پر لایا جائے گا جہا ں میڈیا ان کا منتظر ہوگا ۔ نوازشریف کو اس بار دہرا غصہ ہے ۔ کیس صرف ان کے خلاف بنائے جاتے تو خیر تھی مگر اب تو سیاسی معاملات میں ان کے بچوں کو بھی گھسیٹا گیا اور سب سے اہم یہ کہ ان کی اس بیٹی کو جسے وہ سال دوہزار تیرہ میں اپنا سیاسی وارث بنانے کا فیصلہ کرچکے تھے ۔پولیس نے اگر رحم کھایا تو ملزم سے مجرم بنائے جانے والے نوازشریف کو میڈیا سے بات کرنے کی اجازت ہوگی۔ وگرنہ انہیں شدید گرمی کے اس موسم میں اڈیالہ جیل پہنچا دیا جائے گا۔ ممکن ہے کہ ایسی صورت میں مسلم لیگ ن کا میڈیا ونگ نوازشریف کا پہلے سے ریکارڈ شدہ بیان میڈیا کو جاری کردے۔ سزا کے بعد نوازشریف کا پہلا بیان ملک ، آئندہ عام انتخابات اور خود نوازشریف اور ان کی بیٹی کے مستقبل کی سیاست کا تعین بھی کرےگا۔
ابھی تک شہباز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ نواز نے نوازشریف کی ممکنہ سزا کے اعلان کے دن کیلئے کوئی تیاری نہیں کی۔ اس روز اگر لیگی کارکن بڑی تعداد میں اکٹھے ہوگئے تو نوازشریف کا جیل جانے کیلئے گاڑی میں بیٹھنا اور کارکنوں کی طرف سے پولیس کی گاڑی کو بار بار روکنا ، سب فطری ہوگا اور کسی تماشے سے کم نہیں۔ یہ سب الیکٹرانک میڈیا کی توجہ کا خصوصی مرکز بھی ہوگا اور اس سب کو میڈیا ممکنہ پابندیوں کے ساتھ نشر بھی کرے گا۔تاہم اس بار روایتی میڈیا کے بجائے موبائل فون اور سوشل میڈیا ایسی خبریں بلا تعطل لوگوں کو پہنچانے کیلئے لیگی کارکنوں کے بڑے ہتھیار ہوں گے۔ سارا کھیل حالات حاضرہ سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کیلئے بھی بڑا اہم ہوگا کیونکہ انہیں ہی ووٹ کے فیصلہ سے عدالتی فیصلے کے بارے اپنی رائے دینا ہوگی۔ نوازشریف کے حق میں یا مخالفت میں بہرحال فیصلہ عوام ہی کریں گے ۔ نوازشریف کے خلاف فیصلے کے روز پاکستان تحریک انصاف خوشیاں منائے گی اور مسلم لیگ ن کے کارکن سوگ۔ سزا کے روز کتنے لوگ نوازشریف اور مریم نواز کیساتھ کھڑے ہوں گے، اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا تاہم راولپنڈی اسلام آبادپولیس کے تحریری اندازوں کے مطابق اس روز کم سے کم پندرہ سو اور زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار لیگی کارکن گھروں سے باہر نکلیں گے، جو اگر ایک مقام پر اکٹھے نہ ہو پائے تو انہیں کنٹرول کرنا اتنا مشکل بھی نہیں ہوگا۔جس روز نوازشریف جیل جائیں گے اس روز میڈیا عدالت سے جیل تک کے سفر اور جیل کے باہر سے براہ راست نشریات کا ایک طویل سلسلہ شروع کرےگا۔ نوازشریف جیل سے کھانا کھائیں گے ،یا کھانا گھر سے آئے گا؟ نوازشریف سے کون ملنے آرہا ہے، کون نہیں ؟ اور سب سے بڑھ کر نوازشریف کی صحت کیسی ہے کیونکہ ابھی کم و بیش دو سال قبل ہی انہوں نے دل کا آپریشن کروایا ۔
بظاہر نوازشریف اور مریم نواز جیل میں ہوںگے مگر اصل امتحان شہباز شریف کا ہوگا۔ شہباز شریف اب تک ایک ایسے شخص کے طور پر جانے گئے ہیں جو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے ، طاقت کے سامنے جھک جانے اور کمزورکے سامنے کھڑے ہوجانے میں ایک یکتا مثال ہیں ۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ شہباز شریف اپنے بھائی کی رہائی کیلئے کوئی عوامی تحریک چلاتے ہیں یا سخت گرمی کے اس ماحول میں وہ ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر رات کے اندھیرے میں خفیہ ملاقاتیں کرنے پر ہی یقین رکھیں گے؟ یہ شہباز شریف کیلئے بھی موقع ہوگا کہ وہ ڈرائنگ روم کے سیاستدان کے بجائے ایک عوامی سیاستدان بنیں۔ ظاہر ہے اس کیلئے قربانیاں بھی دینا پڑیں گی۔ قوی توقع یہی ہےکہ ایسے ماحول میں شہبازشریف ایک بار پھر اپنے دیرینہ دوست چوہدری نثار کےطاقتور حلقوں میں قریبی تعلقات کو استعمال کریں گے۔ شرط یہ کہ اس وقت تک چوہدری نثار کو پارٹی نے قبولیت بخش دی وگرنہ نثار آزاد حیثیت میں ہی انتخاب لڑ کر پارٹی میں اپنی حیثیت منوائیں گے ، پھر بھی نہ مانی گئی تو وہ ممکنہ طور پر تحریک انصاف میں ہی جائیں گے۔ اس وقت تک شہباز شریف چوہدری نثار کو اپنے ساتھ رکھنے میں کامیاب رہے تو نثار اپنے سیاسی فلسفے ، راستہ نکالو، کے تحت اسٹیبلشمنٹ کے اندر شریف برادران کیلئے راستہ نکالنے کی کوشش ضرور کریں گے۔
اس کھیل میں شہباز شریف کے بارےمیں ایک بات اب تک واضح ہے کہ وہ عوامی سطح پر اپنے بھائی نوازشریف کے بیانیے سے یکسر مختلف بیانات تو دیتے ہیں مگر وہ بھائی کو ہرگز چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ طاقت کے مراکز کو یقین ہے کہ وہ بھائی سے بیوفائی نہیں کریں گے ۔ اسی لئے شہباز شریف کیخلاف آئے روز نیب کے نئے مقدمات بھی سامنے آرہے ہیں ۔ ان مقدمات میں حقیقت کیا ہے یہ تو حتمی تحقیقات پرہی پتہ چلے گا لیکن یہ واضح ہے کہ ایسے وقت میں یہ مقدمات کھولنا بھائی کو بھائی سے ہٹنے کا اشارہ بھی ہیں ، جو شہبازشریف بظاہرقبول نہیں کررہے ۔
نوازشریف اور مریم نواز کے کیسز میں اگر مریم نواز کو رہا کردیا جاتا ہے تو یہ واضح طور پر اس بات کا اشارہ ہوگا کہ پس پردہ کہیں کچھ بات چیت چل رہی ہے یا چلنے لگی ہے ۔ میری ذاتی رائےمیں مریم نواز کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہیں ہر صورت جیل بھیجا جائے گا کیونکہ لگ رہا ہے کہ سب قبول ہے باپ بیٹی قبول نہیں۔ اگر مریم جیل جاتی ہیں تو وہ واقعی پنجاب سے ایک خاتون لیگی رہنما کے طورپر ابھریں گی ۔ مریم نواز کو جیل بھیجنا اتنا ہی خطرناک ہے کہ جتنا انہیں باہر رکھنا۔ اگر وہ باہر رہیں تو وہ اپنے والد کیلئے تحریک چلائیں گی۔ ظاہر ہے یہ کسی کو قابل قبول نہیں۔
جلال الدین رومی نے کہا تھا کہ زخم وہ مقام ہے جہاں سے روشنی پھوٹتی ہے ۔ پاکستانی سیاستدانوں کیلئے جیلیں ایسے ہی کسی مقام سے کم نہیں۔ جیل دنیا سے بے نیاز ہوکر سوچنے سمجھنے کا مقام بھی ہے اور طاقت کے شراکت داروں کیلئے مذاکرات کی ایک محفوظ پناہ گاہ بھی ہے ۔ نوازشریف اور مریم نواز کا انتخابات سے قبل جیل سے باہر آنا ممکن نہیں ۔ مگر جیل میں ان سے مذاکرات ضرور ممکن ہیں۔ لہٰذا جیل ہی ان کے لئے طاقت کے مراکز سے بات چیت کا اگلا میدان ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں