آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ ذوالحجہ 1439ھ 17؍اگست2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 جنگلی حیات کی پناہ گاہ   ’’لنگھ جھیل‘‘

اُسامہ خان

صبح سویرے جھیل کے ساحل پر بیٹھی کوئل اور کوہک اور چڑیوں کا چہچہانادل و دماغ کو ترو تازہ کر تاہے۔ صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی جھیل پر معاملات زندگی شروع ہو رہے تھے۔ ماہی گیر مچھلیوں کے جال اور کشتیاں صاف کرکے اپنے کام کا آغاز کر رہے تھے۔دن کے آغاز میں ہی ایسے پُر سکون اور دیدہ زیب مناظرتمام تکالیف اور پریشانیاں دور کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ویسے صوفیوں کی سر زمین سندھ میں بہت سی چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں، جن سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے، لیکن ضلع ،قمبر شہداد کوٹ کے انڈس ہائی وے پر گوٹھ پکھو کے قریب قدرتی خوب صورتی کا دل کش منظر پیش کرنے والی ’’لنگھ جھیل‘‘کی بات ہی کچھ اور ہے،جو خوب صورتی اور دل کشی میں اپنا لگ مقام رکھتی ہے۔ اس جھیل کو سکھر بیراج سے نکلنے والی رائس کینال کے ذریعے پانی سے بھرا جاتا ہے، چاولوں کی کاشت کے دنوں میں یہ جھیل پانی سے پوری طرح بھری ہوتی ہے، لیکن جب سکھر بیراج میں پانی کی قلت ہوتی ہے، تو اس میں بھی پانی انتہائی کم ہوجاتا ہے۔

چار سوایکڑ پر مشتمل یہ جھیل ہزاروں افراد کے پیٹ کی بھوک مٹانے کا بھی ذریعہ ہے۔ مقامی افراد اپنا گزر بسر بھی اسی سے کرتے ہیں۔ کچھ مچھلی فروخت کرکے اور کچھ پرندے پکڑ کر انہیں فروخت کرکے اپنے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پردیسی پرندے آتے ہیں۔ اسے مرغابی کے مسکن کے لیے بالائی سندھ میں بہترین جھیل سمجھا جاتا ہے۔ یہاں پرندوں کی موجودہ آبادی کا تخمینہ 30 ہزار سے زیادہ لگایا جاتا ہے۔اکتوبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ صوبائی حکومت کے محکمہ جنگلی حیات کے زیرنگرانی اس جھیل کو جنگلی حیات کی پناہ گاہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

جھیل کی صفائی ستھرائی اور دیگر انتظامات پرماموراہل کار کا کہنا ہے کہ ملکوں کے سربراہان اس جھیل پر آتے تھے،جھیل کے آس پاس زرعی زمینیں بھی ہیں، لیکن قبضہ مافیا کی وجہ سے جھیل کا رقبہ دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے۔یہ ساری صورت حال یہاں بتانے مقصد صرف یہی ہے کہ مقتدر حلقےاور مقامی انتظامیہ اِس خوب صورت اور تاریخی جھیل کو قبضہ مافیا سے بچانے کے لیے حرکت میں آئے، بہ صورت دیگر کچھ برسوں بعد ہم کہیں یہ کہنے پر مجبور نہ ہوجائیں کہ کچھ سال پہلے بھی یہاں ایک خوب صورت جھیل ہوا کرتی تھی۔کچھ ایسی ہی صورت حال قمبر شہدادکوٹ کے ضلع میں لنگھ جھیل پر بھی دیکھی گئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں