لاہور (رپورٹ:نوید طارق )کھیل، کبھی محض جسمانی زور آزمائی اور تفریج ہی کا نام تھے لیکن انسانی تہذیب و تمدن میں ترقی کے ساتھ ساتھ کھیل قوموں کے درمیان مسابقت کا پیمانہ ہی نہیں رہے بلکہ معاشی ترقی کا زینہ اوراقوام عالم میں قوموں کا امیج بہتر کر نے میں اہم محرک کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں ۔ یوکرائین کے تنازعے میں معاشی پابندیوں کا سامنا اور عالمی تنہائی کا سامنا کر نے والے روس کے لیے 2018ء کا فٹ بال دنیا میں اپنا تاثر بہتر بنانے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا سنہری موقع بھی لیکر آئے ہیں، اس دوران پوری دنیا کی نظریں روس پر مرکوز ہونگی ،150سے زائد ممالک میں میچز براہ راست نشر کیے جائیں گے ۔منتظمین کے مطابق فٹ بال ورلڈ کپ سے روسی معیشت کو 31ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا۔86ہزار سے زائد امریکیوں نے ٹکٹ خریدے ، جرمن ، برازیلین ، کولمبین اور میکسیکن بھی قابل ذکرہیں ۔جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل نے روس میں جاری فٹ بال ورلڈ کپ کے آغاز کے موقع پر مختلف ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر مبنی جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق ٹورنامنٹ کی وجہ سے 2لاکھ 20ہزار نوکریاں پیدا ہوئیں ۔ روس نے صرف فٹ بال اسٹیڈیمز کو بہتر بنانے کے لیے 10ارب 10کروڑڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں ۔110سال سے دنیا بھر میں کاروباری امور پر کام کر نیو الے ادارے موڈیز کے مطابق روس ٹورنامنٹ کے دوران خوراک ، ہوٹلنگ ، ٹیلی کام ، ٹرانسپورٹ سیکٹر میں عارضی طور پرآمدنی میں اضافہ ہوگا ۔ 11یورپی ممالک سمیت 32ممالک کی ٹیمیں ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہیں ۔ مقابلے11روسی شہروں میں ہونگے ۔زیوریخ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق فٹ بال اسٹیڈیمز پر اٹھنے والے (فی سیٹ) اخراجات میں روسی ورلڈ کپ سب سے مہنگا ثابت ہوگا ۔ 2002ء میں جاپان و جنوبی کوریا میں ہونیو الے ورلڈ کپ میں اخراجات 6ہزار ، 2006ء میں جرمنی کے ورلڈ کپ میں 3ہزار 200، 2010ء میں جنوبی افریقہ میں 5ہزار اور 2014ء میں برازیل میں ہونیو الے ورلڈ کپ میں فی نشست 6ہزار 500جبکہ روسی ورلڈ کپ میں 11ہزار 500ڈالر اخراجات ہوئے ہیں ۔2018ء کے ورلڈ کپ کے سپروائزری بورڈکے مطابق ورلڈ کپ کی تقریباً 25لاکھ ٹکٹوں میں سے انٹر نیشنل تماشائیوں کے لیے 54اور روسیوں کے لیے 46فیصد مختص کیے گئے ہیں ۔یوں تو دنیا بھر سے کھیل کے شائقین ہزاروں میل کی مسافت طے کر کے روس پہنچ رہے ہیں لیکن انٹرنیشنل تماشائیوں میں سے سب سے زیادہ 86710 امریکیوں نے خریدیں ۔ ان کے علاوہ سب سے زیادہ ٹکٹس خریدنے والوں میں جرمنی ، برازیل ، کولمبیا ، میکسیکو اور ارجنٹائن شامل ہیں ۔