آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحرائے عرب کے ایک بدو سردار نے سرور عالم ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔ نومسلم سردار کی پانچ بیویاں تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے اسلام میں داخل ہونے سے پہلے پانچ بیویاں ہیں اس لئے مجھے ان پانچوں کو ساتھ رکھنے کی اجازت دی جائے۔ آپ ﷺ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی مسلمان کو چار سے زیادہ بیویوں کی اجازت نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو سکتی۔ اس لئے ہرصورت تمہیں ایک بیوی کو طلاق دینا ہو گی۔ سردار نے بہت دیر تک تکرار کی اور اصرار کرتا رہا مگر حضور ﷺ نے اجازت نہیں دی تو بڑی مایوسی کے ساتھ بھاری قدموں رخصت ہوا تو آپ ﷺ نے اسے واپس بلایا اور پوچھا کیا تمہیں اپنی بیویوں سے اتنی محبت ہے کہ دین اسلام کے حکم کے مقابل انہیں ساتھ رکھنے پر اصرار کرتے ہو۔ عرض کی مسئلہ دراصل یہ ہے کہ میری بیویوں میں سے ہر ایک کو اس بات پر یقین ہے کہ میں سب سے زیادہ محبت اسی سے کرتا ہوں۔ آج اسی بات پر پشیمانی ہو رہی ہے کہ ان میں سے ایک کو یہ علم ہو جائے گا کہ میں باقیوں کے مقابلے میں اس سے کم محبت کرتا تھا۔ دراصل یہ پردہ فاش ہونے پر پریشانی ہے۔
تحریک انصاف کے کارکن خصوصاً نوجوان اور پرانے ساتھی عمران خان سے شدید محبت کرتے ہیں۔ عمران خان بھی گاہے ان کے ساتھ اپنی لگاوٹ اور وفاداری کا اظہار کرتے

رہتے ہیں چنانچہ ساڑھے چار ہزاروں لوگوں نے انتخابی مقابلے میں اترنے کیلئے درخواست دی اور درخواست کیساتھ ایک لاکھ اور پچاس ہزار روپے بھی عطا کئے۔ اب عمران خان کو ان میں سے صرف بیس فیصد کا انتخاب کرنا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق الیکشن جیتنے کی کوشش میں ایسے لوگوں کو ٹکٹ دینا مجبوری ہے جن کے ساتھ کپتان کی جان پہچان تو دور کی بات چند قدم ساتھ چلنے کا تعلق بھی نہیں۔ غیرجانبداری سے تجزیہ کیا جائے بعض جگہوں پر یہ مسئلہ زمینی حقائق کی ہم آہنگی سے کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ یوں جیسے کثرت ازواج کے شوقین کی ہر نئی دلہن چند مہینوں کیلئے پہلی بیویوں کو کونے میں دھکیل دیتی اور دلہا میاں کی ساری توجہ کا مرکز و محور بنی رہتی ہے تاوقتیکہ اس پر نئی سوتن آجائے۔ یہاں ہم نے دیکھا کہ بعض پرانے بہترین امیدواروں کے مقابلے میں ’’نئی دلہنیاں‘‘ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
پنجاب یونیورسٹی طالب علمی کے زمانے میں ہمارے ایک دوست تھے، دیہاتیوں کی سی سادگی اور بے تکلفی مگر بے حد ذہین اور معاملہ فہم، لاہور میں ان کی خالہ کا گھر تھا۔ صاف ستھرے علاقے میں خوشحال گھرانہ، یہ دوست اکثر ان کے ہاں جایا کرتے تھے، اچانک وہاں جانا بند ہو گیا۔ کچھ اداس رہنے لگے، عقدہ کھلا تو خالہ کی ایک بیٹی ہیں جنہیں موصوف پسند کرتے ہیں۔ والدہ کو کہہ کر رشتہ لگایا مگر خالہ نے انکار کر دیا۔ کئی برس بعد اچانک ملاقات ہوئی، حال دل پوچھا، کہنے لگے آپ کو لاہور میں ہماری خالہ والا قصہ یاد ہے؟ ہاں، یاد ہے۔ بولے، یونیورسٹی سے فارغ ہوکر سی ایس ایس کا امتحان دیا تو پولیس سروس میں نام آگیا۔ ابھی ٹریننگ شروع نہیں ہوئی تھی کہ خالہ خالو مٹھائی لئے گائوں پہنچ گئے۔ آج خالہ کی وہی بیٹی ہمارے بچوں کی اماں ہیں۔ سوچتا ہوں یہ رشتہ خالہ نے بھانجے کے بجائے پولیس کی اعلیٰ ملازمت کو دیا۔
انتخابی سائنس کے ماہرین جوق در جوق تحریک انصاف کی چوکھٹ پر کھڑے ہیں۔ ان میں کون ہے، جس کے در دولت پہ ہم نے احسن رشید کے ساتھ سیاسی مناکحت کیلئے رشتہ نہیں لگایا۔ بہالپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، اوکاڑہ، ملتان، مظفر گڑھ، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، ساہیوال، ہمارے دوست کی لاہوری خالہ کی طرح کہیں سے ہاں کی آواز نہ آئی۔ سیاست کے ’’سی ایس ایس‘‘ نتائج کی بھنک ملتے ہی ساری خالائیں مٹھائی کے ڈبے اور پھلوں کی ٹوکریاں اٹھائے بنی گالا میں حاضر ہیں۔ افسوس، کہ یہ خوشنما منظر دیکھنے کیلئے ’’احسن رشید‘‘ موجود نہیں۔
بنی گالا میں احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے عمران خان نے 22جون کی شام آخری خطاب کیا جس کے بعد پانچ دن سے جاری احتجاج ختم کردیا گیا اور کارکن عمران خان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے رخصت ہوئے۔ خان کا کہنا ہے کہ پچھلے تین ہفتے ساری زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔22برس کے طویل سفر میں بہت سے مشکل مرحلے طے ہوئے۔ کٹھن، تکلیف دہ، پرمشقت کوئی دورانیہ بھی آسان نہیں تھا۔ چڑھائی کا سفر تنگ پگڈنڈیاں، انجانے خطرناک راستے اور پچھلے چند ہفتے کشمکش اور ذہنی دبائو کی شدت میں گزرے۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
جو ایک دریا سے پار اترا تو میں نے دیکھا
عمران خان کی تحریک انصاف کو ابھی تین خطرناک منزلیں طے کرنی ہیں۔ جہاں ان کو رقیب(حاسد)، حریف(مقابل)، غنیم(دشمن) سے واسطہ پڑے گا۔ رقیبوں کو آپ بھگت چکے جو حریفوں کی داد پاکر امریکہ سے مردوں کی ہڈیاں چرا لائے کہ جادو کے زور پر کپتان کو باہر کریں۔ یہ وہی جادو ہے جو پہلے بھی آزمایا گیا تھا، بے اثر رہا۔ اب کے بار بڑے گیانی سابق قاضی القضاء کو یہ منتر پھونکنے کیلئے بلایا گیا ہے۔ رہ گئے حریف، حریفوں کے پہلے سے چھکے چھوٹ چکے ہیں۔ ان کی صفوں میں ابتری اور افراتفری کا عالم ہے ان کی افراتفری پر خوش ہونے کا موقع نہیں۔ حریف کو اپنی طاقت پر بھروسہ ہو تو وہ غنیم کو مدد کیلئے نہیں پکارتا بلکہ اپنی طاقت سے زیر کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن حریف کی اپنی طاقت جواب دے جائے تو تنگ نظر رقیب کے اکسانے پر وہ غنیم کی طرف دیکھتا ہے۔ جب حریف اور غنیم یعنی مقابلے میں اترنے والے دشمن ایک ساتھ مل جائیں تو وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ضیاء الحق کے ساتھ ہوا، بینظیر نے بھگتا اور افغانستان میں ظاہر شاہ، دائود مجاہدین نے دیکھا اور طالبان پر گزرا۔ ترکی کا اردوان بچ نکلا اب پاکستان، ایران حریفوں کی مدد سے غنیم کی زد پر ہے۔ حالیہ انتخاب پاکستان کیلئے بہت اہم ہے اور خطرناک بھی، جب قوم کے جذبات اپنے اپنے گروپوں کیلئے عین عروج پر ہوں گے اس وقت کوئی بہت خطرناک کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔2008ء میں بینظیر کے خلاف آزمایا گیا، آج پھر اس کا خطرہ ہے۔ پہلا نشانہ عمران خان ہوں گے وہ بچ رہے تو شہباز شریف۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے غیر ملکی خطرے کا الارم بجایا، سپیشل سیکرٹری داخلہ نے خبردار کیا اور اس کے بعد وزیر داخلہ نے دہرایا۔
اسرائیل کی ہمسایہ مسلمان ریاستوں کو زیروزبر کرنے کے بعد دنیا کی سب سے خطرناک سازشی ’’ٹرائیکا‘‘ (اسرائیکل، امریکہ، بھارت) افغان خانہ جنگی کی آڑ میں یہاں ڈیرہ ڈال چکی ہیں۔ ترکی، ایران اور پاکستان ان کا ہدف ہیں، ترکی پر ایک خطرناک وار کیا جا چکا ہے خوش قسمتی سے ترک عوام نے اسے ناکام بنادیا۔ ایران کے بارے میں کھلم کھلا امریکہ اور اسرائیل مذہبی حکومت ختم کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ اس غرض سے انہوں نے متحرک سیل قائم کر لئے ہیں اور کسی وقت بڑا حملہ ہوسکتا ہے۔ ایران کے پڑوسی ترکی اور پاکستان دشمنوں کی راہ لگنے پر تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ انہیں پاکستان میں کوئی پرویز مشرف چاہیے یا زرداری جو ان کی مدد کرے یا کم ازکم راہ میں حائل نہ ہو۔
ہمارے سپہ سالار آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورہ افغانستان، افغانستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان آمد، پاکستانی طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکت، ہمارے محافظوں کے چوکس ہونے کی دلیل ہے، مگر پاکستان کے لیڈروں کو زیادہ بہادر بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ ان کی ذاتی زندگی سے کہیں بڑا خطرہ ہے کہ قوم کو اشتعال کی نذر ہونے سے بچایا جائے۔ قومی اشتعال پر قابو ہمارے ریاستی اداروں کے لئے ممکن نہ ہوگا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں