آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ووٹرز نے ترکی کو مطلق العنانیت کی طرف لے جانے والے ایردوان کی حمایت کیوں کی

تحریر، استنبول سے راف سانچز

ترکی میں انتخابات شفاف نہیں ہوئے۔ صدر رجب طیب ایردوان، جو اس وقت نئی مدت صدارت کا جشن منارہے ہیں، کو میڈیا کی جانب سے ان کی حمایت میں کئی گھنٹوں تک کوریج ملی جبکہ اس دوران ان کے مخالفین کو ٹیلی ویژن اسکرین پر آنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔

اس کے علاوہ یہ رائے شماری ملک میں نافذ ایمرجنسی کے زیر تحت ہوئی جس کے تحت 50 ہزار کے قریب افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جس میں ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ بھی شامل ہیں۔

لیکن ایسے نتائج جس میں ووٹنگ ٹرن آئوٹ 87 فیصد ہو کو موقوف کرنا اہم چیز کو نظر انداز کرنے جیسا ہے، 3 کروڑ سے زائد لوگوں یہ دکھائی دے رہا تھا کہ جناب ایردوان ترکی میں مطلق العنانیت پر اپنی گرفت مضبوط کررہے ہیں تاہم انہوں نے پھر بھی انہی کو ووٹ دیا۔

ایسا کیوں؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس وقت کئی ترک شہریوں کے پاس جو کاریں، فریزرز اور موبائل فونز ہیں 2003 میں وہ یہ سب کچھ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے جب ایردوان پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے۔

ایردوان کے دور اقتدار میں فی کس خام ملکی پیداوار دوگنی ہوگئی اور لوگوں کا معیار زندگی تیزی سے بہتر ہوا۔ ایردوان کے دور اقتدار میں سڑکوں کی تعمیر اور پانی کی فراہمی جیسی بنیادی سہولیات میں بے انتہا بہتری آئی۔

ایک کریانہ کی دکان کے مالک 45 سالہ راصم ساہن سے جب پوچھا گیا کہ وہ ایردوان کی حمایت کیوں کرتے ہیں تو اس کا کہنا تھا کہ ’’میں اس وقت یہاں خود کو 15 سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہوں اور مطمئن ہوں‘‘۔

یہ سیاست کا ایک پرانا فارمولا ہے: اگر لوگ خود کو آپ کی قیادت میں زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں تو پھر وہ آپ کی حمایت جاری رکھیں گے۔

2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے ایردوان کی زیر قیادت کئی شہری آزادیوں پر قدغن لگادی گئی ہیں۔ فریڈم ہائوس نے اپنے رینکنگ میں ترکی کو ’’ناٹ فری‘‘ یعنی غیر آزاد قرار دیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں 2005 میں ایردوان حکومت کے اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’پارٹیلی فری‘‘ یعنی کسی حد تک آزاد قرار دیا تھا، یہ اس وقت کی بات ہے جب ایردوان یورپی یونین میں شمولیت کی تیاریاں کررہے تھے۔

جب سے مغربی جمہوری اقدار کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اس کے بعد سے ترکی کے یورپی یونین میں شمولیت کی امیدوں پر پانی پھیر گیا ہے۔ لیکن ترکی میں تمام سیاسی حلقے اس کا مورود الزام ایردوان کو نہیں ٹھہراتے بلکہ انہیں شبہ ہے کہ یورپی یونین 8 کروڑ 10 لاکھ کی آبادی والے مسلمان ملک کو اپنے ’’عیسائی کلب‘‘ میں جگہ دینے کا خواہاں نہیں ہے۔

ان مذہبی آزادیوں کی فہرستوں کو نظر انداز کرنے کے لئے انتہا ہی کافی ہے کہ ترکی میں اعتدال پسند اور مذہب سے لگائو رکھنے والے ترک شہری خود کو اس وقت جتنا آزاد سمجھتے ہیں اس سے پہلے انہیں ایسی آزادی کبھی نہیں ملی۔ یہ سب اس لئے ہے کیوں کہ ایردوان نے سخت گیر سیکولر قوانین کا بھی خاتمہ کیا جیسا کہ یونیورسٹی میں خواتین کے اسکارف پہننے پر پابندی، جسے کئی مسلمان امتیازی قانون سمجھتے تھے۔

ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کی رضاکار 36 سالہ خاتون نسیم توگرا کہتی ہیں کہ ’’ہمیں 15 برس قبل اتنی آزادی حاصل نہیں تھی۔ اب ہم لوگ آزاد ہیں اور ہم اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلط نہیں کرسکتے۔‘‘

یہ مذہبی آزادی کرد سیاستدانوں، آزاد خیال صحافیوں اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کے لئے زیادہ پر اعتماد نہیں ہے اور وہ ترکی کے وسعت پانے والے جیل سسٹم پر تنقید کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایردوان کی بے رحمانہ کامیاب الیکشن کی حکمت عملی ہے۔

اپنے دور اقتدار میں انہوں نے ترکی کو دو کیمپوں میں تقسیم کیا۔ انہوں نے اپنی طرف موجود ترکوں کو حقیقی نمائندہ ظاہر کیا، ترکی کی عام عوام خدا پر یقین رکھتی ہے اور اپنے وطن کی وفادار ہے۔ انہوں نے اپنے مخالفین کو ترکی کا دشمن ظاہر کیا جس میں سیکولر اشرافیہ، بائیں بازو کے نظریات کے حامل وطن دشمن اور وہ کرد شامل ہیں جو دہشتگردوں کے حامی ہیں۔

ایردوان ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کئی لوگوں کو غربت سے نکالا۔ لیکن ان کا ایک دوسرا منفی رخ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے مخالفین کے خلاف کریک ڈائون کیا اور جمہوری اقدار کو کچلا۔ ’’دی نیو سلطان‘‘ کے مصنف سونر کیگاپٹے کا کہنا ہے کہ اس وقت ترکی میں صرف ایک فالٹ لائن موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’آپ ایردوان کے حامی ہیں یا اس کے مخالف‘‘۔

ایردوان نے سوسائٹی کو بہت احتیاط سے تقسیم کیا ہے تاہم ان کے حامیوں کی تعداد (جو کہ انتخابی نتائج کے مطابق 52 فیصد ہے) انتخابات جیتنے کے لئے کافی ہے۔

ہوسکتا ہے کہ ان کا اتحاد زیادہ دیر نہ چلے بالخصوص اگر معیشت زوال کا شکار ہوئی۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی لیرا کی قدر میں کمی کے باعث ترکی میں اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایردوان کے پاس کوئی واضح معاشی منصوبہ نہیں ہے اور اقتدار پر ان کی گرفت کی مضبوطی نے مغربی سرمایہ داروں کو خائف کردیا ہے جو کہ ملک میں سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں۔

لیکن اس وقت ایردوان نصف سے زائد ملک کے سامنے اپنا بیانیہ کامیابی سے پیش کرنے کے قابل ہیں۔ اگر ایردوان ترکی کو مطلق العنانیت کی طرف لے جاتے ہیں تو بھی یہ ووٹرز ان کی حمایت کے لئے تیار ہیں۔  

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں