آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنگ نیوز

آپ اپنی ایسی کئی دوست، ساتھی اور رشتہ دار خواتین کو جانتی ہوں گی جو آئس کریم اس قدر مزے لے کر کھاتی ہیں، جیسے ’کوئی بات ہی نہیں‘۔ آپ نے ایسی خواتین کو کبھی کھانے کی جگہ سلاد کھاتے نہیں دیکھا ہوگا۔ ان کی ‘فیملی ہسٹری‘ سے آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ ’سپر وومن جینز‘ نہیں رکھتیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خواتین ہر چیز کھانے کے باوجود، زبردست فِٹ رہتی ہیں اور انھیں کبھی ڈائٹنگ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ یہ خواتین آخر ایسا کیا کرتی ہیں کہ ہمیشہ فٹ اور دُبلی پتلی رہتی ہیں؟ آئیےاس سوال کا جواب جانتے ہیں۔

خوب پانی پینا

ڈاکٹروں کا کہناہے کہ مجموعی طور پر صحت برقرار رکھنے کے لیے وافر مقدار میںباقاعدگی سےپانی پینا انتہائی ضروری ہے (خصوصاً جب آپ ایکسرسائز کرتی ہیں)۔ ہرچند کہ انتہائی شوگر کے حامل مشروبات جیسے سوڈا، جوس، کافی اور کاکٹیل وغیرہ دِل لُبھانے والی چیزیں ہیں، تاہم اپنی صحت کے لیے پانی پینےکو ہی ترجیح دیں۔ گھر میں ہوں یا دفتر میں، پانی کی بوتل سائیڈ ٹیبل یا ڈیسک پر رکھیں، تاکہ وقفے وقفے سے پانی پینا یاد رہے۔ باہر جاتے وقت بھی پانی کی بوتل لازمی ساتھ رکھیں۔

ہر دن خاص موقع نہیں ہوتا

دفتر میں میٹھی پوریوں یا ریستوران کے غیر صحت مند کھانوں کے سیشن ہوں یا دوست کی سالگرہ تقریب میں مزیدار کیک اور مشروبات۔ آج کل یہ مواقع اتنی تواتر سے آتے ہیں کہ دل احتیاط کا دامن چھوڑنے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ ہر چند کہ خصوصی مواقعوں پر جی بھر کر کھانا ہم سب کی زندگیوں کا لازمی جزو ہوتا ہے، تاہم وزن کو مستحکم رکھنے کے لیے مجموعی غذاء کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ’اسپیشل ٹریٹس‘ کے چناؤ میں ذہانت کا مظاہرہ کریں اور غیرضروری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ شاید اپنی سالگرہ پر آپ کو خوب کیک کھانا چاہیے، تاہم اس عادت کو سب کی سالگرہ پرمت لاگو کریں۔اسی طرح ریستوران میں فیملی ڈنر میں میٹھے کو بچوں اور شوہر کے ساتھ بانٹ کر کھائیں اوراگلے دن دفتر میں آئےہوئے ’ڈونٹس‘ کو بغیر چھوئے جانے دیں۔

کھانے کی میز پر خوب گپیں ماریں

آپ میز پر کھانے کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں، تاہم اس کا ایک مقصد اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ خوش گپیاں کرنا بھی ہوتا ہے۔ گپ میلہ آپ کے میٹابولزم کو جلد مطمئن کردیتا ہے اور نتیجتاً آپ کم کھاتی ہیں۔

ڈائٹ فوڈ پر وقت برباد نہ کریں

کم چربی اور کم کیلوریز والے لیبل اچھے ضرور لگتے ہیں لیکن یہ صرف لیبل کی حد تک ہی ہیں۔ ڈائٹ غذاؤں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ انتہائی پروسیس شدہ اور کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، جو جسم میں جاکر شوگر میں بدل جاتے ہیں جو آپ کے وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

کوئی چیز بُری نہیں ہوتی

براؤنی کو ’بُرا‘ اور بند گوبھی کو ’اچھا‘ کہنے سے بات نہیں بنے گی۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین ایک ہفتے تک چاکلیٹ لینا بالکل ترک کردیتی ہیں، انھیں اس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور نتیجتاً وہ زیادہ چاکلیٹ لے کر ہی سکون کا سانس لیتی ہیں۔ تحقیق میں کہا گیا کہ جب آپ خود کو یہ باور کراتی ہیں کہ آپ چاکلیٹ نہیں لے سکتیں اور آپ چاکلیٹ کا سوچنا ترک کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو آپ کی نفسیات پر یہ چیز حاوی ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ہوتا یہ ہے کہ آپ عمومی مقدار سے زیادہ چاکلیٹ لے کر ہی پُرسکون محسوس کرتی ہیں۔ اس کا ایک نفسیاتی اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ ڈائٹنگ میں خود کو ناکام سمجھنے لگتی ہیں۔ زیادہ چاکلیٹ اور ناکامی کا غم آپ کے وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔کھانے کی چیزوں کے ساتھ ’صحت مندانہ‘ تعلق برقرار رکھنے کے لیے، اپنی ڈکشنری سے ’بُرے‘ کا لفظ نکال دیں۔

’بیوٹی ریسٹ‘ لینا

جب آپ مصروف ہوں، تو اس کاپہلا شکار آپ کی نیند ہوتی ہے۔ تاہم اپنی صحت، خوبصورتی اور فٹنس کا خیال رکھنے والی خواتین نیند کو ہمیشہ اولین ترجیحات میں رکھتی ہیں۔ کچھ ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اگر کسی دن نیند کو اَدھورہ چھوڑنے اور صبح جلدی ورزش کے لیے جانےمیں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو بہتر یہی ہے کہ آپ نیند پوری کریں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی آپ کے ہارمونز پر اثرانداز ہوتی ہے جس سے وزن بڑھتا ہے اور زیادہ کیلوریزوالی غذاؤں کے لیے آپ کی رغبت بڑھ جاتی ہے۔

وہ خود کو معاف کرنا جانتی ہیں

آپ نے ابھی ابھی ’چیزبرگر‘ ختم کیا ہے اور اب ’فرائیز‘ آپ کے نشانے پر ہیں تو خود کو روکیں مت۔ تاہم خود سے یہ وعدہ کریں کہ اگلی بار آپ محتاط رہیں گی۔ خود سے مطمئن رہنا آپ کی صحت اور غذاسے صحت مندانہ تعلق برقرار رکھنے کے لیےلازمی ہے۔ کھا کر پریشان ہونے کی فطرت ترک کردیں۔خود کو اس طرح ٹریٹ دیں، جیسے اپنے کسی پیارے کو دی جاتی ہے،’ہمت افزائی اور اعتماد‘ کے ساتھ!

وہ چینی کا محتاط استعمال کرتی ہیں

سیدھی سی بات یہ ہے کہ چینی آپ کی صحت کے لیے اچھی نہیں۔ آپ کا جسم چینی کو ایک حد تک ہی جذب کرسکتا ہے، اس لیے زائد لی گئی چینی چربی بن کر جمع ہوجاتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ چینی لینا بالکل ترک کردیں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کا جسم کتنی چینی کو برداشت کرسکتا ہے۔ کیا چند بسکٹ یا تھوڑا سا میٹھا لینے کے بعد آپ تھکی ہوئی اور پھولی پھولی محسوس کرتی ہیں؟ آپ کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہرحال، کھانا وہ کھانا چاہیے، جسے کھاکر آپ اچھا محسوس کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں