آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تخت لاہور کیلئے دو بڑی سیاسی پارٹیوں میں پنجہ آزمائی

الیکشن ٹورنامنٹ 2018ء کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نہ صرف امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کرنے کے بعد بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع کر دی ہے بلکہ پوسٹل بیلٹ پیپرز بھی ریٹرننگ افسران کو جاری کر دیئے ہیں۔ لاہور سمیت پاکستان بھر میں پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان میدان سجے گا۔ لاہور میں سیاسی سرگرمیاں دن بدن بڑھنے لگی ہیں۔ پی ٹی آئی کا بینرز فلیکس اور جھنڈوں کی بہار نظر آ رہی ہیں جبکہ ن لیگ نے کارنر میٹنگز پر زور دیا ہوا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے حلقے اور لاہور کی کمپیئن سینٹرل پنجاب کے صدر عبدالعلیم خان کے سپرد کر دی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں ان کے خلاف پارٹی کے اندر ہی انتہائی مخالفت تھی لیکن انتخابات 2018سے قبل ہی انہوں نے کمال مہارت، عقل دانشمندی سے اپنی مخالف قوتوں کو اس طرح سے نہ صرف ڈھیر کیا بلکہ سیاسی گرد میں دفن کر دیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عوام لاہور میں عمران خان کے بعد ان کو دیکھنا اور ملنا چاہتے ہیں ،لاہور کے عوام مرکز میں وزیر اعظم عمران خان کے بعد پنجاب میں آئندہ وزیراعلی عبدالعلیم خان کو دیکھنا چاہ رہے رہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے لوگ شاہ محمود قریشی کو وزیر اعلی دیکھنا چاہتے ہیں۔اصل مسئلہ پی ٹی آئی کو ابھی تک اندرونی لڑائیوں کا ہے ۔اگر پی ٹی آئی موجودہ عوامی رجحان کے مطابق مرکز اور پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر پنجاب میں وزیراعلی پر جہانگیر ترین گروپ جو اب عبد العلیم خان گروپ میں تبدیل چکا ہے اور مخدوم شاہ محمود قریشی گروپ کا ٹی ٹونٹی ہونے کا قوی امکان ہے، جبکہ بعض سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اس وقت لوگ عبد العلیم خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب دیکھنا چاہ رہے ہیں،جیسے کہ بعض پی ٹی آئی کے صوبائی امیدواروں نے اپنے انتخابی بینرز پر لکھنا بھی شروع کردیا ہے وہ الگ بات ہے کہ حتی فیصلہ عمران خان کا ہی ہوگ کہ پنجاب کا تاج کس کے سر پر سجے گا۔ عبدالعلیم خان کے حلقہ این اے 129کے لوگ تو عبدالعلیم خان کو عمران خان کے بعد سب سے بڑا لیڈر مانتے ہیں ۔

حلقے میں صاف پانی کے فلٹریشن پلانٹس لگانے سمیت متعدد فلاحی کام کروئے جاتے ہیں۔ عمران نے شہر لاہور کی تمام تر ذمہ داری عبدالعلیم خان کے سپرد کر دی ہیں یقینا تخت لاہور کےلئے ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان مقابلہ ہوگا ۔ پی ٹی آئی نے لاہور میں اپنے

امیدوار کھڑے کئے ہیں جو ہر لحاظ سے الیکشن لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کے ذریعے ن لیگ کے قلعے کے محافظوں کو شکست دینے کا خواب عمران نے دیکھ رکھا ہے جس کو پورا کرنے کیلئے پی ٹی آئی اے امیدواروں نے دن رات ایک کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 2018 تبدیلی کا سال ہوگا اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے لاہور کی نصف نشستیں بھی حاصل کر لی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آئندہ پی ٹی آئی کا مستقبل روشن ہو گا،لاہور سمیت ملک بھر میں ہونے والی حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات خاص طور پر لاہور کی حالیہ بارشوں سے شہر کی ابتر صورتحال مال روڈ پر جی پی او چوک میں پڑنے والےگڑھوں کی وجہ سے ن لیگ کو نقصان ہوگا اور فائدہ پی ٹی آئی کو ہوگا۔ لاہور کے حلقوں پر ایک نظر ڈالی جائے تو این اے 131میں عمران خان کا ن لیگ کے سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سے کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ این اے 129میں عبدالعلیم خان کا سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ساتھ بھرپور مقابلہ ہو گا۔ اسی طرح این اے 125میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا وحید عالم کے ساتھ بھی سخت مقابلہ ہو گا۔ این اے 129میں جمشید اقبال چیمہ کو مریم نواز کے مقابلے ان تھک محنت کرنےکی ضرورت ہے۔ این اے 123مہر واجد عظیم کا ن لیگ کے ریاض ملک سے مقابلہ ٹف ہے۔ این اے 124میں نعمان قیصر کا حمزہ شہباز شریف سے سخت مقابلہ ہو گا۔ نعمان قیصر کو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ این اے 126میں بیرسٹر حماد اظہر کا مہر اشتیاق سے مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ این اے 128میں چودھری اعجاز ڈیال کا شیخ روحیل اصغر سے روایتی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ این اے 130شفقت محمود کا خواجہ احمد حسان سے ہے، شفقت محمود اپنی سیٹ کا دفاع کریں گے۔ این اے 132چودھری منشاء سندھو کا سابق وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف سے بہت مشکل مقابلہ ہے۔ اسی طرح این اے 133اعجاز احمد چودھری کا بھی پرویز ملک سے مشکل ترین مقابلہ ہے۔ این اے 134میں ملک ظہیر عباس کھوکھر کا رانا مبشر اقبال سے اچھا مقابلہ ہو گا۔ ملک ظہیر عباس کھوکھر کو برادری سمیت دیگر حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ این اے 135میں ملک کرامت کھوکھر کا سیف الملوک کھوکھر سے کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ اسی طرح ملک اسد علی کھوکھر کا افضل کھوکھر سے بھرپور مقابلہ ہو گا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے امیدواروں میں میاں اسلم اقبال، شعیب صدیقی، میاں محمود الرشید، نذیر چوہان، ڈاکٹر مراد راس سمیت کھلاڑی بھی مکمل فارم میں ہیں۔ پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کے حصول کیلئے ریکارڈ جھگڑے ناراضگیاں اور احتجاج ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کوشش تو کی ہے کہ اختلافات ختم ہو جائیں اور سب مل کر سسٹم کے خلاف ایک مقصد کیلئے ایک ہو کر بلے پر مہر لگوائیں۔ سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرکز میں پی ٹی آئی کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے۔ اور پنجا ب میں مقابلہ سخت نظر آ رہا ہے۔ ن لیگ نے ابھی اپنی روایتی انتخابی مہم شروع کرنی ہے۔ اس سے ایک بات گمان ہو رہا ہے کہ کچھ ایسا ہونے جا رہا ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ن لیگ نے ابھی اپنی کمپین شروع کرنا ہے لیکن نظر یہ آ رہا ہے کہ جیسے ن لیگ کے امیدوار کچھ مایوس نظر آ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ن لیگ کے الیکشن لڑنے کے اثرات کم دکھائی دے رہے ہیں لیکن سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 10جولائی کے بعد الیکشن 2018ء کا فیسٹیول اپنے پورے آب و تاب سے شروع ہوجائے گا جو کہ 25جولائی 2018ء کو اختتام پذیر ہو گا اور اس بار 26جولائی کا طلوع ہونے والا سورج تبدیلی کا سورج ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

تجزیے اور تبصرے سے مزید
تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید