آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم پاکستانی دنیا سے نرالے ہیں۔ آپ اسے انفرادیت کہیں یا کسی قسم کی مریضانہ تنہائی لیکن اس کیفیت کے اشارے واضح ہیں۔ تازہ ترین مثال یہ ہے کہ بی بی سی کی عالمی سروس نے چند ماہ پہلے ایک سروے کیا یہ جاننے کے لئے کہ مختلف ملکوں میں لوگ امریکہ کے صدارتی امیدواروں میں کسے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ موجودہ صدر بارک اوباما کو یا ان کے ری پبلکن حریف مٹ رومنی کو۔ یہ سروے ایکس ممالک میں کیا گیا۔ رائے عامہ کے اس جائزے سے پتہ چلا کہ امریکہ سے باہر، صدر اوباما کی مقبولیت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی ان کے اپنے ملک میں ہے۔ اوسطاً پچاس فیصد نے اوباما کو پسند کیا تو صرف نو فیصد نے رومنی کو…اور اس سروے کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ پاکستان وہ واحد ملک تھا جہاں رائے دینے والوں نے رومنی کو اوباما سے زیادہ پسند کیا۔ اکیس ملکوں میں تنہا…سروے میں تین دوسرے اسلامی ملک بھی شامل تھے۔ ترکی، انڈونیشیا اور ملائیشیا، گویا اکیس ملکوں کے اس ہجوم میں پاکستان نے اپنی ایک الگ حیثیت منوالی۔
کیا یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ ہمارا ملک ، انپی اجتماعی سوچ میں، باقی دنیا سے مختلف ہوتا جارہا ہے؟ کیا ہم دنیا سے روٹھے ہوئے ہیں یا یہ ظالم دنیا ہمیں سمجھنے سے قاصر ہے اور ہمارا حقہ پانی بند کردینا چاہتی ہے؟ یہ اہم سوالات ہیں اور میں اس وقت ان سے توجہ ہٹا کر صرف

امریکہ کے صدارتی انتخابات اور صدر اوباما کی کامیابی پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ ہم امریکہ کو پسند کئے بغیر یا اس سے ایک دلی نفرت کے باوجود کیوں اوباما کو پسند کرسکتے ہیں اور اس کی زندگی اور اس کی حیرت انگیز کامرانیوں سے کچھ سمجھ اور کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
ہوا یہ کہ امریکی انتخابات جن میں صدر کے علاوہ دوسرے مقامی امیدواروں کا چناؤ بھی شامل تھا ہمارے وقت کے حساب سے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو ہوئے۔ ساری دنیا نے دن اور رات کے مختلف اوقات میں رائے شماری اور اس پر کئے جانے والے تجزیوں کو انہماک سے دیکھا۔ ان انتخابات کی اہمیت اتنی ہے کہ ہمارے ”جیو“ نیٹ ورک کی کئی ٹیمیں، امریکہ کے مختلف شہروں میں، موجود تھیں۔ میں خود تقریباً ساری رات جاگا۔ اتفاق سے بدھ کی صبح مجھے یہاں کراچی کے علاقے کورنگی کے ایک اسکول میں بچوں سے بات کرنے جانا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ نویں اور دسویں جماعت کے طالب علموں کو کتابیں پڑھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ میری ذہنی اور جذباتی صورتحال کچھ ایسی تھی کہ جب میں وہاں گیا تو سب سے پہلے میں نے ان بچوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ خواب دیکھنا کیوں ضروری ہے۔ اور اس ابتدائی گفتگو کا مرکزی کردار اوباما تھا۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ پریوں کی کہانیاں بچوں کے ذہن کو کشادہ کرتی ہیں اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہیں۔ ان میں خواب دیکھنے اور سوچنے کی عادت ڈالتی ہیں۔ کچھ کہانیاں، جو شروع میں محض ایک خواب کی دھند میں چھپی دکھائی دیتی ہیں، سچ ہوجاتی ہیں۔ اوباما کی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔ چار سال پہلے جب وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تو پوری دنیا اس کہانی کے طلسم سے مرعوب تھی۔ اب وہ دوبارہ صدر بنے ہیں تو اس کہانی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔ اب حیرت صرف یہ نہیں وہ کہ ایک سیاہ فام شخص، جس کا باپ کینیا کا ایک مسلمان تھا اور جس کے نام میں ”حسین“ کی کڑی شامل ہے، مغربی دنیا کی سب سے عظیم طاقت کا سربراہ بن گیا۔ اس دفعہ اس نے امریکہ کی کسی حد تک ایک زہر آلود تقسیم میں روشن خیال افراد، خواتین اور نسلی اقلیتوں کی مدد سے کامیابی حاصل کی۔ امریکہ کے بارے میں اور اس کی پالیسیوں کے بارے میں ہمارے خیالات کچھ بھی ہوں موجودہ عالمی تناظر میں اوباما کی کامیابی کم از کم تشویشناک تو نہیں ہے۔ امریکہ میں آباد جن تارکین وطن نے اوباما کا ساتھ دیا ان میں پاکستانی بھی شامل تھے۔ اسی اخبار میں جمعرات کے دن، ایک خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی: امریکا میں بارک اوباما کی کامیابی کے لئے پاکستانی خواتین نے مصلے بچھا لئے۔ یہ تو ایک ایسی خبر ہے جو ذہن میں ایک تصویر بھی بناتی ہے۔
جب میں طالب علموں کو اوباما کی کہانی سناتا ہوں تو میرا زور تعلیم کی اہمیت پر ہوتا ہے۔ پسماندہ معاشروں میں ترقی کا عمل تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ افراد کی زندگی میں تعلیم ہی وہ تبدیلی لاسکتی ہے جو انہیں مفلسی اور ذلّت کی قید سے آزادی دلا دے۔ لیکن یہ بات اتنی سادہ اور سیدھی نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ اوباما کی زندگی کے آئینے میں چند وضاحتیں موجود ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاشرے میں جب تک میرٹ کا نظام نافذ نہیں ہوجاتا، تعلیم کی تعمیری قوت بیدار نہیں ہوسکتی۔ اس کا تعلق سماجی انصاف کے ضابطوں سے بھی ہے۔ ہمارے یہاں جس طرح نظام تعلیم، انگریزی کے غلبے اور حکمرانی کے خلفشار نے غریبوں کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے اس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ اوباما اور اس کی بیوی شیل، دونوں کا تعلق ایسے گھرانوں سے تھا جو ان کی یونیورسٹی کی فیس نہیں دے سکتے تھے۔ امریکہ میں ان ذہین اور باصلاحیت نوجوانوں کے لئے جو یونیورسٹی میں داخلہ تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن تعلیم کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے، ایک پورا نظام ہے کہ کیسے قرضوں اور مالی مدد اور جزوقتی ملازمت کے سہارے وہ اپنی تعلیم مکمل کرلیں۔
اوباما نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں بار بار تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کی ضرورت کی بات کی ہے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے جو پہلی اسٹیٹ آف دی یونین، تقریر کی جسے ہم قوم سے خطاب بھی کہہ سکتے ہیں، تو اس میں والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو کہانیوں کی کتابیں پڑھ کر سنائیں۔ وہ اکثر استادوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ وہ اپنے شاگردوں میں ستاروں پر کمند ڈالنے کا جذبہ بیدار کریں۔ ان کے خیال میں امریکہ تعلیم کے معیار کے حوالے سے کئی ملکوں سے پیچھے ہے اور اس ضمن میں اسے کافی جدوجہد کرنا ہے ۔
اوباما کی زندگی کا ایک واقعہ میں طالب علموں کو یاد دلاتا رہتا ہے۔ ہوا یہ کہ یونیورسٹی میں اپنے داخلے کے بعد وہ نیویارک گئے جہاں ایک دوست نے انہیں رات بھر ٹھہرانے کا وعدہ کیا تھا۔ اتفاق سے یہ دوست پاکستانی تھا۔ کسی وجہ سے، رات کے وقت ان کا اپنے دوست سے رابطہ نہ ہوسکا۔ اتنے پیسے نہیں تھے کہ کسی سستے ہوٹل میں ٹھہر جاتے۔ سو ایک رات انہوں نے نیویارک کی فٹ پاتھ پر لیٹ کر گزاری۔ اب اس واردات کی تصویر بھی اپنے ذہن میں بناکر دیکھیں۔ ایک نوجوان اپنے سامان پر سر رکھے سڑک کے کنارے سورہا ہے اور شاید وہ یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ کبھی وہ امریکہ کے صدر کی رہائش کی خواب گاہ میں بھی رات بسر کرے گا۔ کبھی کبھی حقیقتیں انسانوں کی سرحدوں کو بھی پھلانگ جاتی ہیں۔
بدھ کے دن میں نے جن بچوں سے بات کی وہ زیادہ امیر اور موڈرن گھرانوں کے بچے نہیں تھے۔ البتہ ایک پرائیویٹ اسکول کی فیس دینے کے قابل ہوتے ہوئے وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے انہیں خواب دیکھنے کی تلقین تو کی اور اوباما کی مثال بھی دی لیکن مجھے اس بات کا مسلسل احساس رہا کہ وہ ، ملالہ کی عمر کے لڑکے اور لڑکیاں، ایک ایسے ماحول میں چل رہے ہیں جس میں خوابوں کے سچے ہونے کے امکانات کم سے کم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں مطالعہ کا شوق بہت کم ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر کتابیں نہیں پڑھو گے تو خواب دیکھنا کیسے سیکھو گے۔ لیکن یہ نوجوان بھی تو اپنے ماحول کے اسیر ہیں ۔ اوباما ان کے لئے مثال نہیں بن سکتا کیونکہ وہ کسی اور دنیا کا باشندہ ہے۔ تو خوف اور بے یقینی کی فضا میں وہ کن خوابوں کا دامن تھا میں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں