آپ آف لائن ہیں
اتوار 8؍ذوالقعدہ1439ھ 22؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عمران کے بارے میں جتنا دیکھا اس سے بہت کم بتایا، ریحام خان

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے کہا ہے کہ آپ کو جیسے نظر آتا ہے یا کسی اور کو جیسے نظر آتا ہے مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، میں نے کتاب لکھی ہے جس نیت سے لکھی ہے مجھے پتا ہے، میں نے جس intention سے بھی لکھی ہے اور جو motivation بھی رہی ہے وہ اصلاح ہے اور میں بار بار یہ بات کرتی رہی ہوں۔ ریحام خان نے کہاکہ وہ مکمل طور اپنی کتاب میں لکھے گئے واقعات کی سچائی کے متعلق مطمئن ہیں اور اللہ کو جواب دہ ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ انہوں نے وہی باتیں کتاب میں لکھی ہیں جن کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں عدالت میں جاکر کہہ سکتی ہوں کہ سچ لکھا ہے اور میں یہ بات ذمہ داری سے کہہ رہی ہوں۔ریحام خان نے کہا کہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں ان کی پارٹی کے لوگ اور جو ٹی وی میں بیٹھ کر باتیں کررہے ہیں جانتے ہیں کہ یہ باتیں درست ہیں۔ منیب فاروق کے سوال کہ آپ نے تو یہ بھی لکھ دیا کہ عمران خان کوکین نہیں بلکہ شاید probably

ہیروئن اور پتا نہیں کیا کیا؟اس سوال کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ جتنا دیکھا ہے اس سے بہت کم بتایا ہے، بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو دہرائی نہیں جاسکتیں۔ دوسری جانب ریحام خان کی کتاب پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کتاب میں جو بھی لکھا گیا وہ جھوٹ ،لغو اور بے بنیاد ہے۔واضح رہے کہ ریحام خان کی کتاب منظر عام پر آگئی ہے۔ریحام خان نے کہا کہ میں نے یہ کتاب اس لئے لکھی کیونکہ میں بہت سی باتیں زندگی کے بار ے میں اور لوگوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہوئے بھی نہیں جانتی تھی، I felt کہ I was ignorant حالانکہ اچھے اسکولوں میں پڑھے ہیں، فیملی ایجوکیٹڈ ہے، جرنلسٹ رہی ہوں، اٹھنا بیٹھنا ، کرنٹ افیئرز کے بار ے میں بات کرنا، پولیٹیکل فیملی سے تعلق لیکن پھر بھی سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان۔ اور مجھے لگا کہ میری طرح بہت سے لوگ ہوں گے جن کیلئے یہ eye opener ہوگا جو انگلینڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے بھی ، کیونکہ جب ہم زندگی کے فیصلے کرتے ہیں یا ووٹ ڈالتے ہیں ہم میرا خیال ہے بہت کج فہمی اور کم سمجھی کا شکار ہیں، میں نے آپ کو بتایا ہے کہ لوگ مجھے for examlpe فیملی میں بہت intelligent سمجھتے تھے اب اتنا نہیں سمجھتے۔ آپ نے تو کتاب پڑھی ہوئی ہے، بار بار میں نے یہ بات کہی ہے اس وقت جب میری طلاق ہوئی اس وقت تک بھی اسٹوری چونکہ آپ نے پڑھی ہوئی ہے مجھے لکھ لینی چاہئے تھی، اس وقت میں نے اس لئے نہیں لکھی کہ میں بھی بہت سے لوگوں کی طرح جو جانتے بھی ہیں اپنی جاب بچانے کے لئے، نوکری بچانے کے لئے، بچے میرے چھوٹے تھے، میں بتانا ہی نہیں چاہتی تھی کہ میں کہاں رہتی ہوں، میں اتنی empowered بھی نہیں تھی اور میں نے اس بارے میں نہیں سوچا کہ میری کہانی کو سن کر یا میری کہانی سے سیکھ کر کسی ینگ لڑکی کی مدد ہوسکتی ہے، وہ اپنے فیصلے بہتر کرسکتی ہے، میں نے اس وقت خودغرضی یا بزدلی کہہ لیں آہستہ آہستہ انسان کی ہمت بندھتی ہے، and I do regretted کہ مجھے شاید اس وقت بھی لکھنی چاہئے تھی۔ ایک سوال کہ یہ بات آپ تسلیم کریں گی کہ عمران خان سے شادی کے بعد اور ان سے طلاق کے بعد آپ کا پروفائل بہت بڑھ گیا ہے؟ ریحام خان نے کہا کہ یقیناً پروفائل بڑھ گیا ہے، ظاہر ہے ایک بڑا پلیٹ فارم ملا ہے، I have been married to celebrity, Pakistanʼs only celebrity ظاہر ہے، اب وہ پلیٹ فارم، میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے as an anchor as well عمران سے شادی سے پہلے بھی جب یہاں پر بھی تھی، مجھے جو بھی کوئی پلیٹ فارم ملا ہے میں نے اس کو استعمال کیا ہے، جو مجھے لگا ہے کہ کسی کی اس میں betterment ہوسکتی ہے۔ ریحام خان نے کہا کہ کیونکہ شادی کے، طلاق کے فوراً بعد میں نے لکھا ہے اس کے بارے میں کہ میرے لئے اپنے کو معاف کرنا کتنا مشکل کام تھا کہ how could you do this Reham اور میں نے آپ کو بتایا ہے کہ کیونکہ میری فیملی ، جس قسم کی میری والدہ ہیں، جس قسم کی میری والدہ تھیں اور جس قسم کی میری پرورش ہوئی وہاں غلطی کرنے کی گنجائش نہیں تھی اور پھر آپ اتنی بڑی غلطی کرتی ہیں تو آپ کیلئے اپنے کو معاف کرنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ عمران کے ساتھ شادی کو میں ایک حادثہ ہی کہوں گی، because it wasnʼt the pleasent experience جو طلاق ہوئی، جو کچھ میں نے سیکھا، I wish it had not happen to me لیکن یہ ہمارے تک نہیں ہے جس نے تقدیر لکھی ہے، اللہ کی اس میں حکمت ہے، میں نے بار بار اس کتاب میں بھی لکھا ہے کہ شروع میں کہ آپ اپنے کو بہت ہوشیار سمجھتے ہیں اور پروفیشنلی میں کوئی مس ججمنٹ نہیں کرتی and I think کہ الحمداللہ I have a good professional life تو میں نے کیسے اتنی بڑی غلطی کی لیکن وہ ٹائم میں نے اپنے کو معاف کیا اور یہ بہت ضروری ہے as a human bieng کہ جو میرے بہن بھائی سن بھی رہے ہیں کہ اپنے کو معاف کرنا سیکھنا چاہئے، اوروں کو بھی معاف کرنا سیکھنا چاہئے، میرے دل میں کوئی انتقامی کارروائی یا hatterred کسی کی طرف نہیں ہے، نہ پہلے شوہر کی طرف ہے نہ عمران کی طرف ہے ، نہ اور لوگ جو اس میں ملوث تھے۔ایک سوال کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ میرا جواب یہ ہے کہ No, thatʼs not the reason لیکن you are free کہ آپ میرے بارے میں کوئی رائے بنائیں، کتاب پڑھ کرا ٓپ بہت سی opinion جیسے آپ نے کہا کہ آپ کی judgement ہے this is perfectly fine and I have repeatedly said that کہ یہ میرا expose ہے rather than the man the married itʼs and expose about myself۔ ریحام خان نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے شاید اس نیت سے نہیں کی، میں تو سوچ ہی نہیں سکتی تھی کہ کبھی بھی جدا ہوں گے۔ میں آپ کوبتارہی ہوں اور میں نے اسی لئے کتاب میں بھی بتایا ہے کہ بہت سی باتیں تو انہوں نے خود confess پہلے کیں اور کہا اور پھر یہ بھی کہا، دیکھیں آج مثال کے طور پر اگر کوئی آکر مجھے یہ کہتا ہے کہ پہلے یہ میری لائف اسٹائل تھا لیکن آج میں نے اسلام قبول کرلیا ہے تو I will probably believe that person میرا جس قسم کا bringing رہا ہے والدین کے گھر میں بھی اور اس کے بعد بہت کم عمر میں شادی ہوگئی پھر میں ہاؤس وائف رہی، میرا actually اتنا experience نہیں ہے کہ اگر کوئی چکنی چپڑی باتیں کرے تو میں، he is very good and you canʼt blame me for falling for somebodies, not even charm but of the fact کہ بھئی I need your help ۔ ریحام خان نے کہا کہ جب میں ان سے یہ کہتی ہوں کہ یہ جو آپ کرنے جارہے ہیں، یہ ویسے ریکارڈ پر ہے کہ پانچ مئی کو میں نے جیو کے خلاف جو انہوں نے اسٹانس لیا تھا میں واحد اینکر تھی میں نے بتایا اس شو میں کہ یہ غلط کہہ رہے ہیں، عمران صاحب غلط کہہ رہے ہیں، جیو نے پہلے نواز شریف کی تقریر نہیں چلائی بلکہ ایک اور چینل نے چلائی تھی سات منٹ پہلے، یہ میں آن ریکارڈ کہتی ، پھر میں ان کا وائٹ پیپر ڈسکس کرتی ہوں، میں پھر دھرنے کی بھی مخالفت کرتی ہوں جو گیارہ مئی کے جلسوں، اور وہ پھر جب مجھے انٹرویو بار بار کینسل کررہے وہ اسی وجہ سے کیونکہ میری حرکتیں، پھر وہ مجھے انٹرویومیں کہتے بھی ہیں کہ آپ نہ بنیں، آپ ہی کے ایک چینل اینکر کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ان کی روش پر مت چلیں آپ پارٹی کیوں نہیں جوائن کرلیتیں، یہ میں نے ساری آپ کو بتائیں لیکن دھرنے کے دوران جب دھرنا شروع ہوا تو ہماری بالکل بات چیت ختم ہوچکی تھی ، میں نے جو آپ کو بتایا کہ ایک وجہ بنی تھی، لیکن میں نے بطور صحافی ان کو ٹیکسٹ کیا تھا ، مجھے تو نہیں پتا تھا کہ آگے رشتہ ڈال دیں گے لیکن جب میں نے شادی کی۔ ریحام خان نے کہا کہ میں آپ کوبتاتی ہوں اندرگھر کے دھرنے کے دوران کیا ہورہا تھا۔ میں آپ کو بتاتی ہوں کہ جب میں نے شادی کی تو دھرنا فیل ہوچکا تھا، اکتیس اکتوبر کو نواز شریف استعفیٰ نہیں دے رہے تھے، رات کو دو سو لوگ بھی نہیں ہوتے تھے، ایک نہج تک آپ پہنچ جاتے ہیں پھر وہاں سے واپس کیسے آتے ہیں یہ بہت مشکل ہوتا ہے، he was, he didnʼt see a way out میں نے جب ان سے شادی کی اور ، دیکھیں جب کوئی انسان کسی کے ساتھ جذباتی طور پر اٹیچ ہوتا ہے، جب کوئی پروپوزل ہوتا ہے ، آپ intimate situation میں ہوتے ہیں تو آپ مدد ہی کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں، ہم آپ کو بتارہے ہیں کہ میں نے ایک ایسے مرد سے شادی کی جو کہ doesnʼt fit my criteria of man کہ جب ان کی پہلی شادی تھی تو میں کوئی خاص impressed نہیں تھی and he gave me the impression کہ وہ بدلنا چاہتے ہیں، بدلنا بھی چاہتے ہیں پھر بار بار وہ کہیں کہ تمہاری جو سیاسی acumen ہے وہ تو آن ریکارڈ بھی کہتے رہے ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ میں نے یہ کتاب لکھی اس لئے ہے کہ آپ یہ جو سوالات مجھ سے پوچھ رہے ہیں اس میں explained ہے کہ political ambition اول تو political ambition کا ہونا کوئی غلط بات نہیں، میری political ambition اگر ہوتی تو میں تو چاہتی تھی کہ جو کچھ بھی پالیٹکس کے ذریعہ achieve ہو وہ میرے شوہر کے ذریعہ achieve ہو۔ایک سوال کہ آپ بہت کچھ کرنا چاہتی تھیں جب نہیں کرنے دیا گیا تو پھر معاملات کافی خراب ہوگئے۔ ریحام خان نے کہا کہ یہ perception build کی گئی ، میں کتاب بتاتی ہوں کس نے build کی، کس لابی نے build کی، کس کس طرح سے اور میں ایک ایک انٹرویو کی مثال دیتی ہوں کیونکہ مجھے دوبارہ بیٹھ کر دیکھنا پڑا یہ سب کچھ کیونکہ مجھے یاد آیا کہ یہ تو سات اگست کی بات ہے، یہ لوگ چودہ اپریل کو یہ بات کررہے ہیں، یہ بندہ دسمبر میں یہ بات کررہا ہے، یہ کیا ہورہا ہے کیونکہ ابھی شادی اناؤنس نہیں ہوئی، شادی اناؤنس ہوئی آٹھ جنوری کو، وہ بھی میرے علم میں نہیں تھا کہ فوراً شادی اناؤنس ہوجائے گی، آپ دیکھیں کہ کس طرح سے مطلب ایک ایک چیز کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ ایک سوال کہ آپ نے یہ بھی لکھا کہ آپ کو پتا بھی نہیں تھا اور عمران خان نے وہ ٹوئٹ کردی کہ ان کی شادی کی خبربریکنگ نیوز بن گئی۔ ریحام خان نے کہا کہ مجھے پتا تھا، ہم ان کو منع کررہے تھے، میں اور میری بیٹی روک رہے تھے کہ آپ نہ کریں کیونکہ بچے تو واپس آگئے تھے انہیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ آٹھ جنوری تک معاملہ چلا جائے گا، وہ تو آکر چلے گئے، انہوں نے کہا کہ بھئی تم لوگ اناؤنس ہی نہیں کررہے ہماری یونیورسٹی اور اسکول کا حرج ہورہا ہے، وہ چلے گئے، because nothing was happening ہمارے گھر میں ایک مذاق بن گیا تھا کہ ہر saturday کو عمران جو بھی coming saturday ہو کہ اس saturday کو اناؤنس ہورہا ہے، became a running joke کہ اچھا، عمران بس کرو اچھا، یہ saturday بھی آپ کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ ہوتے ہوتے دو مہینے تک بات آگے چلی گئی۔ایک بات کا جواب دینا رہ گیا، میری اس ناچیز کی اتنی کوئی اہمیت نہیں ہے، یہ تو کتاب ہے کتاب کتنے پاکستانی لوگ پڑھتے ہیں اور جس طریقے سے ہمارے پاکستانی ٹیلی ویژن اینکرز معذرت کیساتھ جو کتاب کو ، میں لکھوں گی چنا تو وہ بولیں گے ”جَو“ میں نے لکھی ہے کیونکہ میں نے ہر چیز document کی ہے، آپ نہ مانیں میری بات، آپ پانچ سال تک نہ مانیں بیس سال بعد مانیں گے، ایک دن مانیں گے، ایک دن وہ دن آتا ہے جب سندھ ہائیکورٹ معذرت خواہانہ رویہ بلکہ معذرت آفر کرتی ہے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی، as an Journalist as an author آپ یہی کرسکتے ہیں، رہی بات عمران خان کی پالیٹکس کو نقصان پہنچانے کے لئے میرے خیال میں جنہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کس کو وزیراعظم بنانا ہے آپ پچپن منٹ کی ویڈیو چلادیں جنہوں نے فیصلہ کرلیا ہے، عمران خان کو بنانے کا فیصلہ کیا ہے یا منیب کو بنانے کا ہے تو وہ اس بیچاری کتاب کا اتنا اثر نہیں ہوگا، کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ریحام خان نے کہا کہ میں تو جج نہیں ہوں، میں نے آپ کو وہ بتایا جو میں نے دیکھا ہے، اگر کسی نے میرے اوپر ہاتھ اٹھایا تو میں نے آپ کو بتایا ہاتھ اٹھایا ہے، اب یقیناً جج کرنے والا اوپر بیٹھا ہے اللہ کی ذات ہے، I canʼt ہوسکتا ہے جھوٹ ہو، اس کے بعد میں نے بہت سی چیزوں کو چیک بھی کیا ہے لیکن میں آپ کو وہ بتارہی ہوں، مثال کے طور پر اگر آج منیب مجھے بتاتے ہیں کہ اس ہوٹل کا یہ نام ہے اور مجھے نہیں پتا کہ ہوٹل کا کیا نام ہے تو میں یہی لکھوں گی کہ منیب نے مجھے بتایا کہ ہم اس ہوٹل میں بیٹھے ہوئے ہیں اور میں نے آپ کو یہی بتایا ہے، اگر اسٹوری نہیں سچی تو میں آپ کو صرف یہ بتارہی ہوں کہ عمران نے مجھے یہ بتایا اور عمرچیمہ نے بھی یہ لکھا، منیب نے بھی یہ بات کہی، تو میں نے آپ کو یہ ساری باتیں بتائی ہیں، کہانی سچی ہے کہ نہیں سچی ایک علیحدہ بحث ہے لیکن میں آپ کو بتارہی ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ بات کہی کہ یہ ایسے ہوا اور خود مجھے بتائی اور میں کتاب میں بھی لکھتی ہوں میں نے یقین نہیں کیا کہ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا، کچھ باتیں ایسی ہیں جو بعد میں اتفاقاً مجھے پتا چلیں کہ اچھا actually اسٹوری سچ بھی ہے اور اس سے زیادہ بھی سچ ہے جتنی مجھے بتائی گئی اور کچھ اسٹوریز ایسی بھی ہیں جو عمران کا version ہے، مثال کے طور پر ایک خاتون کے بارے میں انہوں نے مجھے ایک ورژن دیا ہے اور وہ خاتون کوئی اور ورژن دے رہی ہیں which is also true تو کبھی ایسا ہوا ہے کہ اوروں نے آکر مجھے وہی اسٹوری سنائی ہے اور عمران کا ورژن یہ ہے اور دوسرا ورژن وہ ہے، میں نے جہاں جہاں ہوسکا ہے دونوں verions لکھے ہیں۔ ریحام خان نے کہا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میں نے اپنے بچوں کی جس طرح تربیت کی ہے ، میرا بیٹا اکتوبر میں پچیس سال کا ہوجائے گا تو he is not under age by any standards دوسری بات یہ کہ میں نے اپنے بچوں کو یہ سکھایا ہے کہ کیا غلط ہے او ر کیا صحیح ہے، میں اس پر یقین نہیں کرتی کہ آپ دروازہ بند کر کے غلط کام کریں، پورے معاشرے کیلئے بھی میں یہ چاہتی ہوں کہ یہ نہ آپ سمجھیں کہ آپ یہ کہیں کہ عورت نے یہ بات کی ہے itʼs not graceful for a lady to say that نہیں، غلط کام کرنا غلط بات ہے، غلط کام کی نشاندہی کرنا، گناہ کے بارے میں بتانا اور کہنا کہ یہ گناہ ہے غلط نہیں ہے، پاکستان میں بہت سی ایسی باتیں ہورہی ہیں جو گناہ ہیں اور ہم اس کے بار ے میں بات نہیں کرتے، بات کرنا گناہ نہیں ہے گناہ کرنا گناہ ہے، فواد چوہدری جو بات کررہے ہیں I donʼt buy that اگر آپ کو لگتا ہے کہ حساس نوعیت کی باتیں ہیں، حساس نوعیت کی باتیں نہیں ہیں، let me go step further بہت immoral باتیں ہیں، بہت غلط باتیں ہیں اور میں کبھی نہیں چاہوں گی and very proud on my children کہ الحمداللہ یہاں ان کی پرورش ہوئی ہے لوگ سمجھتے نہیں ہیں لیکن مغرب میں میرے علاوہ بہت سے لوگ ہیں، ہمارے کیمرہ مین صاحب ہیں ان کے بچے یہاں پر پرورش ہورہی ہے، ہم نے اپنے بچوں کو بہت اچھے طریقے سے پالا ہے اور ہم یہ بڑے فخر سے بات کرسکتے ہیں کہ مغربی influences بھی ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شراب کو ہاتھ لگائیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بدکاری کریں، آپ اپنے بچوں کوا چھے اعمال اور اچھے کام کرنے کارجحان یا ان کو اس طرف ترغیب دے سکتے ہیں، میں یہ چاہتی ہوں کہ یہ دیں and I am sorry لیکن اگر آپ کو برا لگتا ہے کہ میں نے کوئی بری بات کی ہے تو میں نے بری بات کی نشاندہی کی ہے اور اس کی اجازت ہے، اس کی اجازت شریعہ میں بھی ہے قانون میں بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کہنا، اس دن بھی کوئی اینکر مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ آپ نے کسی ماں، بہن، بیٹی کا نام لیا، I am very clear about it میں بالکل صاف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں یہ ہمت رکھتی ہوں اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ اور لوگوں کوبھی پاکستان میں یہ ہمت ہونی چاہئے، صرف یہ وجہ کہ کوئی ایک عورت ہے اور آپ اس کی، اگر وہ کوئی غلط کام کررہی ہے اس کی نشاندہی نہ کریں یہ کہاں کا انصاف ہے، بہت سی ہماری ماں، بہنیں، بیٹیاں ایسی ہیں جو وہ غلط کام نہیں کرسکتیں اورا گر کوئی عورت ان کا حق مارتی ہے غلط کام کر کے تو میں تو بولوں گی اور لوگوں کو بولناچاہئے کیونکہ کام کا ایک صحیح طریقہ ہے اور ایک غلط طریقہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ یہ facts based بات ہے اور کافی باتیں تو میں نے جو مجھے پتا ہیں وہ لکھی بھی نہیں ہیں، کافی باتیں جو مجھے پتا ہیں میں نے وہ لکھی بھی نہیں ہیں، میں نے چیدہ چیدہ باتیں لکھی ہیں جن کا ریکارڈ ہے، مثال کے طور پر پیڈو کو mention کیا ہے اس کا ریکارڈ ہے، جو صاحب ہیں جو استعفیٰ دے کر گئے ہیں میں جانتی ہوں وہ بھی اگران کا، ظاہر ہے ضمیر ہوگا تب ہی استعفیٰ دے کر گئے ہیں، جو وہاں پر misappropriation کی بات ہورہی ہے وہ آن ریکارڈ بھی ہے، اس کے علاوہ جنرل حامد کی میں نے آپ سے بات شیئر کی ہے جو پہلے کبھی ہم نے نہیں بتائیں۔ ریحام خان نے کہا کہ جو باتیں میں نے ، مثال کے طور پر جنرل حامد کا جو میں نے آپ کو بتایا ہے، میں نے آپ کو بڑی تفصیل سے بتایا ہے کہ کس طریقے سے انہوں نے کوشش کی، کس طریقے سے انہوں نے رابطے کرنے کی کوشش کی، کتنے وہ demoralize ہوئے، اگر کل کو جنرل حامد صاحب اس بات سے مکرجائیں تو میں اس کی کوئی بات نہیں کرسکتی، لیکن اللہ کو حاضر ناظر جان کریہ کہہ سکتی ہوں کہ یہ ہوا ہے، بڑے لوگوں کے سامنے ہوا ہے، ان بچوں کے سامنے ہوا ہے کہ وہ آئے ہیں اس طریقے سے، اس طریقے سے انہوں نے کہا ہے، انہوں نے عمران کے سامنے یہ مدعا بار بار کہا، میرے سامنے منتیں کیں کہ پلیز سمجھائیں اپنے شوہرکو اور میں نے سمجھانے کی حتی الامکان کوشش کی۔ میں نے آپ کو بتایا کہ میں واپس جاب پر کیوں گئیں جس پر اعتراض ہوا، دیکھئے میں نے اپنے بچوں کو بڑی محنت سے پرورش کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں