آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی وزیر خارجہ کے شمالی کوریا پر پابندیوں میں نرمی سے انکار نے سفارتکاری میں رکاوٹ پیدا کردی

امریکی وزیر خارجہ کے شمالی کوریا پر پابندیوں میں نرمی سے انکار نے سفارتکاری میں رکاوٹ پیدا کردی

سیؤل : برائن ہیرس، سونگ جنگ اے

ٹوکیو: کانا اناگاکی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے زور دیا ہے کہ شمالی کوریا پر پابندیاں برقرار رکھی جائیں جب تکہ تنہا ملک ا پنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہ ہوجائے جس سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتکاری میں تعطل آگیاہے۔

اتوار کو امریکا کے اعلیٰ سطح کے سفارتکار کی رائے شمالی کوریا کے واشنگٹن کو سعزنش کے بعد سامنے آئی ہے،شمالی کوریا نے پیانگ یانگ میں مائیک پومیو کے ساتھ اعلیٰ سطح کی سربراہی ملاقات کے بعد لٹیروں اور گینگسٹر جیسے مطالبات کا الزام لگایا ہے۔

یہ دعویٰ ایک ماہ میں دونوں فریقین کے درمیان اختلاف کی پہلی علامت ہے اور بہت سے تجزیہ کار نے اسے ایک اشارہ ]ر پہنچ گئے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عہد کے بارے میں مخلص نہیں تھا اور امریکا کو مذاکرات کے دھوکے میں الجھانے کی امید کررہا تھا،

سیؤل میں آسان انسٹیٹیوٹ برائے پالیسی اسٹڈیز میں شمالی کوریا کے ماہر شن بیوم چل نے کہا کہ شمالی کوریا کی عام شاطرانہ چال ہے کہ تخفیف جوہری اسلحہ پر اپنے پاؤں پھیلائے۔

تاہم شن بیوم چل اور دیگر تجزیہ کار وں کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ سفارتکاری سے نہیں ہٹے گا اور کہ کم جونگ ان کی حکومت امریکا کے ساتھ امن معاہدہ جیسے ٹھوس رعایت کے ساتھ مذاکرات کے مزید پیچیدہ ہونے کے امکانات ہیں۔

شین بیوم چل نے کہا کہ شمالی کوریا کے حالیہ بیان سے تخفیف جوہری اسلحہ پر اس کا اصل ارادہ ظاہر ہوا، پیانگ یانگ واشنگٹن سے ہر اہم مرحلے پر ترغیب چاہتا ہے، یہ مذاکرات ہوسکتا ہے طویل وقت لیں گے۔

سنگاپور میں امریکی صدر کے ساتھ ایک لینڈ مارک سربراہی ملاقات کے دوران گزتہ ماہ کم جونگ ان کے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لئے کام کرنے کے عہد کے بعد سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان پہلے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد مائیک پومیو ہفتہ کے روز پیانگ یانگ سے چلے گئے۔

لیکن سی آئی اے کے سابق چیف تھوڑی دیر پہلے ہی ملک سے باہر گئے تھے، قبل ایں پیانگ یانگ نے یک طرفہ مطالبات کیلئےامریکا پرسرکاری ذرائع ابلاغ سے حملہ کیا کہ یہ سنگاپور کے سربراہی اجلاس کی روح کی خلاف ورزی ہیں۔

اتوار کو مائیک پومیو شمالی کوریا کی تنقید کو کم کرتے نظر آئے اور کہا کہ مذاکرات اچھے ارادے سے منعقد کئے گئے تھے۔

تاہم انہوں نے زمید کہا کہ پابندیاں برقرار ہیں اور ہم زبردست طاقت کے ساتھ ان کا نفاذ جاری رکھیں گے۔ آگے کا راستہ مشکلات اور چیلنجز سے بھرپور ہوگا۔

یہ جذبات متعدد تجزیہ کاروں کے تجزیوں کی گونج ہیں،جنہیں خوف تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے صبر آزما سفارتکاری کے سائیکل میں پھنس گئی ہے، ایک بار اس نے بچنے کی کوشش کی تھی جب سنگاپور میں سربراہی اجلاس کیلئے اس نے انتخاب کیا۔

آسان انسٹیٹیوٹ میں ریسرچ ایسوسی ایٹ بین فورنے نے کہا کہ اس سال کے آغاز میں جب انہوں نے ناپسندیدہ توجہ حاصل کرنا شروع کی تو شمالی کوریا کا جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور اس کے شاہد کی طویل فہرست میں مائیک پومیو کے دورہ پر ان کا ردعمل شاید پہلا ہو۔

چین سے پابندیاں نافذ کرنے اور جنوبی کوریا کے عوام اور مون جے ان کی انتظامیہ سے مضبوط حمایت سے مظمئن ہونے کی بجائے وہ کیا چاہتے تھے اور حاصل کیا۔

شمالی کوریا کے ساتھ نمٹنے میں جھگڑے نے مشکلات کو نمایاں کیا۔لیکن اس نے پیانگ یانگ کی اس کے مخالفین کی ممکنہ دراڑوں کا استحصال کرنے اور نشاندہی کرنے کی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

جبکہ ریاستی میڈیا نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا، اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں مثبت بات کی اور کہا کہ ان پر اعتماد برقرار ہے۔

سیجونگ انسٹیٹیوٹ میں محقق لی سیجونگ ہائن نے کہا کہ یہ شمالی کوریا کے مفاد میں نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ شرمندگی محسوس کریں کیونکہ امریکا کے روایتی صدور جنہوں نے شمالی کوریا کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہیں کیا،کے مقابلے میں ان کے ساتھ ڈیل کرنا آسان ہے۔

اتار چڑھاؤ کے باوجود مذاکرات کم از کم نومبر میں ہونے والے امریکا کے وسطی مدتی انتخابات تک مذاکرات جاری رہیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی سنجیدہ معاہدے کیلئے ابھی بھی ہمارے پاس چار ماہ ہیں۔

بہت سے لوگوں کے لئے وسط مدتی انتخاب جیتنے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے پیانگ یانگ کے ساتھ تعلقات پر مثبت برقرار رکھنے کا امکان ہے۔تہام خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کم جونگ ان رعایت نہیں کرتے پھر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا پر فوجی آپشن پر غور کرنے پر واپس آسکتے ہیں۔

شمالی کوریا کے لئے جنگ کے امکانات تشویش ظاہر کرتے ہیں، جس نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ مذاکرات میں امریکی پارٹی نے جزیرے میں امن کے قیام کے مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔

ڈونگ کک یونیورسٹی میں پروفیسر کوہ یو ہون نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے کیا پہلے آنا چاہئے۔ شمالی کوریا جارحیت کے خاتمے کیلئے امریکا سے سیاسی اعلان سننا چاہتا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ مشترکہ فوجی مشقیں معطل کرنے کے ساتھ وہ پہلے ہی ایسا کرچکے ہیں۔

شمالی کوریا کے حالیہ تبصرہ کا مقصد جوہری اسلحہ کے خاتمے کے مذاکرات کے نتیجے میں بالا دستی رکھنا ہے۔یہ اس راستے پر سفر کرنے کرنےمیں مشکل عمل ہونے والا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں