آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے قومی انتخابات میں عمران خان کامیاب

نئی دہلی : کیرن اسٹیسی

اسلام آباد: فرحان بخاری

ووٹوں کی دھاندلی کے الزامات کے اندیشوں سے بھرپورجمعرات کو ہونے والے انتخابات میں عمران خان پاکستان کے نئے وزیراعظم بننے جارہے ہیں۔

16 گھنٹے کے ووٹ گننے کے عمل کے بعد عمران خان، جو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 1996 میں سیاست میں داخل ہوئے تھے،کی پارٹی 272 نشستوں میں سے 113 سے زائد سے آگے تھی، وہ غیر متوقع اکثریت حاصل کرنے کے نزدیک تھے۔

تاہم ان کے متعدد مخالفین کی جانب سے نتائج کو متنازع بنایا جارہا ہے،جنہوں نے انتخابات کے دن اور اس سے قبل انتخابی بددیانتی کا الزام لگایا ہے۔ موجودہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر دو چھوٹی پارٹیوں نے کہا ہے کہ ان کے الیکشنز ایجنٹس کو ووٹوں کی گنتی کے دوران چند پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

دیگر پارٹیوں کے امیداروں کی جانب سے مہم کی پیروی کرتی ہیں کہ عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کیلئے دست برداری کے لئے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہراساں کیا جارہا تھا۔

جمعرات کی صبح مسلم لیگ ن کے سربراہ اور قید سابق وزیراعظم نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے نتائج کو مسترد کردیا،انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کے حق میں بہت بڑے پیمانے پر ووٹوں میں دھاندلی کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس طرح نہیں رہ سکتے،میں ان نتائج کو مسترد کرتا ہوں، پاکستانی اپنے اپنے ووٹوں کا اس طرح پامال کرنے کو قبول نہیں کریں گے۔ پارٹی جمعرات کو ملاقات کرے گی یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ آیا کس طرح نتائج کو چیلنج کیا جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور شہید بے نظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پولنگ ایجنٹس کے خلاف کارروائی ناقابل معافی اور اشتعال انگیز ہے۔

پاکستان کے قومی انتخابات میں عمران خان کامیاب

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے چند مخالفین نے کہا کہ قانونی چیلنج میں ان کے کامیاب ہونے کا امکان نہیں تھا۔

پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے فنانشل تائمز کو بتایا کہ وہ جماعتیں جو پہلے سے ہی ان انتخابات میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرچکی ہیں ان کے لئے نئے انتخابات کیلئے مطالبہ کرنا مشکل ہوگا۔

اس وقت میری پارٹی سمیت جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور چند نے نتائج کو مسترد کردیا ہے۔ لیکن بالآخر، میں نہیں سمجھتا کہ ان نتائج کے کالعدم بنانے کیلئے کوئی سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔

رات کو نتائج کے آنے کی رفتار توقع سے زیادہ سست رفتاری سے آئے،الیکٹورل کمیشن نے اسے تیکنیکی خرابی کی مشکلات کی وجہ سے ہوا۔ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری بابر یعقوب نے کہا کہ مجموعی 85 ہزار نے نتائج بھیجے جن میں سے 25 ہزار موبائل فونز کی جانب سے آنے کے بعد ہی سسٹم بند ہوگیا۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے ساتھ کسی مسئلے کے ہونے کی تردید کی۔

چیف الیکشن کمیشن سردار خان نے کہا کہ انتخابی عمل پر کوئی داغ نہیں ہے۔ آپ یہ کیوں سوچ رہے ہیں کہ پانچ سیاسی جماعتوں جنہوں نے دھوکہ دہی کا الزام لگیا ہے،سچ بول رہی ہیں اور انتخابی کمیشن نہیں؟نتائج کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔ نتائج کے لئے انتظار کریں۔

بدھ کی رات کو نتائج آنے کے دوران عمران خان کے حامی جشن منارہے تھے،رقص، پارٹی کے جھنڈے اور یہاں تک کہ مبینہ طور پر ہوائی فائرنگ بھی شامل تھیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے صحافیوں کو بتایا کہ آج رات نیا پاکستان ہے،عمران خان ہمارے نئے رہنما ہیں ، میں پاکستانیوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔

پاکستان کے کے ایس ای 100 انڈیکس جمعرات کو مقامی وقت ڈھائی بجے 1.1 فیصد بڑھنے کے ساتھ سرمایہ کاروں کے حوصلے بھی بحال ہوتے نظر آرہے ہیں، منگل کو 2.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

روایتی اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے 2027 ڈیڑھ ارب ڈالر کے بانڈز پر آمدنی 7.9 فیصد گرگئی تھی،جو گزشتہ سیشن بند ہونے کے 8.4 فیصد سے کم ہے ۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ مارکیٹ کے ردعمل سے پتا چلتا ہے کہ سرمایہ کاروں کو نتائج پر طویل قانونی جنگ کی توقع نہیں ہے۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین یاسین لاکھانی نے کہا کہ کئی ماہ کی غیر یقینی صورتحال کے بعد نئی حکومت واضح ہوگئی ہے جو آرام کی اعلیٰ سطح کو لایا ہے۔

طویل مدت میں، نئے وزیراعظم کو ایک ناگزیر معاشی بحران کے ساتھ نمٹنا ہوگا،اس کے ساتھ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہیں۔

13 جولائی کو آخری شائع شدہ اعداد وشمار کے مطابق ملک کے ریاستی بینک میں صرف 91 ارب ڈالر کا ذخیرہ تھا دو ماہ کی درآمدات کی مالیت کا احاطہ کرنے کیلئے ناکافی ہے۔

پاکستان کے نجی بینکوں میں سے ایک کے سربراہ نے خبردار کیا کہ سرمایہ کاروں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت جلد ہی اخراجات کم کرنے کا دور آنے والا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں