آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بائیکاٹ، بائیکاٹ

دور حاضر میں سوشل میڈیا کا استعمال ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے ، جس کی افادیت و اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ دہائی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی فراوانی نے رابطوں کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب دور دراز مقیم عزیز و اقارب کی خیریت جاننے کے لئے خط و کتابت کی ضرورت پیش آتی تھی اور مدتوں کے بعد خط کا جواب مل پاتاتھا، تب جا کرخیر خیریت ملتی تھی۔ ٹیلی فون کی ایجاد کے بعد آہستہ آہستہ معاشرے میں تبدیلی رونما ہوئی، پھر موبائل فون کی سہولت اور اب دیکھتے ہی دیکھتے انٹرنیٹ سے،سوشل میڈیا تک، آج دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا سے مراد، انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس استعمال کرتے ہوئے صارفین کے درمیان مختلف ذرائع سے رابطہ کرنا اور معاشرے تک اپنے خیالات کی ترسیل کرنا ہے۔ سوشل ویب سائٹس میں فیس بک ،ٹویٹر،واٹس اپ ،یو ٹیوب ، اسکائپ، ا نٹرنیٹ بلاگز،اور لنکڈان وغیرہ باہمی رابطوں کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اس کی پہنچ نہ صرف انتہائی وسیع اور لامحدود ہے، بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد، دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے معاشرے میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہاررائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔یعنی موجودہ دور میں جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرئع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت قائم ہونا ممکن نہیں ہے۔ 

اس کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیراب ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ابلاغ و ترسیل میں ماضی کے مقابلے میں حالیہ کچھ سالوں میں ایک بڑا انقلاب آیا ہے۔ جیسے جیسے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،اسی اعتبار سے اس کے منفی اثرات بھی ہماری زندگی پر مرتب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ سوشل میڈیا اظہار رائے، تبادلہ خیال اور اطلاعات کی آزادنہ ترسیل کا موئثر ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے، جس کے ذریعہ ہم نہ صرف انفرادی بلکہ گروہی سطح پر بھی دنیا کے ہر کونے میں رابطہ رکھنے لگے ہیں، جس کی بہترین مثالیں ہمیں عرب اسپرینگ سے می ٹو تک ملتی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں ایسے ہی چند بائیکاٹ مہم کے بارے میںجانیے کہ ،کیسے ایک قوم کسی مسئلے پر متحد ہو کر اس کے حق میں یا خلاف مہم چلاتی اور اپنی بات منواتی ہے۔

بائیکاٹ مری

اگر آپ پاکستان کی سیر و سیاحت کے دورے پر ہیں اور مری نہ جائیں ایساہو نہیں سکتا۔ مری پاکستان کا وہ خوب صورت علاقہ ہے جہاں کی سیر کیے بغیر شمالی علاقہ جات کی سیر ادھوری رہ جاتی ہے، مگر گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو تیزی سے وائرل ہوئی جس میں چند سیاحوں کو دکھایا گیا جو مری آئے ہوئے تھے، لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس وڈیو کے وائرل ہونے کے بعد دیگر سوشل میڈیا صارفین، جو اس سے قبل مری کی سیر کوگئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ، انہیں بھی کم و بیش مری میں ایسے تجربات سے گزرنا پڑا، کبھی وہاں کے دکان دار کی جانب سے ناجائز منافع خوری کا شکار ہوئے تو کبھی مقامی افراد نے خواتین کے ہمراہ آنے والے مردوں (رشتہ دار) کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں ہراساں کیا۔ چند افراد کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ اگر آپ مری جا رہے ہیں اور آپ کے ساتھ چھوٹے بچے ہیں تو ان کا خاص خیال رکھیں ،کیوں کہ مقامی افراد انہیں اغوا کر کے آپ سے بھاری تاوان وصول کرتے ہیں۔ جس کے بعد سیاحوں نے مری کو غیر محفوظ جگہ قرار دیتے ہوئے نہ جانے کا فیصلہ کیا اور بائیکاٹ ہم کا آغاز کیا۔ رواں برس اپریل میں ’’بائیکاٹ مری‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی مہم نے دیکھتے ہی دیکھتے زور پکڑ لیا جب سیاحوں کی جانب، مقامی افراد کے خلاف ریلیاں نکالی اور احتجاج کیا گیا۔ احتجاجی ریلی میں شرکاء پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، جس پر درج تھا، ’’سیاحوں کو عزت دو‘‘، ’’مری آنے والے سیاحوں پر ظلم بند کرو‘‘، ’’ہم اور ہمارے بچے مری میں محفوظ نہیں ہیں‘‘۔ جیسے جیسے احتجاجی ریلیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی گئیں، سیاحوں نے بھی بتدریج مری کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا۔ مری جہاں سیر و تفریح کی غرض سے آنے والوں کی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں رات گئے تک لگی رہتی تھیں، بائیکاٹ کے باعث یہاں کی سڑکیں سنسان ہونے لگیں۔ بائیکاٹ مہم کے دوران اکثر ٹورئسٹ گائیڈ نے سیاحوںکو مری کے بجائے آزاد کشمیر گھومنے کا مشورہ دیا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بائیکاٹ مہم کام یاب رہی اور مسلسل کاروباری نقصان کے باعث مری کے مقامی افراد نے باقاعدہ سیاحوں سے معافی مانگی اور انہیں یقین دہانی کرواتے ہوئے اپیل کی کہ، ’’آئندہ کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیں گے، پہلے کی طرح مری آئیں اور یہاں کے خوب صورت نظاروں سے لطف اندوز ہوں‘‘۔

فروٹ بائیکاٹ

گزشتہ کئی برسوں سے ماہ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں ناجائز منافع خوری کی شکایات کا شدت سے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں جب کبھی کوئی تہوار آنے والا ہوتا ہے تو تمام ضروری اشیاء بالخصوص اشیا خرد و نوش کی قیمتوں میں واضح کمی کردی جاتی ہے، تاکہ وہ تمام افراد جو عام دنوں میں ان سے مستفید نہیں ہوسکتے وہ تہوار کے موقعے پر استعفادہ کر سکیں، مگر ہمارے یہاں ماہِ رمضان کی آمد سے قبل ہر چیزکی قیمیتں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ چوں کہ اس ماہ میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال بڑھ جاتا ہے، اسی وجہ سے جو پھل عام دنوں میں ساٹھ روپے کلو ملتا ہے وہ ماہ رمضان میں 200 روپے کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ حال عام بازاروں کا نہیں بلکہ رمضان کے لیے لگائے گئے خاص بچت بازاروں کا بھی ہے۔ جس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام بازاروں میں پھلوں اور سبزیوں کی خرید و فروخت پر کس حد تک ناجائز منافع خوری ہوتی ہے، جس کے باعث ماہ مبارک میں بنیادی ضروری اشیاء غریبوں کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس ماہ میں پھلوں اور سبزیوں کی خریداری کرتے وقت محتاط رہتے اور متبادل اشیا کی تلاش کرتے ہیں۔ ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے رواں سال ماہ صیام میں فروٹ بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا گیا ،تاکہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں اور منافع خوروں کو سبق سکھایا جاسکے اورانہیں مجبور کیا جائے کہ پھل اور سبزیوں کو ان کی اصل قیمت پر ہی فروخت کیا جائے۔ اس لیے رواں برس جون میں تین روزہ ملک گیر بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا، جو واٹس ایپ کے ایک میسج سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مہنگائی سے ستائے ہوئے عوام میں آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد ملک بھر میں 2 تا 4 جون جب کہ کراچی میں (جمعہ، ہفتہ اور اتوار) کو عوام نے بائیکاٹ مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسے کامیاب بنایا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پھل اور سبزیوں کی قیمتوں میں خاطر خواہ کم ہوئی ،تاہم اصل دام پر پھر بھی فروخت نہیں کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں ناں، ’’کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے کچھ ہو‘‘ اسی پر عمل کرتے ہوئے صارفین نے یہ عزم بھی کیا کہ اگر آئندہ برس بھی ماہ صیام کے آغاز کے ساتھ قیمتیں بڑھیں تو ایک بار پھر فروٹ بائیکاٹ ہم شروع کی جائےگی۔

مری اور فروٹ بائیکاٹ مہم کے مثبت نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے عید کے قریب دودھ، ٹماٹروں اور مرغی کے گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف بھی مہم کا آغاز کیا گیا، مگر اسے وہ اہمیت نہیں مل سکی جو فروٹ بائیکاٹ کو ملی اور نہ ہی عوام نے عید کے قریب ان اشیاء کا بائیکاٹ کیا، نیز فروٹ بائیکاٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ایک اور بائیکاٹ مہم ’’کالنگ کارڈ ‘‘(calling card)کے حوالے سے بھی شروع کی ’’10 جون سے 15 جون موبائل کمپنیز کے غنڈہ ٹیکس کے خلاف بائیکاٹ کرتے ہوئےکہا گیا کہ، 5 روز غیر ضروری موبائل کالز کا بائیکاٹ کریں، صرف ایمرجنسی کی صورت میں کال کریں، کارڈ یا بیلنس نہ ڈلوائیں، کال میسج اور انٹرنیٹ پیکج نہ لیں، بیرون ملک افراد پاکستان کال نہ کریں‘‘۔ مگر اس مہم نے شروع ہونے سے قبل ہی دم توڑ دیا، تاہم چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس ٹیکس کے خلاف فیصلہ سنایا اور موبائل سیلولر کمپنیز کو حکم جاری کیا کہ سو روپے کےبیلنس پر سو روپے ہی موبائل اکاؤنٹ میں منتقل ہوں۔ اس کے علاوہ گزشتہ دنوں شہر کراچی کو 600 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی کی عدم دستیابی پر ٹینکر مافیا کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز کیا گیا کہ، جب شہر میں پانی نہیں ہے تو ان کے پاس پانی کہاں سے آرہا ہے۔ غیر قانونی ٹینکر مافیا کے خلاف جاری اس مہم میں بھی عوام نے خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔تاہم اس مسئلے نے ’’ڈیم بناؤں ملک بچاؤ‘‘ جیسی مہم تک رسائی آسان بنا دی۔ پانی کی عدم دستیابی کے مسئلے نے عوام کو مجبور کیا کہ وہ چیف جسٹس کی توجہ اس جانب بھی کروائیں، جس کے لیے سوشل میڈیا سے زیادہ مئوثر ذریعہ اور کیا ہوسکتا ہے، جہاں سے ایک عام آدمی کی آواز بھی ایوان اور حکام بالا تک پہنچ سکتی ہے اور ایسا ہی ہوا ڈیم بناؤ ملک بچاؤ مہم کی گونج عدالتوں تک سنی گئی، جیف جسٹس نے اس سنگین مسئلےپر از خود نوٹس لیتے ہوئے مہمند ڈیم اور دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے فنڈز جمع کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

بائیکاٹ سونو نگم

معارف بھارتی گلوکار سونونگم کو یقیناَ َہر کوئی جانتا ہوگا، گزشتہ دنوں وہ اس وقت خبروں کی زینت بنے جب انہیں اپنے ایک ٹوئیٹ کے باعث مداحوں کی جانب سے سخت رد عمل کا سامنا کرناپڑا۔ بعض مداحوں نے ان کی مذہبی انتہا پسندی سے دلبرداشتہ ہو کر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور ٹوئٹر پر ان کے خلاف بائیکاٹ مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ، ’’میں مسلمان نہیں ہوں پھر بھی مجھے اذان کی آواز کی وجہ سے صبح سویرے اٹھنا پڑتا ہے۔ یہ مذہبی غنڈہ گردی ہے، آخر یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہوگی۔‘‘ اگلی ٹوئیٹ میں انہوں نے لکھا کہ، ’’ابتدائے اسلام کے زمانے میں بجلی نہیں تھی تو ایڈیسن کی ایجاد کے بعد وہ یہ شور شرابا کیوں برداشت کریں، کوئی بھی مندر یا گُرد وارا، اپنے سے مختلف عقیدہ رکھنے والوں کو جگانے کےلیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں کرتا، تو پھر یہ سب کیوں؟‘‘

ان ٹویٹس کے جواب میں سونو نگم کے مداحوں نے حمایت اور مخالفت میں خوب تبصرے کیے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اذان کے بارے میں سونو نگم کی ٹویٹ پر اعتراض کرنے اور بائیکاٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کی بڑی تعداد غیر مسلموں کی تھی۔ ایک صارف نے ان کے ٹوئیٹ کے جواب میں لکھا کہ، ’’بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور انہیں دیگر مذاہب کا احترام سیکھنا چاہیے‘‘ بعض لوگوں نے انہیں، ’’کانوں میں روئی ٹھونسنے کا مشورہ بھی دیا‘‘۔ واضح رہے کہ، صرف مداحوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا نہیں کرناپڑا، بلکہ ساتھی گلوکاروں اور انڈسٹری کے بڑے بڑے نام بھی ان پر تنقید کرتے نظر آئے، بعدازاں سونونگم کو اپنے ٹوئیٹ کی وضاحت دیتے ہوئے مداحوں سے معافی مانگنی پڑی۔ جس کے بعد ان کے خلاف جاری بائیکاٹ مہم کا اختتام ہو گیا۔

  برانڈز کا بائیکاٹ

رواں برس اپریل میں مراکشی عوام متحد ہوئے تو حکومت کو بھی ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے، ہوا کچھ یوں کہ چند مشہور برانڈز جن کا تعلق مراکش سے ہے، انہوں نے ناجائز منافع خوری کرتے ہوئے ملک بھر میں اپنی مصنوعات، جن میں پینے کا پانی، دودھ، اور کھانا پکانے کا تیل شامل تھے، کی قیمتیں اس حد تک بڑھا دیں کہ عوام کی قوت خرید سے باہر ہوگئیں۔ صارفین نے اپنے حقوق کا استعمال کرتے ہوئے مشہور کمپنیوں کے خلاف بائیکاٹ مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ، اشیاء کی قیمتیں کم ہونے تک بائیکاٹ جاری رہےگا، جس کی وجہ سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اُٹھا نا پڑا، مگر حکومت کی توجہ اس جانب اس وقت مبذول ہوئی جب ایک منسٹر کی کمپنی کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا،جس کے بعد حکومت اور صنعت کاروں کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں یہ بائیکاٹ دیگر مصنوعات کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ بعدازاں حکومت نے عوام کو یہ کہہ کر بائیکاٹ ختم کروانے کی کوشش کی کہ، اس سے دنیا بھر میں ان کے ملک کا نام بدنام ہو رہا ہے اور غریب کسانوں اور ان کے اہل خانہ کو نقصان ہورہا ہے۔ تاہم مراکشی عوام قیمتوں کے کم ہونے تک بائیکاٹ مہم پر ڈٹے رہے بلآخر حکومت نے کچھ حد تک کمی کر کے بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی تو عوام نے بائیکاٹ ختم تو کر دیا مگر وہ اب بھی ان مصنوعات کو خریدنے سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں تاحال خسارے کا شکار ہیں۔

سوشل میڈیا کا بائیکاٹ

جنوبی افریقا میں ڈیٹا پیکچز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو سوشل میڈیا پر #SocialMediaBlackOut کا ہیش ٹیک وائرل ہونے لگا۔ جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے موسیقار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکن ’’Ntsiki Mazwai‘‘ نے ڈیٹا پیکچز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف گزشتہ برس 21 جون 2017ء کو بائیکاٹ مہم کا آغاز کرتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین سے اپیل کی کہ، ہر بدھ کو چوبیس گھنٹوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال نہ کریں، جس سے سیلیولر کمپنیز کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑے گا، اور ایسا ہی ہوا صرف ایک دن ڈیٹا پیکچ نہ خریدنے کی صورت میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا، تاہم ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق بائیکاٹ کے دوران کئی صارفین خود پر قابو نہ رکھتے ہوئے دن میں چند منٹوں کے لیے آن لائن آتے تھے، تمام خبریں اور اپ ڈیٹس چیک کرنے کے بعد دوبارہ بائیکاٹ مہم کا حصہ بن جاتے، جس کی وجہ سے اعلیٰ حکام کی توجہ اس جانب مبذول نہیں ہو رہی تھی، بعدازاں بائیکاٹ میں تیزی آئی اور احتجاجی ریلیوں کا بھی انعقاد کیا جانے لگا، ان کا کہنا تھا کہ، ’’ڈیٹا پیکچ اتنا ہی ضروری ہے جتنی دیگر بنیادی ضروریات۔ یہ تعلیمی سرگرمیوں میں بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس کی قیمت عام شہری کی ماہانہ تنخواہ کی مناسبت سے بہت زیادہ ہے، لہٰذا قیمتیں کم کی جائیں‘‘۔ عوام کے بڑھتے ہوئے احتجاج کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا پڑا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں