• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، جعلی اکائونٹس کیس، آئی ایس آئی،ایم آئی سمیت 7 رکنی جے آئی ٹی بنانے کی سفارش

اسلام آباد، راولپنڈی (نمائندہ جنگ، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) جعلی بینک اکائؤنٹس کیس (میگا منی لانڈرنگ کیس)کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں 7؍ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)بنانے کی سفارش کی گئی ہے جس میں ایف بی آر اوراسٹیٹ بینک کے علاوہ ایس ای سی پی اور ISI، MI کے افسران کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف آئی اے حکام نے تصدیق کی ہےکہ منی لانڈ ر نگ کی رقم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 400 کے لگ بھگ ہے جن میں سینئر بیوروکریٹس اور سابق وزراء بھی شامل ہیں۔ ایف آئی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دبئی میں اومنی گروپ کی دو کمپنیاں ہیں، دبئی کے فارن اکاونٹس لندن رقم بھیجی گی اور یہ رقم برطانیہ میں جائیداد خریدنے کیلئے استعمال ہوئی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 29مشکوک بینک اکاؤنٹس سے 35 ارب رو پے منتقل کیے گئے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نےجعلی بینک اکائؤنٹس کیس کی سماعت شروع کی تو سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل اعتزاز احسن نے التوا کی درخوا ست دائر کی جسے چیف جسٹس نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ آج کافی وکلا موجود ہیں اس لیے کیس ملتوی نہیں کرسکتے ۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ حسین لوائی جوڈ یشل ریمانڈ پر ہیں۔ آصف زرداری اورفریال تالپور کل تحقیقات میں شامل ہوئے ہیں وہ حفاظتی ضمانت پر ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کس عدالت نے دونوں کو حفاظتی ضمانت دی۔ 29 مشکوک بینک اکائو ٔنٹس سے 35 ارب روپے منتقل کئے گئے۔ عبدالغنی مجید نے جعلی بینک اکائو نٹس سے فائدہ لینے والی کمپنیوں سے تعلقات کا اعتراف کرلیا۔ ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی میں ایف بی آر اوراسٹیٹ بینک کے علاوہ ایس ای سی پی اور حساس اداروں کے افسران بھی شامل کرنے کی استدعا کردی۔ تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو تجویز کیا ہے کہ مشترکہ ٹیم میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر لیول کے افسران شامل کیے جائیں اور ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جائے،ٹیم میں ایف بی آر کے افسر بدرالدین، سیکورٹی اسٹیٹ بنک سے ماجد حسین اور نیب سے نعمان اسلم کو شامل کیا جائے۔ٹیم میں ایک آڈیٹر اور کارپوریٹ قانون دان کو شامل کیا جائے،ٹیم میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن سے ڈائریکٹر لیول کا افسر شامل کیا جائے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے مشترکہ ٹیم کو دو کروڑ روپیہ کی رقم تحقیقا ت کیلئے فراہم کرنے کی استدعا بھی کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جعلی اکائونٹس کی تحقیقات کے دوران اومنی گروپ کہ دبئی میں کرائون ٹریڈنگ کمپنی کا انکشاف ہوا ہے ہے کمپنی کا لائسنس نازلی مجید ،نورنمر مجید،اور منہال مجید کے نام ہے ۔کمپنی کے دو فارن بنک اکائونٹس کا علم عبدالغنی مجید کے دفتر سے ہوا جبکہ دبئی کے فارن اکائونٹس سے برطانیہ میں جائیداد خریدنے کیلئے رقم منتقل کی گئی تاہم ابھی یو اے ای حکومت سے کام کرائون کمپنی کے بزنس کے بارے میں تفصیلات درکارہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انور مجید، عبدالغنی مجید کو اپنے دفاع میں ثبوت پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔دونوں ملزم تین ہزار ایک سو22ملین ڈیپازٹ اور 4ہزار 14ملین کی رقم ٹرانزیکشنز بارے مطمئن نہیں کرسکے۔ رپورٹ کے مطابق کھوسکی شگرمل بدین سے اہم دستاویز حاصل کی گئی ہیں۔کھوسکی شگر مل پر رینجرز کے ساتھ مل کر چھاپہ مارا لیکن اہم ریکارڈ ایف آئی اے کے چھاپے سے پہلے جلا دیا گیا۔ جلائے گئے ریکارڈ کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں کھوسکی شگرمل سے اسلحہ اور 27 ہارڈ ڈسک بھی قبضے میں لی گئیں۔ھارڈ ڈسک فرانزک تجزے کیلئے بھیج دی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انور مجید اور محمد عارف خان کے اثاثہ جات منجمد کرنے کیلئے کارروائی ایف آئی اے ایکٹ کے تحت شروع کردی گئی ہے لیکن اومنی گروپ کے ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات بارے میں ایف بی ار کے جواب کا انتظار ہے۔دوران تفتیش عبدالغنی مجید نے صرف محمد عمیر کو پہچانا ہے کہ وہ اومنی گروپ کا ملازم ہے۔ عبدالغنی مجید نے دوسرے اکائونٹ ہولڈرز کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ یونس قدوائی کے ساتھ بزنس ریلیشن ہونے کااعتراف عبدالغنی مجید نے کیا ہے۔یونس قدوائی ربیکن بلڈرز اور ڈویلپرز کا ڈائریکٹر ہے۔ عبدالغنی مجید کے مالک ایچ ایچ ایکسچینج کمپنی حاجی ہارون سے روابط تھے،عبدالغنی مجید نے ایچ ایچ کمپنی تعلق کا اعتراف کیا ،ایچ ایچ کمپنی نے 80سے سو ملین کے غیرقانونی طریقے سے امریکن ڈالر خریدے، رپورٹ کے مطابق دوران تفتیش اومنی گروپ کی دو مزید کمپنیاں سامنے آئی ہیں، دونوں کمپنیوں کے نام عمیر ایسوسی ایٹس اور پلاٹینم ایل پی جی ہیں،ان کی تفتیش جاری ہے،نورین سلطا ن،کرن امان اور اقبال نوری نے تفتیش جوائن کی ہے۔ نورین سلطان،کرن امان،عدیل شاہ راشدی،محمد اشرف،قاسم علی،شھزاد جتوئی ضمانت قبل از گرفتاری پرہیں جعلی بنک اکائونٹس میں بصیر عبداللہ،اسلم مسعود، عار ف عدنان جاوید،عمیر،اقبال آرا ئیں، اعظم وزیر خان، نمرمجید اور مصطفی ذوالقرنین مجید بھا گے ہوئے ہیں۔ عدالت کے حکم پر انور مجید کے تین بیٹو ں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے ہیں۔سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اومنی گروپ کے سربرا ہ انور مجید اور عبدالغنی مجید کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حسین لوائی کی کیا صورتحال ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ ایف آئی اے کی حراست میں ہیں اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر رکھا گیا ہے۔

تازہ ترین