• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جے ڈی وینس مذاکرات عمل میں شرکت کیلئے ایوان صدر پہنچیں گے

اسلام آباد (محمد صالح ظافر/ خصوصی تجزیہ )امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی وساطت سے مذاکراتی عمل کا ڈول آج ہفتے کے روز ڈال دیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج علی الصبح اسلام آباد پہنچنے کے بعد سیدھے امریکی سفارت خانے جائیں گے، جہاں وہ اپنی ٹیم اور پاکستان میں موجود امریکی اہلکاروں سے مشاورت کریں گے، جس کے بعد وہ مذاکراتی عمل میں شرکت کے لئے ایوان صدر پہنچیں گے۔ امریکی نائب صدر کا نور خان ایئر بیس چکلالہ پہنچنے پر وزیراعظم شہبازشریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، امریکہ کی قائم مقام سینیٹر نیٹلی بیکر اور میزبان وزیر داخلہ محسن نقوی اور اہم وفاقی وزراء خیرمقدم کریں گے۔ امریکی نائب صدر کو اپنے ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے کی حیثیت حاصل ہوگی۔ نائب صدر وینس کے زیراستعمال اپنی اور سیکورٹی کے عملے کی خصوصی کار میں پہلے ہی اسلام آباد پہنچائی جاچکی ہیں۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا سب سے بڑا مظہر مذاکراتی عمل کا برقرار رہنا اور جنگ بندی میں توسیع ہوگا۔ آج کے مذاکرات میں فریقین ایک میز کے گرد نہیں بیٹھیں گے، قبل ازیں دونوں ممالک کے مذاکرات میں اومان کے وزیر خارجہ پیغام رسائی کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کا پہلا دور بھی پیغامات کے ذریعے مذاکرات کا ہوگا۔ پہلے دور کے مختلف مرحلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک جاری رہ سکیں گے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملوں کی شدت میں قابل حاظ کمی کردی ہے اور اس دوران لبنان نے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر کردی ہے۔ اسرائیل نے اس کے لئے امریکہ کے ایما پر پہل کی تھی۔ اسرائیل نے لبنان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ایجنڈے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی شرط رکھی ہے، جس پر بات چیت ہوگی، اس طرح توقع ہے کہ ہفتے کی صبح سے اسرائیل، لبنان پر اپنے حملے بند کردے، جس سے ایران کی مذاکراتی عمل میں شرکت کے لئے شرط تسلیم ہوجائے گی۔ ایران آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی راہ داری کے لئے کھول چکا ہے، جس سے امریکی شرط بھی پوری ہوگئی ہے جو جنگ بندی اور مذاکرات کے لئے لازمی شرط تھی۔ اس دوران ایرانی وفد کی قیادت ہفتہ کو صبح سویرے اسلام آباد پہنچے گی تو اس کا خیرمقدم قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، سینیٹ کے چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی (سابق وزیراعظم) اور نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کریں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مذاکرات کے اولین دور میں اس امر کا امکان موجود نہیں کہ دونوں متحارب ممالک کے وفود کے سربراہان کسی مشترکہ میڈیا کانفرنس سے خطاب کریں، تاہم وہ الگ الگ اپنے چیدہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطہ رکھیں گے اور مذاکراتی عمل کے بارے میں اپنے حصے کی روداد بیان رکیں گے۔

ملک بھر سے سے مزید