• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب عدالت، نواز شریف کے وکیل اور واجد ضیا میں تلخی،دونوں نے معذرت کرلی

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت منگل کو بھی جاری رہی، احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک نے عدالتی وقت ختم ہونے پرسماعت بدھ29 اگست کی صبح تک ملتوی کردی۔نواز شریف کےوکیل خواجہ حارث نے استغاثہ کے مرکزی گواہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں دئیے گئے بیان پر جرح جاری رکھی۔ دوران سماعت خواجہ حارث اور واجد ضیاء کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، تاہم دونوں نے ایک دوسرے سے معذرت کرلی۔ دوران سماعت واجد ضیاء نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مختلف حصے مختلف ممبران نے ڈرافٹ کئے، قطری شہزادے کو خط بھیجنے سے پہلے حسین کا بیان قلمبند ہوچکا تھا، ایک موقع پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء بار بار بیان بدل رہے ہیں انہیں کہیں ایک ہی بار سوچ کرجواب دیں۔دوران سماعت فاضل جج نے مرکزی گواہ کو ہدایت کی کہ سوال آنے سے پہلے نہ بولیں۔ خواجہ حارث کے سوال کے جواب میں واجد ضیاء نے بتایا کہ قطری شہزادہ حمد بن جاسم کو بھیجے گئے خط میں ان کا بیان قلمبند کرنے سے متعلق لکھا تھا یہ بات بھی درست ہے کہ بیان قلمبند کرنے کے لئے حمد بن جاسم سے پہلے پوچھا گیا تھا۔ گواہ نے اعتراف کیا کہ حمد بن جاسم کو یہ خط بھیجنے سے پہلے حسین نواز کا بیان قلمبند ہوچکا تھا۔ گواہ نے اعتراف کیا کہ یہ بات درست ہے کہ حسین نواز کی جے آئی ٹی آفس سے تصویر لیک اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ حسین نواز کی شکایت پر انہوں نے بحیثیت جے آئی ٹی سربراہ الگ سے تحقیقات کا حکم جاری کیا تحقیقات کے دوران تصویر لیک کرنے والے شخص کا پتہ لگا لیا گیا۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو تحقیقاتی رپورٹ اٹارنی جنرل آفس میں جمع کروانے کا حکم دیا ۔ جے آئی ٹی کوتصویر پبلک کرنے والے کا نام ظاہر کرنے کا اختیار نہ تھا۔ وکیل صفائی کے اس سوال کہ سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ تصویر لیک کرنے والے کا نام صرف اٹارنی جنرل کو بتاتا ہے جس پر گواہ نے جواب دیا کہ یہ اٹارنی جنرل کا استحقاق ہے کہ و ہ اس کا نام بتائیں یا نہیں۔ سپریم کورٹ کا کوئی ایسا تحریری حکم نامہ موجود نہیں جس میں تصویر لیک کرنے کےذمہ دار شخص کانام بتانے سے روکا گیا ہو۔ خواجہ حارث کے سوال کے جواب میں واجد ضیاء نے بتایا کہ حمد بن جاسم کو خط میں تصدیق اور انوسٹی گیشن میں فرق کی وضاحت نہیں کی گئی ۔ جے آئی ٹی نے صرف قطری کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا جس میں یہ بات شامل نہ تھی،اس موقع پر واجد ضیاءنے معذر ت کرتے ہوئے کہاکہ آئی ایم سوری، ریکارڈ دیکھ کر معلوم ہوا کہ ایسی بات ہوئی تھی جس کے جواب میں خواجہ حارث نے کہا کہ میرا اگلا سوال آیا تو آپ مان گئے۔

تازہ ترین