اسلام آباد (جنگ نیوز؍اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 100 روزہ پلان پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر، فاٹا انضمام کے عمل کو مزید تیز کرنے، سول سروسز اور وزارتوں میں اصلاحات، وراثت میں خواتین کا حصہ یقینی بنانے کیلئے دیوانی قوانین میں ترامیم، نیب قوانین کو مزید موثر بنانے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترامیم کیلئے ٹاسک فورسز کی تشکیل اور ضابطہ فوجداری قوانین میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیلئے شاہ محمود قریشی اور خسرو بختیار پر مشتمل کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ وزیراطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان ہر 15 دن بعد ٹاسک فورسز کے امور کا جائزہ لیا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے نیب کے قوانین کو مزید موثر بنانے کیلئے ترامیم لانے کیلئے وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم کی سربراہی میں ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دی ہے، یہ ٹاسک فورس نیب قوانین کو مزید موثر بنانے کیلئے اپنی سفارشات دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبہ کا جائزہ لیا، وفاقی کابینہ نے خسرو بختیار کو ہدایات دیں کہ وہ سی پیک کے حوالہ سے مفصل بریفنگ دیں، اس حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی میں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد سمیت دیگر متعلقہ وزراءبھی شامل ہوں گے، سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں کیلئے 22 ارب ڈالر اور دیگر منصوبوں کیلئے 46 ارب ڈالر شامل کئے گئے ہیں، ان تمام منصوبوں کا جائزہ لینا ضروری ہے، اس لئے یہ کمیٹی بہت جلد وزیراعظم کو اپنا مکمل جائزہ پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع بھی قریب ہے، انسداد دہشت گردی عدالتوں کو مزید فعال بنانے کیلئے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں بہتری کیلئے ٹاسک فورس 90 دنوں میں اپنی تجاویز کابینہ کو پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے عمل کو مزید تیز کرنے کیلئے گورنر خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ کے پی کے، وزیر دفاع اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے وزیر پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی ہے جو فاٹا کے انضمام میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھر بنانے کا اعلان پاکستان تحریک انصاف نے کیا تھا اس پر عملدرآمد کیلئے ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جو 90 دن میں اپنی منصوبہ بندی اور دیگر امور کے حوالہ سے کابینہ کو آگاہ کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی ملازم کو نوکری سے فارغ نہیں کریں گے اور نہ ہی اداروں میں پسندیدہ لوگوں کو تھوک کے حساب سے بھرتی کیا جائے گا کیونکہ یہ اداروں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، سابقہ حکومتوں نے ایسی ہی مثالیں قائم کی ہیں، سندھ میں ایک ادارہ کے اندر 50 ہزار لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے اور یہ تمام سیاسی جماعت کے ورکر ہیں وہ دفاتر میں بھی نہیں آتے اور تنخواہیں بھی وصول کرتے ہیں، موجودہ حکومت ایسی کوئی روایت قائم نہیں کرے گی۔