• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقتدار کا پہلا ہفتہ، وزیراعلیٰ بزدار نے 5 تنازعات کو ہوا دی

اسلام آباد (وسیم عباسی) وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے پہلے خطاب میں اصلاحات اور بچت کے لئے اقدامات پر توجہ مرکوز کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ اُن کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے حالیہ متضاد اقدامات نے پوری تحریک انصاف کو قومی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ناقدین کے لئے ’’پنچنگ بیگ‘‘ بنا دیا ہے۔ وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھانے کے ہفتہ بھر بعد ’’نیا پاکستان کے جذبے کے برخلاف انہیں 5 بڑے تنازعات نے گھیرا ہے۔ اوّل عمران خان کے برعکس جو وزیراعظم ہائوس منتقل نہیں ہوئے اور کمپلیکس میں ملٹری سکیرٹری کی رہائش گاہ میں رہنا پسند کیا۔ عثمان بزدار نے اپنی رہائش کے لئے 7-کلب روڈ پر وسیع و عریض سرکاری رہائش گاہ میں قیام کرنا پسند کیا ہے۔ 5 بیڈرومز پر مشتمل یہ رہائش سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی اپنے استعمال میں لا چکے ہیں۔ ان پر تنقید اس وقت شروع ہوئی جب ان کے اہل خانہ نے حکومت پنجاب کا طیارہ استعمال کیا اور مفت کی سواری کے مزے لئے۔ تاہم ایک ٹی وی شو پر گفتگو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے عثمان بزدار کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا اگر وزیراعلیٰ طیارے کے ذریعہ اپنے خاندان کو لائے تو کیا غلط کیا؟ وی آئی پی دورے کی وجہ سے کمسن بچی کی موت: جمعرات کو ایک اور تنازع اس وقت اُٹھ کھا ہوا جب وزیراعلیٰ میاں چنوں میں دوست کے گھر تعزیت کے لئے سرکاری ہیلی کاپٹر میں گئے، انہوں نے تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتال کا معائنہ بھی کیا جہاں ایک دو سالہ بچی کی موت پر وہ ہدف تنقید بنے۔ دو سالہ کومل کو ایمرجنسی میں بروقت طبّی امداد نہ مل سکی۔ تحریک انصاف اقتدار میں آنے سے قبل ایسے رویوں پر شدید نقاد رہی، 2015ء میں بلاول بھٹو کے سول اسپتال کراچی کے باہر پروٹوکول کے باعث سڑک بند کرنے سے 10 ماہ کی بچی بسمہ کی ہلاکت پر عمران خان نے شدید تنقید کی تھی۔ بھاری پروٹوکول اور دکانوں کی بندش: میاں چنوں کے دورے کے بعد وزیراعلیٰ بزدار نے پاک پتن میں بابا فرید کے مزار جانے کے لئے وہی سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔ پاک پتن پہنچنے کے بعد وہ اٹھارہ گاڑیوں کے پروٹوکول میں مزار گئے۔ اس دوران پولیس نے کچھ دکانوں کو جبری بند کرایا۔ وزیراعلیٰ کی موجودگی کے دوران زائرین کو مزار کی عمارت کے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ وہاں موجود لوگوں نے حکومت کے خلاف نعرے بھی بلند کئے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے ان رویوں کی شدید مذمت کی۔ ڈی پی او کا تبادلہ: وزیراعلیٰ اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنے جب وہ مبینہ طور پر پاک پتن کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) رضوان عمر گوندل کے تبادلے میں اثرانداز ہوئے۔ جب ڈی پی او نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو تیز رفتاری سے گاڑی چلانے پر روکا تھا۔ جس پر انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کلیم امام نے خاور مانیکا کی شکایت پر ڈی پی او گوندل کا تبادلہ کر دیا۔ تاہم پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا دعویٰ ہے کہ خاور مانیکا کے واقعہ اور ڈی پی او کے تبادلے سے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انہوں نے گوندل کو معذرت کے لئے کہا جبکہ وزیراعلیٰ بربنائے منصب طیارہ استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں۔

تازہ ترین