آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1965ء کی جنگ کا جب بھی ذکر آئے گا شاہینوں کی جرأتِ پرواز کا ذکر بھی ضرور آئے گا، جنہوں نے ہندوستانی فضائیہ کو جس انداز سے ناکوں چنے چبوائے،اس کا اعتراف بھارتی فضائیہ کے سینئر اہلکار بھی کرتے ہیں۔65کی جنگ میں پاکستان کی فتح کا سہرا ہمارے شاہینوں کے سر بھی جاتا ہے، جنہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس جنگ کی ابتدا بھارت نے اس زعم کے ساتھ لاہور سیکٹر پر گولہ باری کرکے کی کہ وہ ’لنچ‘ لاہور میں کریں گے۔ انہوں نے ٹینکوں کی بھاری نفری میدانِ جنگ میںاتاری لیکن پاک فضائیہ کے شاہینوں کے پے درپے حملوں کے باعث بھارتی پسپا ہوگئے۔ جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ نے بھارت کے104طیارے تباہ کیے جبکہ پاک فضائی کو صرف 19 طیاروں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس بھاری نقصان کے باعث بھارتی فوج صرف تین دن میں ہی پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔ ایسے ہی جانباز شاہینوں میں اسکواڈرن لیڈر پاکستان ائیر فورس سرفراز احمد رفیقی شہید اور ریٹائرڈایئر کموڈور امتیاز احمد بھٹی غازی بھی شامل ہیں، جنہوں نے یکم ستمبر1965 ء کی شام چھمب سیکٹر پر بیس ہزار فٹ کی بلندی پردوران ِ پروازحکم ملتے ہی بھارتی فضائیہ کے چار حملہ آورطیاروں میں سے تین کو مارگرایا۔ انہیں اس مشن کے لئے ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔6ستمبر1965ء کی شام انہیںبھارتی فضائی اڈے ہلواڑا پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا گیاتاکہ لاہور کا دفاع کیا جاسکے۔ اس مشن میں سرفراز احمد رفیقی نے اپنے ساتھ چارجنگجو طیاروں کی قیادت کی۔ ایک طیارہ گرانے کے بعد ان کی مشین گن جام ہوگئی۔ میدان چھوڑ کر بھاگنے کے بجائے انہوں نےاپنے ساتھیوں کو حملہ جاری رکھنے پر آمادہ کیا اور خود پشت سے ان کی حفاظت کرنے لگے اور نہتے ہوتے ہوئے بھی فارمیشن کو برقرار رکھا۔ اس دوران وہ ایک بھارتی طیارے کی زد میں آگئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔

سرگودھا ایئر بیس کی نگرانی کرنے والے دوسرے غازی ایئر کموڈورریٹائرڈ امتیاز احمد بھٹی تھے، جنہوں نے 65 کی جنگ میں اپنی مہارت سےچھمب سیکٹر پر دوبھارتی طیاروں کوٹھکانے لگایا۔ اس جرأت پر انہیں ستارۂ جرأت ملا۔ اس پاک بھارت جنگ کو یاد کرتے ہوئے امتیازبھٹی کہتے ہیں:’’ہم 65 کی جنگ بہت بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے لڑے۔ ایئر مارشل سے اسکواڈرن لیڈرز تک ہمارے پاس عظیم رہنما تھے۔ اس مشن کے دوران رفیقی صاحب سمیت کئی اسکواڈرن لیڈرز نے پاک فضائیہ کی ناموس کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ اسکواڈرن لیڈر رفیقی شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ فلائٹ لیفٹیننٹ اور فلائیٹ کمانڈر تھے۔ 

جب میں پائلٹ آفیسر تھا تب انہوں نے مجھے تربیت دی۔ وہ فضا میں طیارے کو اس آسانی سے موڑ لیتے تھے جیسے کہ رکشا ہو۔ جب 65کی شورش شروع ہوئی تو میری خواہش تھی کہ میں بھی شامل رہوں۔ بلاحجت رفیقی صاحب نے کہا چلو، اس طرح پہلے ہی مشن میں رفیقی صاحب نے دو جبکہ میں نے ایک طیارہ مار گرایا،دوسرے کو نشانہ بنایا تو وہ درختوں میں چھپ گیا۔ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی کارکردگی کا اعتراف بھارتی پائلٹس نے بھی کیا اور کہا کہ پاک فضائیہ کے خوف کے باعث ہم نے اپنا آپریشن ختم کردیا۔‘‘

اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی شہید

اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی مشرقی پاکستان کے شہر راج شاہی میں18جولائی 1935ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے سینٹ انتھونی ہائی اسکول لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک 1948ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول ملتان سے کیا۔ان کے والد کا جب کراچی تبادلہ ہوا توڈی جے سندھ سائنس کالج سے تعلیمی سلسلہ آگے بڑھایا۔ اس کے بعد RPAF کالج رسالپور سے گریجویشن کی، جہاں انہوں نے بہترین پائلٹ کی ٹرافی حاصل کی۔ انھوں نے اپنی شاندار کارکردگی و جرأت پر ہلالِ جرأت اور ستارۂ جرأت کے اعزازات پائے۔6ستمبر1965ء کو تیس برس کی عمر میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان کے نام پر لاہور کنٹونمنٹ کا نام سرفراز رفیقی روڈ اور کراچی میں رفیقی شہید روڈ موسوم ہوا۔

ایئر کموڈور امتیاز احمد بھٹی

ایئر کموڈور امتیاز احمد بھٹی کی پیدائش گجرات میں18اپریل 1933ء کو ہوئی۔ وہ1940ء اور1950ء کی دہائیوں کے دوران پنجاب یونیورسٹی آف ایگریکلچر کالج، لائل پور (اب ایگری کلچر یونیورسٹی، فیصل آباد) میں اپنے طالب علمی کے دنوں میں پاکستان کے سائیکلنگ چیمپیئن رہے۔انہوں نے 1952ء میں سمر اولمپکس میں انفرادی اور ٹیم روڈ ریس مقابلوں میں پاکستانی کی نمائندگی کرتے ہوئے قومی سائیکلنگ کے ریکارڈ قائم کیے۔ وہ ایشیائی سائیکل سواروں میں بھی پہلے نمبر پر رہے جبکہ1000میٹر دوڑ کے مقابلوں میں عالمی طور پر ان کا 25 واں نمبر تھا۔ ایئر فورس میں شمولیت کے بعد انہوں نے1965ء کی جنگ کے34جنگجو مشن میں حصہ لیا، جس میں دو بھارتی طیارے مار گرائے جب کہ ایک کو تباہ کیا۔ جرأت مندانہ خدمات کے اعتراف میں انہیںستارہ ٔجرأت،ستارۂ امتیاز اورستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ ان کا شمار پاک فضائیہ کے لیجنڈشاہینوں میں ہوتا ہے،جن کو ہر سال یومِ دفاع کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں