آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عزیز بھٹی 6اگست 1923ء کو ہانگ کانگ کے ایک خوبصورت جزیرے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ماسٹر محمد عبداللہ اس جزیرے پرمقامی اسکول میں معلم تھے۔ بہن بھائیوں میں میجر صاحب کا چوتھا نمبر تھا۔ ابتدائی تعلیم کے لیے انھیں وہیں داخل کرادیا گیا۔ اس جزیرے پر ایک چینی نجومی نے ایک بار عزیز بھٹی کو دیکھا تو بے اختیار پیشن گوئی کردی، ’یہ بچہ زندگی میں بے حد نام کمائے گا اور جب یہ دنیا سے رُخصت ہو گا تو اس کی شہرت زبان زدِ عام ہو گی‘۔

اسی زمانے میں دوسری جنگِ عظیم کے شعلے بھڑک اُٹھے۔1941ء میں جاپان نے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا اور اسکے ساتھ ہی عزیز بھٹی کے گھرانے پر مصائب و آلام نے حملہ کر دیا۔ دوسری جنگِ عظیم کا اختتام اگست1946ء میں ہوا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے عزیز بھٹی کے والدین نے نقل مکانی کا فیصلہ کیا اور بچوں کو ساتھ لے کر پاکستان چلے آئے۔ ان کی منزل ان کا آبائی گاؤں لادیاں تھا، جو ضلع گجرات میں واقع ہے۔

ایک سال بعد یعنی1947ء میں عزیز بھٹی کی شادی اپنے ہی گاؤں میں صوبیدار اکرام الدین بھٹی کی صاحب زادی محترمہ زرینہ بیگم سے ہو گئی۔ یہ شادی ان کے لیے اچھی زندگی کی نوید لے کر آئی۔ شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد عزیز بھٹی اور ان کے دو بھائی نذیر احمد اور سردار محمد انڈین ایئرفورس میں بھرتی ہوگئے۔ اسی سال اگست میں پاکستان معرض وجود میں آ گیا اور ان کے متعلقہ دستے راولپنڈی آ گئے۔ یہاں آتے ہی عزیز بھٹی نے پاک آرمی میں کمیشن کے لیے درخواست دے دی، جو منظور کرلی گئی۔

1955ء کے اواخر میں وہ کیپٹن راجہ عزیز بھٹی ہو گئے۔ مزید ٹریننگ کے لیے وہ کوئٹہ چلے گئے۔ سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے، وہ یہاں بھی فائنل امتحان میں پہلی پوزیشن لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کا شاندار ریکارڈ دیکھتے ہوئے اعلیٰ افسران نے ان کو خصوصی تعلیمی ٹریننگ کے لیے کینیڈا بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ جب کیپٹن راجہ عزیز بھٹی کو اس تربیت کے لیے منتخب کیا گیا تو انہیں میجر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

29اگست 1965ء کو جب وہ چھٹیوں میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو ان کو اطلاع ملی کہ ان کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ہنگامی حالات کے تحت ان کو فوراً ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ راجہ عزیز بھٹی نے اگلی ہی صبح ڈیوٹی پر لوٹ جانے کے لیے تیاری شروع کر دی۔ وہ ان کی اپنے اہل و عیال کے ساتھ آخری رات تھی، جب وہ رات کھانے پر ان کے ساتھ بیٹھے بات چیت کر رہے تھے۔’ہنگامی حالات کے باعث چھٹی منسوخ ہو گئی۔ کیا حالات دُرست ہونے پر دوبارہ چھٹی مل سکے گی؟‘ بیگم نے افسردگی سے پوچھا۔’ضرور مل سکے گی۔تم اداس کیوں ہو رہی ہو۔ایک فوجی کی زندگی میں تو یہ اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں‘، عزیز بھٹی نے ہنس کر کہا۔’ابا جان! کیا بھارت سے ہماری جنگ ہونے والی ہے؟‘ان کے چھوٹے بیٹے ذوالفقار نے سوال کیا۔’ہاں بیٹا، لگتا ہے اب جنگ ہو کر رہے گی۔ حالات اس قدر خراب کبھی نہیں رہے، جس قدر ان دنوں ہیں‘۔ ’تو ابا جان جنگ میں پیٹھ نہ دِکھانا‘،بھولپن میں جوش بھرے لہجے میں بیٹے نے ہاتھ کا مُکا بنا کر کہا۔’شاباش‘، راجہ عزیز بھٹی نے بیٹے کو چوم لیا۔ پھر بیٹے سے مخاطب ہو کر بولے، ’تم بھی میری ایک بات یاد رکھنا بیٹا! اگر میں جنگ میں لڑتا ہوا شہید ہو گیا تو آنسو مت بہانا‘۔راجہ عزیز بھٹی نے جیسے بیٹے سے عہد لے لیا تھا۔

6ستمبر1965 ء وہ تاریخی دن ہے جب مکار، عیار اور بزدل دشمن نے فجر سے پہلے ہمارے پاک وطن پر چوری چھپے لاہور کی جانب سے حملہ کردیا۔ میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کررہے تھے۔ کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔ 9اور 10ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر پر بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔ میجر عزیز بھٹی کو اس صورتحال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پر پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا۔ انہوں نے ایک انتہائی شدید حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کے مقابلے میں کھڑے رہے، جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔ انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔

اس محاذ پر گزشتہ چھ دن اور چھ راتوں سے دشمن کا اس قدر جانی اور مالی نقصان ہو چکا تھا کہ جس کا تصور بھی محال تھا۔ بھارتی فوج اس محاذ پر150جوانوں کی مختصر نفری سے شکست کے بعد جان لیوا احساسِ کمتری میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اس محاذ پر بھارت کے سینکڑوں فوجی جہنم واصل ہو چکے تھے جبکہ جواب میں پاکستانی فوج کے صرف 11جوان شہید ہوئے تھے۔

12ستمبر 1965ء کی صبح میجر عزیز بھٹی نے وضو کیا، فجر کی نماز ادا کی اور پٹڑی کی جانب بڑھ گئے، جہاں کھڑے رہ کر انہیں آج بھی اپنے دستے کے لیے او پی کے فرائض سر انجام دینا تھے۔ بھارتی فوج کی فائرنگ صبح کاذب سے شدت کے ساتھ جاری تھی۔ گولے میجر عزیز بھٹی کے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ دو تین گولے ان سے آگے چند گز کے فاصلے پر بھی گر کر پھٹے۔ اسی دوران، میجر صاحب نے دیکھا کہ برکی کی طرف سے چند بھارتی ٹینک تیزی سے نہر کی جانب چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً توپ خانے کو اس طرف گولہ باری کرنے کا حکم دیا۔ فائر ٹھیک نشانے پر لگا اور بھارتی ٹینک بچوں کے کھلونوں کی طرح فضا میں اچھل کر اور آگ کے شعلوں میں لپٹے ہوئے زمین پر گر پڑے۔ صبح ساڑھے نو بجے کا وقت تھا، جب دشمن کے ایک توپچی نے گولہ فائر کیا، جو فضا میں بلند ہوا اور سیدھا میجر راجہ عزیز بھٹی کے سینے سے آ ٹکرایا۔ میجر عزیز بھٹی اچھل کر گر پڑے۔ وطن کا جرّی محافظ اپنے فرض کی ادائیگی میں جامِ شہادت نوش کر چکا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں