تحریر:محمد سجاد رضوی… ہیلی فیکس روحانی دنیا ایک الگ مزہ رکھتی ہے باطن کے دریچے وا ہوتے ہیں تو عالم بالا کے مناظر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ انسان کا سینہ جب کدورتوں سے صاف ہوتا ہے تو کثیف پردے ہٹ جاتے ہیں، اسرار کھل جاتے ہیں اور بشر کا تعلق کائنات کے خفیہ اور مخفی قوتوں سے ہو جاتا ہے مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے قلب کی دہلیز پر اسرار الٰہیہ کی بارش ہوتی ہے اور مالک حقیقی کے جن اوصاف کا تذکرہ زبان سے کیا کرتا تھا ان کے انوار کا نزول دل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ کرامتیں اور مافوق العادت کام تو ایک ضمنی سی چیز ہے ورنہ اصل شے تو محبوب کا قرب ہے جس میں شراب طہور سے بڑھ کر نشہ اور آب کوثر سے بڑھ کر لذت ہے۔ "من وصل فصل" یعنی جو مل گیا اپنے محبوب سے ' وہ دنیا کی رونقوں کا تارک ہوا۔ یہ سارے کمالات شریعت محمدیہ ﷺ کے مرہون منت ہیں۔ اس پر دلیل خود قران مجید ہے جو پیغمبر اعظم و آخر ﷺ کے بارے ارشاد فرماتا ہے کہ یہ آیات ربانی تلاوت کرنے والے دلوں کو تزکیہ کی دولت بخشنے والے اور ان صاف دلوں پر الکتاب کے معانی کے موتی بکھیر کر ' ان میں حکمت کے پھول اگانے والے ہیں۔ تلاوت قران مجید سے لے کر دلوں کی زمیں بسانے تک ' تمام مراحل بواسطہ سرور دو عالمﷺ طے ہوتے ہیں اور جس کی آپ ﷺ کی شریعت سے جس قدر مضبوط نسبت ہے اتنا ہی صاحب طریقت و واقف حقیقت ہے۔ اسی اساسی قاعدہ پہ ساری تصوف کا دارومدار ہے۔ اور اسلاف نے طرق طریقت طے کرنے سے قبل ظاہری علوم پر زور دیا۔ عقائد پختہ کئے ' مسائل ضروریہ ازبر کرائے ' حلال و حرام کی تمیز پر زور دیا ' اخلاقیات کے ابواب ذہن نشیں کرائے اور اپنی صحبت میں برسوں رکھ کر ' باطن کے اسرار و رموز نہ صرف پڑھائے بلکہ اپنے عمل سے سکھائے ۔ مرشد کامل کے چراغ سے طالب حقیقی کا چراغ بھی جل گیا’’ اندھیری کٹیا میں اجالے بکھر گئے‘‘ ' راز مولا آشکارا ہوئے اور مقصد تخلیق انسانی کی تفہیم میں کامیابی ملی۔ لوگ برسوں مشقتیں سہتے ' مصائب جھیلتے ' جاڑے کی سردیاں اور عین گرمیوں کی تپش برداشت کرتے حکم مرشد پر مراقبوں پر دوام وظائف پر استمرار چلہ کشی اور بھوک پیاس سہتے اپنی منزل پاتے۔۔۔ ایک طویل مدت صرف ہوتی تب کہیں پتھر سے نگیں بنتا۔ مگر آج کی تصوف کا رنگ دیکھ کر تو عقل و خرد کو پسینہ آرہا ھے۔ ماڈرن پیر صاحب خش خشی داڑھی اور کبھی اس سے بھی عاری شریعت سے بے رغبتی بلکہ ناآشنا ، نماز، روزہ سے صرف نظر اور احکام اسلامیہ سے تغافل، بزرگوں کی کرامات پر زور، ' نذرانوں اور خوشامدیوں کا شور اور اسی شور کے حصار میں مسند رفیع پر براجمان نفس زدہ انسان جس کے سامنے جہلاء گردنیں جھکائے ' سب کچھ لٹائے ' کرامات مرشد کے منتظر بیٹھے ہیں ۔ صاحب مسند علم و آداب تصوف سے بیگانہ ' لباس صوفی میں خلق خدا کو فریب دے رہے ہیں یہاں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی بات یاد آتی ہے جو کشف المعجوب میں مرقوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں بغیر علم کے حب مرتبہ اور بغیر استطاعت کے خواہش عظمت ان کو مغالطے میں مبتلا کر دیتی ہے یہ لوگ ناحق آشنا ہیں جو کبھی سالک طریقت ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ صوفیا کا لباس پہن کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں اور ان کی مثال قران مجید میں یوں ہے: "مثال ان لوگوں کی جنہیں تورات دی گئی (مگر) انھوں نے اس پر عمل نہ کیا‘‘ گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لادی ہوئی ہیں۔ آج اس دور میں جہاں تصوف کے نام پر کاروبار کا ایک وسیع سلسلہ ہے اور سادہ لوح لوگوں کو باطنی قوتوں کا چکمہ دے کر دام فریب میں پھنسایا جارہا ہے حقیقی صوفیا کی پہچان مشکل ہوگئی ہے جب کہ "مال بیچنے والے" کھمبیوں کی طرح بکثرت اپنی دکانیں سجائے ' جال لگائے "روحانی کاروبار" چلا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قلع قمع اس لئے ضروری ہے کہ ان کی وجہ سے اصل لوگوں کی عظمت و شان پر حرف آتا ہے اور دوسرا ' تصوف کے نام پر جو زہر یہ بیچتے ہیں اس سے ایمان کے ضائع ہونے کا خدشہیا کم از کم جہالت کی تاریکیوں میں غرق ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایک بار پھر حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کی عبارت کا سہارا لیتے ہوئے راقم عرض کرتا ہے کہ اہل تصوف تین طرح کے ہیں ۔ :1صوفی۔جس کی انا فنا ہو جاتی ہے حق اس کی زندگی ہے اور حقیقتیں اس پر آشکارا ہوتی ہیں۔ :2متصوف۔ جو صوفی کے مقام کو پانے کے لئے مجاہدے کر رہا ہے اور صوفیا کے طرز عمل کو نمونہ بنا کر اپنے آپ کو درست کرنے میں لگا ہوا ہے۔ :3مستصوف۔ جو پہلی دونوں صورتوں سے بے خبر ' صرف روپے پیسے اور دنیوی عزت و جاہ کے لئے صوفیا کی نقالی کر رہا ہے، اسی گروہ کے بارے کہا گیا "المستصوف عند الصوفی کالذباب و عند غیر ھم کالذیاب" یعنی مستصوف صوفیا کے نزدیک مکھی کی طرح حقیر ہے اور عام لوگوں کے لئے بھیڑئیے کی طرح (خطرناک)۔ اس پرفتن اور قرب قیامت کے دور میں جہاں بے شمار رہزن رہنما کی صورت میں عوام کو لوٹ رہے ہیں اور کبھی اپنے آپ کو غیبی قوتوں کا حامل اور کبھی نذرانوں کے عوض سند جنت کی تقسیم کے ذریعے اپنے نفس کی پرستش کروا رہے ہیں ' علمائے حق کا اہم ترین فریضہ ہے کہ "دودھ اور شراب" کا فرق واضح بیان کر کے "روحانی سوداگروں" سے اہل ایمان کی جان چھڑائیں۔