آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امجداقبال خان، ساہی وال

ساری رات بھاگنے کے بعد بالآخر مَیں ایک ویران علاقے میں پہنچ چُکا تھا۔ دُور کہیں آبادی کے آثار نظر آرہے تھے۔مجھے اپنی ہمّت پر حیرت ہورہی تھی کہ کیسے یک لخت سب کچھ چھوڑ آیا۔شایدیہ سلاخوں کے پیچھے قید ہونے کا خوف تھا، جس نے مجھے رات بَھر بھاگتے رہنے پر مجبور کردیا تھا۔اب صُبح کا اُجالا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔مسلسل بھاگتے رہنے سے اب چند قدم بھی چلنے کی ہمّت نہیں تھی۔سو،اس ویرانے میں ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موندلیں۔ دھیرے دھیرے گزشتہ شام کے وہ تمام مناظر آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنے لگے،جب قادر سے ایک بات پر بحث شروع ہوئی،اور وہ آہستہ آہستہ تلخی میں ڈھل گئی۔ یہاں تک کہ ہم گتھم گھتا ہوگئے۔قادرمیرا جگری دوست، کافی طاقت وَر تھا۔وہ مجھ پر جنونی انداز میں مُکّے برسا رہا تھا۔ یکا یک اس نے مجھے زور سے دھکا دیا اور مَیں دیوار سے جاٹکرایا۔ قادر جنونی ہو رہا تھا۔اُس کا غصہ آخری حدوں کو چُھو رہا تھا۔ مَیں دفاعی پوزیشن پر کھڑا تھا۔اچانک ہی میری نظر ایک آہنی راڈ پر پڑی اور مَیں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر وہ راڈ قادر کے سَر پر دے ماری۔ضرب اتنی کاری تھی کہ وہ چند ہی منٹوں میں ڈھیر ہوگیا۔ میرا یہ ارادہ ہرگز نہ تھا۔مَیں اُسے مُردہ حالت میں دیکھ کرخوف زدہ ہوگیا۔جس جگہ ہماری لڑائی ہوئی تھی، وہاں ہم دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ سو، مَیں نے موقعے سے فائدہ اُٹھایا اور بھاگ کر اپنے گھر آگیا۔ذہن میں یہ بات تھی کہ چوں کہ مجھے کسی نے نہیں دیکھا، لہٰذا صاف بچ جائوں گا، مگر صرف بیس منٹ بعد ہی گھر کے دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی، مَیں جِھری سے یہ دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گیا کہ باہر پولیس کھڑی تھی۔مَیں نے گھر کی عقبی دیوار سے چھلانگ لگائی اور جس سمت سینگ سمائے، بھاگنا شروع کردیا۔مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ مَیں کب قصبے کی حدود سے نکلا اور ایک اَن جانے علاقے میں پہنچ گیا۔

اچانک ہی مجھے اپنے سر پر کسی ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ ایک جھٹکا سا لگا، ’’پولیس…‘‘دوسرے ہی لمحے گھبرا کر آنکھیں کھولیں، تو سامنے پولیس نہیں، ایک ادھیڑ عُمر، دراز قامت خاتون کھڑی تھی۔حلیے سے دیہاتن معلوم ہوتی تھی۔’’پُتّر! کی گَل اے، راستہ تے نیئں بُھل گیا؟‘‘ مَیں نے تھوک نگلا، کچھ کہنا چاہا، مگر زبان نے ساتھ نہ دیا۔وہ خود ہی بولی، ’’شہری لگنا ایں…اور مصیبت دا مارا وی‘‘۔میری زبان لڑکھڑائی، ’’جی…جی ماں جی…!‘‘’’پُتّر…! دَس تے سہی کون ایں، کس مصیبت دا مارا ایں؟‘‘مَیں اٹھ کر اُس کے مقابل کھڑا ہوگیا۔’’ماں جی! مجھ سے قتل ہوگیا ہے۔ قصبے سے مفرور ہوں۔ پولیس تلاش میں ہے۔‘‘اُس نے افسوس بَھرے انداز میں سَرہلایا۔ ’’ہائے ہائے…جوان جہان منڈا، قتل کر بیٹھا۔‘‘’’بُھکّا ہو ویں گا…چل میرے نال چل۔ میرا پِنڈ زیادہ دُور نہیں۔‘‘ جس آبادی کے آثار مجھے نظر آرہے تھے، غالباً وہی اس خاتون کا گائوں، خیال پور تھا۔ وہ مجھے اپنے گھر لے آئی۔کچّی اینٹوں سے بنا یہ دو کمروں کا گھر تھا، جس کا صحن کشادہ تھا۔مَیں ابھی گھر کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ ایک نسوانی آواز سُنائی دی’’امّاں! یہ کسے اپنے ساتھ لے آئی ہو؟‘‘ماں جی کے بتانے سے پہلے ہی مجھے اندازہ ہوچُکا تھا کہ وہ اُن کی بیٹی ہے۔ ’’پُتّر! اے میری دھی سعیدہ ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنی بیٹی کو میرے بارے میں بتایا کہ یہ کوئی مصیبت کا مارا، اپنے شہر سے بھاگا ہوا ہے،لیکن قتل کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔لڑکی کافی تیز تھی، فوراً بولی، ’’امّاں! کسی اَن جان کو گھر کیوں لے آئی۔پتا نہیں، کیا جُرم کرکے بھاگا ہوگا۔ اگر کوئی مصیبت ہمارے سَر پڑگئی، تو…؟‘‘ ماں جی پُر اعتماد لہجے میں بولی،’’کچھ نیئں ہوندا۔ بے چارہ مسکین اے۔چل جا کے کجھ کھان دا انتظام۔‘‘ لڑکی نے مجھے غور سے دیکھا، پھر صحن میں بنے چھوٹے سے باورچی خانے میں چلی گی۔ماں جی نے اشارے سے مجھے ہاتھ مُنہ دھونے کو کہا۔تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی اور چارپائی پر میرے سامنے لسّی کا گلاس اور چنگیر میں پراٹھا رکھ دیا۔پراٹھے کے ساتھ اچار تھا۔گھی، مکھن سے لتھڑا پراٹھا دیکھ کر میری بھوک چمک اُٹھی۔ مَیں جلدی جلدی ناشتا کرنے لگا۔لڑکی شاید میرے ناشتے سے فارغ ہونے کے انتظار میں تھی۔برتن اُٹھاتے ہی بولی، ’’تُو نے جُرم کیا کیا تھا؟‘‘ میرے بتانے سے پہلے اس کی ماں بول پڑی، ’’چھوٹی موٹی چوری کر بیٹھا اے۔‘‘ مَیں نے چونک کر ماں جی کو دیکھا، تو انھوں نے اشارے سے مجھے چُپ رہنے کو کہا۔خدا جانے کس مصلحت کے تحت ماں جی نے جھوٹ بولاتھا۔لڑکی غصّے بھرے لہجے میں بولی،’’شرم تو نہیں آئی ہوگی چوری کرتے وقت۔چور صاحب! اپنی صحت دیکھی ہے۔محنت مزدوری کرتے کیا ہاتھ دُکھتے ہیں ؟‘‘پھر وہ اپنی ماں کی طرف متوجّہ ہوئی، ’’واہ امّاں واہ! ایک چور کو گھر لے آئی ہو، تاکہ ہمارے گھر کا بھی صفایا کرجائے‘‘۔ماں جی نے بیٹی کو گھورا، ’’سعیدہ! زیادہ زبان نہ چلایا کر۔مہمان رحمت ہوندا اے۔‘‘

ہرچند کہ سعیدہ کافی مُنہ پھٹ تھی، مگر ماں جی مجھ پر مہربان تھی۔کچھ دیر گزری، تو ماں جی نے کہا،’’حشمت خان رات تک آجائے گا۔ ’’قصور‘‘ گیا اے۔او تینوں وی کِسے کم تے لادے گا، جب تک جی چاہے، ایتھے رہ۔‘‘ماں جی کی اس بات نے واقعی مجھے ان کا ممنون کردیا تھا۔’’بہت مہربانی ماں جی!آپ سے بات کرکے مجھے بالکل ایسا لگ رہا ہے، جیسے میں اپنی سگی ماں سے مخاطب ہوں۔‘‘سعیدہ بہت غور سے مجھے دیکھ رہی تھی۔وہ اس بات پر بھی کوئی چوٹ کرتی، مگر شاید اُسے اپنی ماں کی وارننگ یاد تھی۔ماں جی نے بتایا کہ حشمت خان اس کا شوہر ہے اور زمین داری کرتا ہے۔شام ہوئی،تو حشمت خان آیا اور حسبِ توقع مجھے دیکھ کر خاصا متعجب بھی ہوا،مگر ماں جی نے میرے بارے میں کچھ اس درد مندی سے بتایا کہ فوراً بولا۔’’بہت اچھا کیا تو نے تاجاں! نہیں تو بےچارہ دَر دَر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا۔‘‘پھر میری جانب متوجّہ ہوا،’’کیوں بھئی جوان…!کل سے تُو سنبھال لے ٹریکٹر۔مجھے بھی کھیتوں پر ایک آدمی کی ضرورت ہے اور تُو ضرورت مند ہے۔‘‘مَیں نے ہچکچاہٹ ظاہر کی،’’مگر چچا جان! مجھے ٹریکٹر چلانا…‘‘اُس نے میری بات پوری ہونے سے پہلے کاٹ دی،’’اوئے پُتّر! تُو فکرنہ کر، مَیں ہوں ناں،سب سِکھادوں گا، اپنا پُتّر سمجھ کر۔‘‘مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک قاتل ہونے کے باوجود مجھ سے ایسا رویّہ کیوں اپنایا جارہا تھا۔بہرکیف، رات ہوئی،تو میرا بستر بیٹھک میں لگا دیا گیا۔ اگلے دِن حشمت خان نے گائوں والوں سےیہ کہہ کر میرا تعارف کروایا کہ میں ان کاملازم ہوں۔پھر انہوں نے مجھے بڑی محنت سے ٹریکٹر چلانا سکھایا۔حشمت خان کی زمینوں پر ہل چلانا اب میری ذمّے داری تھی۔لاکھ انکار کے باوجود، انھوں نے کہا کہ وہ مجھےماہانہ پانچ ہزار روپے بطور تن خواہ دیں گے۔اب میری حیثیت گھر کے ایک فرد کی سی تھی۔سعیدہ کا رویّہ بھی ٹھیک ہوگیا تھا، اکثر مذاق بھی کرلیا کرتی۔ مَیں اُسے چھیڑنے کے انداز میں کہتا، ’’بھول مت جانا…مَیں چور ہوں اور چور گھروں کا صفایا کردیا کرتے ہیں۔‘‘تو وہ اِترا کر کہتی، ’’اور میرا نام بھی سعیدہ ہے، بھول مت جانا۔کبھی یہاں سے بھاگنے کا سوچا بھی، تو ٹانگیں توڑدوں گی۔‘‘امّاں تاجاں اور حشمت خان کی محبّت اپنی جگہ، مگر ایک عجیب سی انسیت میرے اور سعیدہ کے درمیان بھی پیدا ہوچُکی تھی۔وہ مجھے اچھی لگنے لگی تھی۔

ایک روز ماں جی نے بتایا کہ اُن کا ہونے والا داماد یعنی سعیدہ کا ہونے والا شوہر، مرشد حسین، جو بسلسلہ روزگار شہر میں رہتا ہے، چُھٹی پر آرہا ہے۔میرے لیے یہ ایک نئی خبر تھی ،جو بجلی بن کر گری۔ سعیدہ کے ہونے والے شوہر کی بابت سُن کر مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔ اِک عجب سی اداسی نے مجھے گھیر لیا تھا۔ اسی لیے مَیں نے اُس کے بارے میں مزید کچھ پوچھنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی اور پھر جب مَیں مرشد حسین سے ملا، تو بھی مجھے کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی۔سعیدہ بھی زیادہ خوش نہیں تھی۔یوں لگا، جیسے وہ اُسے پسند ہی نہیں تھا۔ مرشد حسین درازقامت اور خاصا وجیہہ و شکیل تھا۔اُس کے بارُعب چہرے پر ہلکی ہلکی مونچھیں اچھی لگ رہی تھیں۔وہ مجھ سے ملا، تو گہری سوچ میں پڑگیا۔حشمت خان نے اُسے میرے متعلق بتایا، تو اُس نے صرف سَرہلانے پر اکتفاکیا۔

اور پھر…دوسری رات یہ سانحہ ہوگیا۔ حشمت خان کے گھر پولیس آئی تھی، جس نے آتے ہی مجھے ہتھکڑیاں پہنادیں۔مرشدحسین مُسکراتا ہوا میرے پاس آیا۔’’جناب جی! سب انسپکٹر مرشد حسین نام ہے میرا۔‘‘یہ سُن کر میں گنگ رہ گیا۔پھر وہ حشمت خان کی طرف مُڑا، ’’چاچاجی! جس کے بارے میں آپ نے مجھے بتایا تھا کہ غربت کا مارا، بے روزگار ہے، یہ قاتل ہے۔قصبہ بخت پور سے قتل کرکے بھاگا ہوا ہے یہ…۔‘‘ ’’مگر مرشدحسین…‘‘حشمت خان غصّے میں آگیا۔’’مرشد حسین !یہ کون سا طریقہ ہے،کم از کم ایک بار مجھ سے بات تو کرلیتے،یہ مہمان تھا ہمارا۔اب لوگ کیا کہیں گے کہ ہم نے ایک قاتل کو پناہ دے رکھی تھی؟‘‘ مرشدحسین زیرِ لب مُسکرایا، ’’ٹینشن فری ہوجائو چاچاجی!رات کا وقت ہے، کہہ دینا، نوکر تھا، بھاگ گیا۔کسی کو کیا پتا چلے گا۔اسی لیے تو مَیں نے پولیس کو رات میں بلوایا ہے۔میری عقل کو داد دو چاچاجی۔‘‘’’مرشد!تُو نے اچھا نہیں کیا،مَیں اور تیری ساس تو اس میں اپنا کھویا بیٹا تلاش کررہے تھے،وہ بھی ایسے ہی جذبات کی رَو میں قتل کرکے بھاگ گیا تھا۔‘‘حشمت خان اور مائی تاجاں کے چہروں سے دُکھ عیاں تھا۔وہ واقعی مجھے اپنابیٹا سمجھنے لگے تھے۔پولیس والے مجھے لے جانے لگے، تو میری نظریں دروازے کے پَٹ سے لگی سعیدہ پر جا ٹھہریں۔وہ خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی، اُس کی جھیل سی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیر رہے تھے۔مَیں نے آج پہلی بار اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔مَیں واقعی اِک ’’چور‘‘ تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں