آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیکسپیئر کے ڈرامے ’’رومیو جولیٹ‘‘ کے ایک ذرا سے تاریخی مکالمے کا کسی نے کیا خوب ترجمہ کیا:’’نام میں کیا رکھا ہے‘۔گلاب تو گلاب ہے، اس کا نام کچھ بھی ہو،اس کی مہک کم نہیں ہوتی‘‘۔ یہ بات ہماری زندگی میں کہاں کہاں سچ ثابت ہوتی ہے، سوچیں تو عجیب خیالات جنم لیتے ہیں۔ ادھر سننے میں آرہاکہ دلّی کی تاریخی سڑک اکبر روڈ کا نام بدل کر مہارانا پرتاپ روڈ رکھنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ شہر کی آبادی میں صرف سات فیصد لوگ مسلمان ہیں لیکن پورے شہر میں مسلمان بادشاہوں کے ناموں پربے شمار سڑکیں ہیں۔اس کا علاج یہ ہے کہ ان کے ہندوانہ نام رکھے جائیں۔اسی طرح تاریخی شہر الہ آباد ہے۔ دھرم سے لگاؤ رکھنے والوں کا مطالبہ ہے کہ تاریخ کے کھنڈروں سے اس شہر کا پرانا نام ’پریاگ‘ نکلتا ہے، اب نئے حالات میں الہ آباد کا نام مٹا کر اس کی جگہ پریاگ لکھ دیا جائے۔ اب انہیں کون بتائے کہ آپ کی سرزمین کا نام ’ہند‘ کس نے رکھا۔ جواب میں عرض ہے کہ نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ باہر سے آنے والے مسلمانوں نے۔وہ اس کو ہند ہند پکارتے ہوئے آئے۔ اب کوئی پوچھے کہ اسی مناسبت سے یہاں آباد لوگوں کو ’ہندو‘ کا نام کس نے دیا؟ اوریہاں کی بولی کو ہندی یاہندوی کہہ کر کس نے پکارا؟ یہ سب مسلمانوں کا کیا دھرا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس سرزمین پر مسلمانوں کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ آپ کس کس کا نام مٹائیں گے اور کس کس کے نام پر سیاہی پھیریں گے۔ جب تک ہماری زبان کا کوئی نام نہیں تھا اور جس کی جو سمجھ میں آتا تھا ، بھانت بھانت کے ناموں سے پکارتا تھا۔ جب تک لفظ اردو عام نہیں ہوا تھا مرزا غالب تک اس کو ہندی یا ہندوی کہتے تھے۔ میں نے ملتان میں ہیررانجھا کا ایک بہت پرانا نسخہ دیکھا جو اردو میں تھا لیکن سرورق پر اسے ہندی رسم الخط بیان کیا گیا تھا۔ مجھے تو اس بے چارے اکبر اعظم پر ترس آتا ہے کہ ہندوؤں کو جتنا عزیز اس نے جانا، کس نے جانا ہوگا۔ اسی شہر دلّی میں اکبر کے نورتنوں کے نام پر بھی سڑکیں ہیں، تقریباً سار ے کے سارے ہندو تھے۔ اکبر کے بارے میں تو خود ہندو کہتے ہیں کہ ایسا سیکولر بادشاہ کوئی دوسرا نہ ہوا۔مذہب کے معاملے میں تو اس جیسا کھلا ڈھلا حکمراں کون ہوا ہوگا۔ اسی سرزمین میں پیدا ہوا، اسی میں آسودہ خاک ہے۔ بابر کے خاندان نے یہاں جم کر حکمرانی کی لیکن کبھی کوئی اس سونے کی چڑیا کو لوٹ کر دولت ملک سے باہر نہیں لے گیا۔ وہ مہذب دور تھا اور جیسی لوٹ مار آج ہے ، اس وقت اس کا تصور بھی نہ تھا۔ اب نام بدلنے والوں سے کوئی پوچھے کہ کیا آپ کی تاریخ آپ کی نہیں، کیا آپ پر راج کرکے یہ لوگ باہر چلے گئے۔ کیا ان ہی کا زمانہ نہیں تھا جب دنیا میں ہندوستان کی شہرت تھی کہ وہاں پتھر اٹھاؤ تو نیچے سے اشرفی نکلتی ہے۔ وہی زمانہ تھا جب دنیا بھر کے مہم جو راہ کے سارے دکھ اٹھاتے ہوئے جان جوکھوں میں ڈال کر یہاں پہنچتے تھے۔ تاریخ کے سینے پر سجا تمغہ نوچ کر پھینک دینے سے گزرے وقتوں کی خوبیوں میں کمی نہیں آجاتی۔ جب سب کچھ چپ سادھ لیتا ہے، تاریخ بولے جاتی ہے۔ پرانے کھنڈروں سے لے کر گلی ہوئی قدیم دستا ویزوں تک ، سار ے کے سارے دنیا کی پروا کئے بغیر گواہی دینے کو فرض جان کر ادا کئے جاتے ہیں۔ تاج محل بظاہر خاموش کھڑا ہے مگر اتنا بھی خاموش نہیں۔ لال قلعے پر اپنا پرچم لہراتے ہوئے آپ فخر محسوس کرتے ہیں، کیوں؟ہم تو اردو زبان کے بارے میں بھی ہندوستان والوں سے کہتے ہیں کہ اس کو اپنی بولی مانو، اس پر بھی ناز کرو۔ میں جب کبھی اسپین گیا، ہر بار محسوس کیا کہ مسلمانو ں کے چھوڑے ہوئے نقش و نگار کو وہ بہت بچا کر رکھتے ہیں اور الحمرا اور مسجد قرطبہ دیکھنے کے خواہشمندوں کا وہ گرم جوشی سے خیر مقدم کرتے ہیں۔

ہم پھر آتے ہیں نام بدلنے کے موضوع کی طرف۔ ہمارے گھرانو ں میں بھی کبھی کبھار نام بدلے جاتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ بعض نام راس نہیں آتے۔ لوگوں کے نام مقدس کتابوں سے نکال کر رکھے جاتے ہیں پھر بھی نام راس نہ آئے تو ہندسوں کی مدد سے کوئی دوسرا نام رکھا جاتا ہے۔ ایک نام خدا جانے کیوں دل پر ایک عجیب سا اثر کرتا ہے۔ خاص طور پر جب سے پاکستان کے شہر قصور میں آٹھ سال کی پھول جیسی بچّی زینب کو ایک درندہ صفت شخص نے کچلا اور روندا ہے اور بچی کی لاش کچرے کے ڈھیر پر پھینکی ہے یہ نام عجب سا دکھ دینے لگا ہے۔ زینب کے اغوا کی خبر بڑے تکلیف دہ انداز میں پھیلی تھی ۔ وہ یوں کہ خبر کے ساتھ اس کی ٹیلی وژن یا سی سی ٹی وی کی وہ تصویر بھی چلی جس میں وہ قاتل کی انگلی تھامے چلی جارہی ہے۔ وہ تصویر ذہن کے پردے سے کسی حال میں محو نہیں ہوتی۔تصویر میں آواز نہیں ہے مگر مجرم نے اقرار جرم کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اندھیری گلیوں میں داخل ہوا تو زینب نے اس سے ایک سوال پوچھا۔وہ سوال دل پر برچھی کی طرح لگتا ہے۔ وہ سوال اس نے قاتل سے نہیں، پورے معاشرے سے پوچھا۔ اپنی ننھی سی آواز میں اس نے بس اتنا ہی پوچھا:

’’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘

ہے کسی کے پاس جواب؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں