آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 21؍ربیع الاوّل 1441ھ 19؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹر امجد ثاقب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ گلیمرس نہیں ہیں۔ نہ تو وہ کوئی معروف کھلاڑی ہیں جس نے کھیل کے میدان میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو ، نہ وہ کوئی گلوکار ہیں جس کی تان اور سُر کے ہزاروں متوالے ہوں ، نہ وہ کوئی ایسے مقرر ہیں کہ حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری کی یاد تازہ ہو جائے، نہ وہ کوئی ایسے فیشن آئیکون ہیں کہ جن کے لباس کی تراش خراش کی دنیا دیوانی ہو، نہ انکے پاس ایسی گاڑیوں کی قطاریں ہیں جنکی تصاویر ہما شما نے صرف میگزینز میں دیکھی ہوں اور نہ ہی انکا دفتر اتنا شاندار ہے کہ جہاں اٹالین فرنیچر سے حاضرین کو مرعوب کیا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب ماشاء اللہ ان تمام خوبیوں سے مبرا ہیں اور اگر آپ ان تمام خوبیوں والے کسی صاحب کی تلاش میں ڈاکٹر صاحب سے ملیں گے تو یقین مانیے بہت مایوس ہوں گے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نہایت عام آدمی ہیں اور انکو عام رہنا ہی پسند ہے۔ عام سے لباس میں ہی وہ پائے جاتے ہیں۔ ہماری طرح دال ساگ کھاتے ہیں۔ دفتر جائیں تو سارا دفتر ہی زمین پر بیٹھا کام میں جتا ہوتا ہے۔ اگر کبھی ڈاکٹر صاحب آپ کو کھانے پر بلا لیں اور کہیں کہ جو دال روٹی پکی ہو گی ہماری طرف تناول فرما لیں تو اس کو محاورہ یا کسر نفسی نہ سمجھ بیٹھیے گا۔ ڈاکٹر صاحب دال کی پلیٹ سامنے رکھ کر اپنے ہاتھ سے پیاز کاٹ رہے ہوں گے اور پیاز کے قتلے ایک چائے کے کپ کی پرچ میں سجاتے ہوئے یہ ضرور کہیں گے کہ آپ کھاتے کیوں نہیں دال تو ابھی بہت ہے۔ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے تعلیم گورنمنٹ کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے حاصل کی۔ یہ بھی مان لیاکہ انیس سو پچاسی میں سول سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ میں منتخب ہوئے۔ امریکہ سے پبلک ایڈمنسٹریشن اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ میں ماسٹرز کیا۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک ، یو ایس ایڈ، ڈی ایف آئی ڈی ، اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو مشاورت دیتے رہے ۔ حکومت نے ان کو ستارہ ٔامتیاز سے بھی نوازا ۔ سات آٹھ کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب گلیمرس نہیں ہیں ورنہ کم از کم آپ ضرور ان کو جانتے ، چلیں آپ کو ڈاکٹر امجد ثاقب کے ایک کارنامے اخوت ٹرسٹ سے متعارف کرواتے ہیں۔

اخوت ٹرسٹ کا آغاز مارچ دو ہزار ایک میں لاہور کے رسول پارک کے ایک درخت کے سائے میں ہوا۔ چند مزدور خواتین کی مالی مشکلات کی بات کی جا رہی تھی۔ دوستوں سے مشورہ ہوا اور ادھر ادھر سے رقم پکڑ کر دو لاکھ روپے کا انتظام کیا گیا۔ ان خواتین کے مابین اس رقم کو قرض حسنہ کے طور پر تقسیم کیا گیا۔ انکو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے مشورے دئیے گئے اور بغیر کسی لکھت پڑھت کے انکے حوالے یہ رقم کر دی گئی۔ تھوڑے ہی عرصے میں نہ صرف یہ رقم واپس آ گئی بلکہ دینے والوں کا حوصلہ بھی بڑھا۔ اگلی دفعہ دس لاکھ کی رقم تقسیم کی گئی اور وہ بھی نہ صرف واپس آ گئی بلکہ جن لوگوں کی مدد کی گئی ان میں سے کچھ اپنے پائوں بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ اسی طرح کرتے کرتے دس سال میں ایک ارب روپیہ لوگوں میں قرض حسنہ کے طور پرتقسیم کیا گیا۔ اس سارے عمل میں کسی بین لاقوامی ادارے سے کوئی مالی مدد نہیں لی گئی۔ ہمارے ہی لوگوں نے پیسہ دیا اور اس پیسے کو ہمارے ہی لوگوں پر خرچ کیا گیا۔ بات ساری اعتبار کی ہوتی ہے ۔ اسکے اگلے آٹھ سالوں میں قرض حسنہ کی جانے والی رقم ستر ارب تک جا پہنچی اور جن افراد کو یہ قرض دیا گیا ان کی تعداد تیس لاکھ ہو گئی۔ اسطرح قریباََ سوا کروڑ افراد اس سہولت سے مستفید ہونے لگے ہیں۔ اس معاملے میں حکومتوں کی مدد بھی شامل حال رہی۔ لیکن قرض کی ایک پائی بھی سیاسی بنیادوں پر نہیں دی گئی۔

اسی طرح کا ماڈل بنگلہ دیش میں ڈاکٹر یونس نے بھی متعارف کروایا۔ ڈاکٹر یونس کا یہ ’’گرامین بینک‘‘ اتنا مقبول ہوا کہ انہیں اس کار ہائے نمایاں پر نوبیل پرائز بھی ملا۔ اخوت کا قرض حسنہ کاماڈل اگرچہ انہی خطوط پر قائم کیا گیا ہے لیکن اس میں بنیادی فرق سود کا ہے۔ ڈاکٹر یونس نے بنگلہ دیش میں جو ماڈل متعارف کروایا اس کا بنیادی نقطہ سود تھا جبکہ اخوت کے بنیادی ماڈل کا نقطہ قرض حسنہ ہے۔ لیکن یہ قرض اس طرح نہیں دیا جاتا جس طرح بھکاریوں کو بھیک دی جاتی ہے۔ اس میں قرض کی رقم کے ساتھ ایک سو پچاس طرح کے کاروبار کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔ پھر قرض کی واپسی کے ساتھ قرض لینے والوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ اب وہ لینے والے کے بجائے دینے والا ہاتھ بن جائیں۔ خود بھی غربت کے خاتمے میں حصہ ڈالیں اور حیران کن طورپر جب قرض لینے والے قرض دینے والے بن جاتے ہیں تو ان کی سوچ بدل چکی ہوتی ہے۔ وہ معاشرے کا سب سے بڑا مثبت پہلو بن چکے ہوتے ہیں۔ اس دور کے بارے میں ہم بڑی سہولت کے ساتھ یہ کہہ دیتے ہیں کہ آج کے دور میں کوئی دس روپے کا روادار نہیں ہے۔ تو اس امر پر حیرت ہوتی ہےکہ اتنی بڑی رقم جب غریب عوام میں قرض حسنہ کے طور پر تقسیم ہوئی تو کیا لوگوں نے اس رقم کو واپس کیا۔ قارئین کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ ننانوے اعشاریہ نو فیصد ریکوری آج تک ہوئی۔ کوئی رقم لے کر نہیں بھاگا۔ ایسے علاقوں میں بھی یہ رقم قرض حسنہ کے طور پر تقسیم کی گئی جہاں کے لوگ خود ڈاکٹر صاحب کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ یہاں اگر رقم قرض حسنہ کے طور پر تقسیم کی گئی تو سارا پیسہ ڈوب جائے گا۔ لیکن ان علاقوں میں بھی اخوت کی تقسیم کردہ رقم نہ صرف واپس ہوئی بلکہ علاقے کے کئی خاندانوں نے اس کے بعد اس کار نیک میں اپنا حصہ بھی ڈالنا شروع کر دیا۔ غربت کے خاتمے کے لئے اس کامیاب ترین پروجیکٹ سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہم پاکستانی بہت ایماندار لوگ ہیں۔ ہم پاکستانی بہت مخیر لوگ ہیں۔ ہماری ضرورتیں جیسے ہی پوری ہوتی ہیں ہمیں دوسروں کی ضرورتوں کا خیال ڈسنے لگتا ہے۔ اخوت ٹرسٹ ہمیں سبق دیتا ہے کہ ہم پاکستانی قابل اعتبار لوگ ہیں۔ ہم نیک دل لوگ ہیں ۔ ہم مشفق اور محبتی لوگ ہیں۔ ہم اچھے لوگ ہیں۔ ہم انسانوں کی ضرورتوں میں تخصیص نہیں کرتے۔ غربت کے ایام میں فرقے نہیں جانچتے، انسانوں کو علاقوں کی بنا پر نہیں پرکھتے۔ ہم مذہب کی بنیاد پر بھی تقسیم نہیں کرتے۔ رنگ اور نسل کی بنیاد پر بھی تفریق نہیں کرتے۔

اخوت ٹرسٹ ایک خوبصورت ، بے مثل اور بے لوث پاکستان کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ ادارہ سیاسی نہیں ہے اس کو حکومتوں سے غرض نہیں ہے ۔ یہ مست ملنگوں کا ڈیرہ ہے۔ ’’جہاں خدمت خلق شعار ہے‘‘۔ ’’جہاں محبتوں کا ڈیرہ ہے‘‘۔ جہاں اخوت کا پرچار ہوتا ہے۔ جہاں بھائی چارے کا رواج ہے۔