آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرنیٹ کی ترقی و توسیع، اثر پذیری اور رغبت و میلان کے بڑھتے رجحان کےساتھ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بننے والے تعلیمی آلات سے آن لائن تعلیم و تدریس کے ذریعے روایتی تعلیم و تدریس اورامتحانی نظام میں’’ تبدیلی‘‘ آگئی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے آن لائن کورسز، سرٹیفکیٹس اور آن لائن امتحانی نظام تشکیل پا گیا ہے۔ گوگل کی تعلیمی کاوشیں، تعلیمی ایپس،ای بکس، سب نے مل کر روایتی امتحانات کے ساتھ روایتی اسکول،کالج ، یونیورسٹی اور فنی اداروں کی ساخت تبدیل کردی ہے۔ ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کے ثمرات افریقہ جیسے تیسری دنیا کے ممالک کو تیزی سے تبدیل کررہے ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں موجود کچھ اسکولوں میں آن لائن کیمپس بن چکے ہیں، جن کے روابط ترقی یافتہ ممالک کےتمام ورچوئل اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں سے ہیں۔ ایسے اسمارٹ کیمپس بن رہے ہیں، جہاں آڈیو، ویڈیو لرننگ کیلئے درکار نیٹ ورک اور ایجوکیشن ٹیکنالوجی کے تمام ضروری آلات نصب ہیں۔

سالانہ امتحانات اور ابھرتی مارکیٹ

رووایتی نظام تعلیم میںسہ ماہی و سالانہ امتحانی نظام کو ملاحظہ کرتے ہوئے ٹیکنالوجی مارکیٹ میں نت نئی ایجادات کی رفتار کے ساتھ ’’جاب مارکیٹ اسکل ٹرینڈز‘‘ دیکھیں تو ہمیں اپنی تعلیمی قابلیت اور نئی مارکیٹ ڈیمانڈ میں بہت بڑا فرق نظر آئے گا۔جاب مارکیٹ کی ترجیحات ہر سال بدلتی رہتی ہیں۔تحقیق کی دنیا میں آئے روز نئی ایجادات حیران کر دیتی ہیں۔ٹیک فرمز کے مابین مسابقت کی رفتار اعصاب شکن ہوتی جارہی ہے۔صنعتوں میں ایسے ماہر ملازمین درکار ہیں،جن میں کچھ منفرد کرنے اور بننے کی لگن موجود ہو اور کچھ نیا کرنے چاہتے ہوں۔ ماہرین کہتے ہیں نصاب سےسہ ماہی، ششماہی اورسالانہ امتحانات کے ذریعے طالب علموں کی ذہنی لیاقت جانچنے کا موجودہ سسٹم پرانا ہوچکاہے۔ہمیں بھی جاب مارکیٹ،کیریئر پلاننگ،ہنر مندی اور آداب و اطوار کےلیےتعلیم میں قابلیت کے نئے پیمانے بنانے ہوں گے۔

2018ء میں ای لرننگ ٹرینڈز

ای لرننگ اب امریکا، آسٹریلیا، فن لینڈ، کینیڈا، برطانیہ، چین اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اپنی بنیادیں پختہ کرچکی ہے۔ ای لرننگ ٹرینڈجدید دور میں ’’پرسنلائزڈ لرننگ‘‘ بن کر سامنے آیا ہے۔ طالب علموں کے لیے اپنے ذوق اور شوق کے مطابق کوئی ہنر سیکھنا، کوئی نئی بات معلوم کرنا، کسی کتاب یا خیال تک رسائی صرف ایک کلک کےفاصلے پرموجود ہے۔ 77فیصد امریکی کمپنیاں آن لائن خدمات لے رہی ہیں۔ اداروں سے زائد اسٹاف ختم کرکے انتہائی ناگزیر ماہرین کو رکھا جارہا ہے۔ گھر بیٹھے ایجوکیشن ٹیکنالوجی کےتحت بننے والے ٹیک آلات نے تعلیم و تربیت اور تدریس کے انداز تبدیل کر دئیے ہیں۔

ورچوئل اور آگمینٹڈ ریئلٹی

ورچوئل ریئلٹی(VR) کا استعمال انتہائی نازک معاملات اور پیچیدہ کارروائیوں کےلیےٹیچنگ اسکلز میں ہوتا ہے جبکہ آگمینٹڈریئلٹی(AR) کیو آر کوڈ سے معلومات تک فوری رسائی کا ہنر ہے۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی سے لیس مخصوص گلاسز اور ہیڈ سیٹس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ معلومات کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنے کا تجربہ ہی بذاتِ خود ایسا ہے کہ طالب علموں کی تخلیقی صلاحیتیں سوا ہوجاتی ہیں۔

انٹیلی جنٹ اسسٹنس

اس وقت مصنوعی ذہانت کے میدان میں جذبات شناس روبوٹس کی تیاری پر کام ہورہا ہے، جو انسانی جذبات کی مانند آپ سے کلام کریں گے۔ آٹو میٹڈ کمپوزنگ میں آٹو میشن کے انقلاب سے تعلیم و تربیت ذاتی شوق پر مبنی ہوجائے گی۔ مستقبل کے تعمیراتی آرکیٹیکچر اس وقت ماحول دوست تصور کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

ایجوکیشنل گیمز،پرسنلائزڈ لرننگ

ایجوکیشنل اسٹیم گیمز نے تعلیم و تربیت کے اطوار بدل دئیے ہیں۔ ساتھ ہی ضرورت کے مطابق ذاتی ہنر سیکھنے کے لیے آن لائن شارٹ کورسز کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یو ٹیوب نے مائیکرولرننگ اور ویڈیو پر مبنی تعلیم میں انقلاب پیدا کردیا ہے۔ اس نقلاب کا پیش خیمہ سوشل میڈیا ہے، جس نے علم و دانش تک رسائی آسان بنادی ہے۔ آج کل یہ سوشل لرننگ کے دائرے میں آتی ہے۔ اب کسی بھی ہنر کو سیکھنے کے لیے آپکا آن لائن استاد، رہنما اور بزرگ موجود ہے۔

لرننگ مینجمنٹ سسٹم

لرننگ مینجمنٹ سسٹم( Learning Management System )آن لائن ٹریننگ انیشیٹیو کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے ذریعے طلبہ و طالبات بآسانی اپنے من پسند شارٹ کورسز کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی لیکچرز نوٹس بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

موبائل لرننگ،بلینڈڈ لرننگ

موبائل یا اسمارٹ فون کو اب ہم اپنی زندگی سے دور نہیں کرسکتے۔ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے رابطے کا تیز ترین ذریعہ اب یہی ہے۔ بیٹری چارجنگ کو خودکار بنانے کے ساتھ نئےمٹیریل سے بنائے جانے والے اسمارٹ فونز کے نئے ماڈلز حیرت کے کئی سامان لیے ہوئے ہیں۔ بلینڈڈ لرننگ میںاب سائنس فکشن فلمیں نئی تھیوریز دیتی ہیں، جن کے لکھاری بھی سائنس داں ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نے تعلیم یافتہ بننا ہے یا غیر تعلیم یافتہ کیونکہ ڈیجیٹل دور میں اب کم وسائل کا عذر نہیں چلے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں