آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات10؍جمادی الاوّل 1440ھ 17؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بالوں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں، جیسے کہ خشک، آئلی، ملے جلے، گھنگھریالے، سلکی اور سیدھے وغیرہ۔ سرکی جِلد کے چربی کے غدودجس مقدار میں تیل خارج کرتے ہیں، بالوں کی اقسام اسی تیل کے اخراج پر محیط ہوتی ہیں۔ اگر یہ گلینڈزیادہ مقدار میں آئل کااخراج کریں توبال آئلی یعنی چکنے ہوں گے۔ اسی طرح اگر یہ کم تیل پیدا کریں توبال روکھے اور بے جان ہوجاتے ہیں۔ وہ خواتین جن کے بال خشک ہیں، انھیں بالوں کے حوالے سے سردموسم میں نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ خشک ہوا ان کے بالوں کو مزید روکھا اور بے جان بنادیتی ہے، جس کے نتیجے میں اکثر خواتین کے بال اور سر کی جِلد خشکی اور سِکری کا شکار ہوجاتی ہے۔

سر کی خشکی یا سِکری (Dandruff) سر کی جِلد میں پیدا ہونے والی ایسی کیفیت کا نام ہے، جس کے باعث وہاں بھوسی جیسے سفید چھلکے پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ چھلکے سر کی سطح پر جمع ہوتے ہوتے، ذرات کی شکل میں شانوں پر گرنے لگتے ہیں۔ سرکی خشکی کو ایک طرح کا انفیکشن بھی قرار دیا جاسکتا ہے، تاہم اسے صرف ایک انفیکشن سمجھنا دُرست نہیں ہوگا۔یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے انسان کو اکثر و بیشتر شرمندگی سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جب آپ کو اپنے شانوں پر خشکی گری نظر آتی ہے اور سر میں بار بار کُھجلی ہوتی ہے تو آپ خود کو سماجی طور پر پریشان محسوس کرتے ہیں۔ خشکی، سر کی تکلیف کی ایک ایسی شکل ہے، جس سے ساری دنیا کے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق، اٹھارہ سال کی عمر سے زیادہ کے تمام مردوں اور عورتوں کی بیس فی صد تعداد خشکی کے مسئلےسے دوچار ہوتی ہے۔ اس میں سے پانچ فی صد لوگ ڈینڈرف کے شدید حملے کا شکار ہوتے ہیںاور ان کے سروں سے بے تحاشا بھوسی جھڑتی ہے۔ ان کے شانوں اور قمیض کے کالروں میں چھوٹے چھوٹے سفید چھلکوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے یہ ایک ایسا مسئلہ ہوتا ہے، جس سے وہ برسہا برس سے نبردآزما ہوتے چلے آرہے ہیں، جب کہ بعض لوگوں کے سروں میں یہ بیماری وقتاً فوقتاً پید ا ہوتی رہتی ہے۔

سرکی قدرتی چکنائی وہ تیل ہے، جسے Sebum کہا جاتا ہے۔ اس کے غدود سرکی جِلد کے عین نیچے واقع ہوتے ہیں۔ گندگی اور غیرمعیاری شیمپو کے استعمال سے سیبم کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ڈینڈرف پیدا ہونے میں فنگس اور سیبم کا ملاپ سب سے بڑی وجہ ہوتا ہے۔

اس کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ فنگس ایک طرح کی پھپھوندی ہے، جو سر کی نارمل جِلد پر بھی پائی جاتی ہےاور عام طور پر کسی نقصان کا باعث نہیں بنتی تاہم سرکی جِلد سے پیدا ہونے والا اضافی تیل (Sebum)پھپھوندی کے لیے زبردست خوراک ثابت ہوتا ہے اور یوں سر کی جِلد پر فنگس کی افزائش شروع ہوجاتی ہے۔ یہ فنگس سر کی جِلد سے جھڑنے والے مردہ خلیات میں اضافہ کردیتا ہے اور سر کی مردہ کھال سے جھڑنے والے چھلکے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اسٹریس اور ہارمونز کی تبدیلیاں بھی خشکی کی افزائش میں حصہ دار بنتی ہیں۔

سرکی خشکی کا علاج

انسان جو غذا کھاتا ہے وہ اس کی صحت، بالوں اور جِلد سے جھلکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرکی جِلد کی خشکی سے جان چھڑانے کے لیے سب سے پہلے آپ کو اپنی غذا کا جائزہ لینا ہوگا۔ متوازن غذا کھائیں جن میں زنک، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن ای شامل ہو۔ پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ چینی اور اس سے تیار کردہ اشیا کا استعمال کم کردیں۔ ماہرین کے مطابق خشکی، میٹھی اور خمیری غذاؤں کی بدولت پھلتی پھولتی ہے۔ لہٰذا اگر آپ مندرجہ بالا تجاویز پر عمل کریں تو خشکی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اینٹی ڈینڈرف شیمپو

عمومی طور پر لوگ سرکی خشکی کو قابو میں رکھنے کے لیے کسی اچھے اور معیار اینٹی ڈینڈرف شیمپو کا استعمال کرتے ہیں، جو اچھا خاصا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ شیمپو کرتے وقت اچھی طرح سر کا مساج کریں، تاکہ سر کی جِلد کےساتھ آپ کے بال بھی صاف ہوجائیں۔ مارکیٹ میں دستیاب عمومی اینٹی ڈینڈرف شیمپو اس وقت تک مؤثر ثابت ہوتے ہیں، جب تک ان کا استعمال جاری رکھا جائے۔ اینٹی ڈینڈرف شیمپو کا استعمال ترک کرتے ہی خشکی پھرنمودار ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ کو بھی یہ مسئلہ درپیش ہے تو مزید رہنمائی کے لیے جِلد کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

خشک بالوں کی حامل خواتین خصوصاً موسم سرمامیں ہفتے میں صرف ایک بار شیمپو کریں اور شیمپو بھی وہ جوخشک بالوں کے لیے تیارکیاگیا ہو اورآپ کے بالوں کونمی فراہم کرکے نرم وملائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

بالوں کوشیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر کااستعمال ضرورکریں چاہے۔ سردی ہویا گرمی، کنڈیشنر لازمی کریں اور اپنے بالوں کوروزانہ برش کرنے اور سر کےمساج کی روٹین بنالیں۔ اس عمل سے آپ کی سر کی جِلد میں آئل گلینڈز متحرک ہوکرآپ کے بالوں کوزندگی ورونق بخشیں گے۔

ہفتے میں ایک بار اپنے بالوں میں ناریل یابادام کے تیل سے ضرور مساج کریں اور سرکی جِلد کوتیل سے تر کرلیں۔ اس کے بعد آپ بالوں کوشیمپو کریں لیکن دھیان رہے کہ بالوں کوگرم پانی سے کبھی مت دھوئیں۔ اس سے آپ کے بالوں کاموئسچر اُڑجاتا ہے اور آپ کے بال مزید خشک ہوجاتے ہیں۔

اپنے بالوں پر ربڑبینڈیارولرزکااستعمال نہ کریں۔ اس سے بال ٹوٹنے کاخدشہ ہوتا ہے اور نہ ہی بیک کومبنگ کریں۔

مناسب اور صحت بخش غذائیت سے بھرپور ڈائٹ پلان آپ کے بالوں کوخوبصورت ولچکدار بنانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اپنی غذا میں مکھن، کریم، انڈے، تازہ پھل، سبزیاں، دودھ، دہی، پنیر اور خشک میوہ جات وغیرہ شامل کریں۔ خشک بالوں کی حامل خواتین ہیئر ڈرائیر، اسٹرینز اور ہیئر اسپرے سے اپنے بالوں رکھیں۔ دھوپ میں جب بھی گھر سے باہر نکلیں اسکارف، ہیٹ یادوپٹے سے اپنے بالوں کواچھی طرح ڈھانپ لیں کیونکہ دھوپ بالوں کوخراب کرنے میں اہم کردارادا کرتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں