• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’آسان یا مشکل راستہ‘، ٹرمپ کی ایک بار پھر حماس کو غیر مسلح ہونے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر حماس سے فوری طور پر غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ حماس یہ کام ’آسان طریقے سے یا مشکل طریقے سے‘ کر سکتی ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حماس تمام وعدے فوراً پورے کرے جس میں آخری اسرائیلی قیدی ران گویلی کی لاش کی واپسی اور مکمل طور پر حماس کا غیر مسلح ہونا شامل ہے۔

امریکا کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس کی باقی ذمہ داریاں اب بھی پوری نہیں ہوئیں۔ دوسرے مرحلے میں امریکا حماس کے اسلحے کے خاتمے اور ایک بین الاقوامی امن فورس کی تعیناتی پر کام کرے گا تاہم حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ سے مکمل انخلا نہیں کرتا وہ اسلحہ نہیں چھوڑے گی۔

دوسری جانب اسرائیل جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور مشرقی غزہ کی نام نہاد ’ییلو لائن‘ سے فوجی انخلا بھی نہیں کیا۔ اسرائیل نے امدادی سامان کی فراہمی بھی محدود کر رکھی ہے۔

جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی انتظام سنبھالے گی جس کی نگرانی ایک ’بورڈ آف پیس‘ کرے گا جس کے صدر امریکی صدر ٹرمپ ہوں گے۔

واضح رہے کہ غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت برقرار ہے۔

اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں کے مطابق اسرائیل نے مطلوبہ مقدار میں انسانی امداد کی اجازت نہیں دی جس کے باعث انسانی بحران بدستور سنگین ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید