آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹ کی فیلڈ میں ہم کمزور ہیں، کلاسک کہانیاں تھیٹر پر آئیں تو شاید کچھ فرق پڑے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے اگلے برس ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی (اصغر ندیم سید)
ایک ہی پیٹرن پر ڈرامے تیار کر لینا بڑی بات نہیں۔میرے خیال میں نئے برس کے لیے نئے رجحانات اور خیالات اجاگر کریں (انورمقصود)
اقدار کے منافی کہانیوں کو سختی سے چیک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ٹی وی کے لیے پلاننگ کرنا ہو گی ورنہ مستقبل میں ٹی وی نظر نہیں آئے گا (حسینہ معین)

آرٹ کی ہر قسم پیسہ بنانے کے لیے نہیں ہوتی۔ تبدیلی، بتدریج آئے گی۔امید ہے کہ نئے برس دیگر شعبوں کی طرح ڈراما اور تھیٹر بھی اپنی اصل روح کے مطابق معاشرے کا حصہ بنیں (طلعت حسین)

زمانے کی تبدیلی اور نت نئی ٹیکنالوجی آنے کے بعد موضوعات کو وسعت دینی چاہئے۔ گھریلو مسائل پر تو ڈرامے بن جاتے ہیں لیکن تعلیم جیسے اہم موضوع پر کوئی ڈراما نظر نہیں آتا (تاجدار عادل)

ڈراما بنانے والے چاہتے ہیں کہ کم سے کم پیسے میں کام ہوجائے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ڈراما بہت بڑی ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کو محسوس نہیں کیا جا رہا۔(سیما غزل)

اصغر ندیم سید

تھیٹر کے حوالے سے بات کی جائے تو گزشتہ برس کوئی خاص کارکردگی دیکھنے میں نہیں آتی ہے،کیونکہ تھیٹر میںچند ایک گروپ ہیں جو سال میں ایک آدھ کام کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ایک انور مقصد کا پلے تھیٹر کیا گیا تھا ،ثانیہ سید کا بھی ایک ڈراما تھیٹر ہوا تھا اور اجوکا تھیٹربھی پیش کیا گیا تھا۔ بس یہ چند لوگ میں جو تھیٹر کو حیات بخش رہے ہیں اور ان کی پروڈکشن ظاہر ہے سال میں ایک یا دو مرتبہ ہوتی ہے۔ پاکستان کے لئے یہ کوئی اچھی مثال نہیں ہے کہ تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹ کی فیلڈ میں ہم کمزور ہیں اور اس میں ہمیں انسٹی ٹیوشنل سپورٹ لینا ہے،کیونکہ اس پر لوگوں کا رجحان نہیں ہے۔ لہٰذا اس بنیاد پر ہم اپنے تھیٹر کو کھو رہے ہیں ،بچا نہیں پا رہے۔ اگرچہ ’’ناپا‘‘ نے کوششیں کی ہیں لیکن ظاہر ہے وہ اکلوتے ادارے کے طور پر کوشش کرتے ہیں اس سے مسئلہ حل نہیں ہو پاتا۔ یہاں مناسب تھیٹر ہالز نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے لئے جو کلچر چاہے وہ مزاج پنپ نہیں سکا،لہذاان کی طرف سے ڈیمانڈ بھی نہیں ہے،اسی طرح لوگوں کی خواہش بھی نہیں ہے کہ اچھا تھیٹر دیکھیں۔ کلاسک کہانیاں تھیٹر پر آئیں تو شاید کچھ فرق پڑے۔ بہرحال حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے اگلے برس ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی، کیونکہ یہ چیزیں ایک تحریک کی شکل میں چلتی ہیں۔ اگر زیادہ کام کریں ،مقابلہ کریں اورمعاشرہ انہیںحوصلہ دے تو مواقع بھی زیادہ پیداہوں اور یہ کلچر سارا سال رہے تو بہتری نظر آتی ہے، لیکن یہاں ایسا نہیں ہے اس لئے ہم بہت پیچھے جا رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں تھیٹر اپنی جگہ ایک بڑی فیلڈ اور میڈیم ہے جس کی بہت اہمیت ہے۔

اسی طرح ٹی وی ڈراموں کی بات کی جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے صرف اور صرف لوئر مڈل کلاس کی عورت کو موضوع بنایا ہوا ہے۔ جو ایک غلط رجحان ہے کیونکہ ڈراما سازی میں مختلف موضوعات زیادہ بہتر ہوتے ہیںکہ کم از کم آپس میں مقابلہ توکرایا جاتا ہے۔ آجکل ڈراموں میں ’’عورت‘‘ کو موضوع بنا کر ایک ’’بھیڑ چال‘‘کا شکار ہو گئے وہیں۔ ڈراما ایک ہی موضوع لئے ہوئے ہے۔اکثر ڈراموں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ کہیںمحبت ہو رہی ہے،کہیں بے وفائی ہے ،کہیں دھوکا دیا جا رہاہے۔ ماں، باپ ’’ڈمی‘‘ بن گئے ہیں یعنی یہ موضوعات یا کہانیاں ہماری سوسائٹی کی عکاس نہیں ہیں۔ ہماری اردو اور پاکستان کی دیگر زبانوں کا وسیع لٹریچر ہے۔ انگریزی ادب میں بھی کئی خوب صورت ڈرامے ہیں۔ ہماری کہانیوں میں ایسے ادب کا عمل دخل ہونا چاہئے جو کہ نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا بڑا طبقہ لوئر مڈل کلاس ہے کیا اس کے یہی مسائل ہیں،شادی بیاہ اور گھریلو تنازعات جیسے موضوعات کہانی کی بنیاد بن گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں مشرقی لڑکیاں ہائر ایجوکیشن میں پڑھ رہی ہیں اور پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے مسائل سامنے نہیں لائےجاتے کیونکہ ڈرامہ لکھنے والوں نے شاید کبھی کالج کی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی۔انہیں کیا پتہ اس وقت تعلیم یافتہ نوجوان نسل کے مسائل کیا ہیں۔ شادی تو ان کا سرے سے ایشو ہی نہیں ،جسے آج کے ڈرامے میں بڑھا چڑھا کر بتایا جا رہا ہے۔ یہ آرٹ کی خدمت نہیں ہے، مجھے نئے لکھنے والوں سے اختلاف نہیں بلکہ ہمدردی ہے۔لہٰذا اس نقطہ نظر کے ساتھ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی تبدیلی یا بہتری آئے گی۔

جہاں تک ثقافتی پالیسی کی بات ہے،درحقیقت ہمارے ہاں کوئی ثقافتی پالیسی ہے ہی نہیں۔ آپ غور کریں کہ ہمارے ہاں کلچرل پالیسی بناتا کون ہے ؟سرکاری افسروں سے کہا جاتا ہے کہ پالیسی بنائو، وہ اپنے جاننے والے چند دوست احباب جمع کر کے کام شروع کرتے ہیں۔ ان میں بھی آپس میں اختلافات ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ایک ’’نکّمی‘‘ قسم کی کلچرل پالیسی سامنے آتی ہے، جس کا فائدہ نہیں، جبکہ کلچرل پالیسی زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بنانی چاہئے۔ لہٰذا ان حالات میں میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بہت بڑابریک تھرو ہو گا۔ کیونکہ سرکار کو کلچرل سرگرمیوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ وہ اپنے معاشی مسائل میں الجھی ہوئی ہے۔

انور مقصود

امید ہے کہ نیا سال ڈرامے اور تھیٹر کے لیےاچھا ثابت ہو۔جیسا کہ سب ہی جانتے ہیں کہ یہاں تھیٹر بہت کم ہوتاہے،جبکہ ڈرامے کی بہتری کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں تبدیلی لائیں۔اب جو لوگ لکھ رہے ہیں انہیں اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ کام میں وارئٹی لائیں ۔ایک ہی پیٹرن پر ڈرامے تیار کر لینا بڑی بات نہیں۔میرے خیال میں نئے برس کے لیے نئے رجحانات اور خیالات اجاگر کریں۔اس ظمن میں حکومت کو بھی اہم کردار ادا کرنا چاہیے لیکن ابھی نئی حکومت ہے اسے وقت دیں۔

حسینہ معین

آج کے ٹی وی ڈراموں کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ موضوعات کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔گزشتہ برس بھی کچھ ایسا ہی تاثر سامنے آیا،ایک ہی خیال یا موضوع کو ہائی لائٹ کیا گیا۔زیادہ تر عورت پر ظلم و ستم ہی دکھایا جاتا ہے اور روتی پیٹتی عورت پوری کہا نی کا مرکز ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ایک نیا ٹرینڈ یہ بھی چلا ہے کہ بولڈ ٹاپکس پر ڈرامے بن رہے ہیں۔خاص کر ایکسٹرامیریٹل افئیرز پر مبنی ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں۔یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ حقیقت پر مبنی ڈرامے اور ٹوسٹ پر مبنی کہا نیوں میں لوگ دل چسپی لیتے ہیں،لیکن شاید یہ کسی نے نہیں سوچا کہاان بولڈ ٹاپکس کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ایسا لگتا ہے لوگوں کو احساس نہیں ہے نہ لکھنے والے کو اور نہ ہی ڈائریکٹ کرنے والے کو،وہ یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں یہی کچھ تو ہو رہا ہے ،لیکن انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ایسا معاشرے میں ہورہا ہے تو20فی صد طبقے مین ایسا ہوگا،ہر جگہ ایسا نہیں ہے۔اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آپ 80فی صد طبقے کو یہ دکھا کر جوش دلادیتے ہیں کہ ایسا ہر جگہ ہی ہورہا ہے،یا ہوسکتا ہے،یعنی ڈرامے کا پیغام بہت اہمیت رکھتا ہے۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اتنی بولڈ کہانیاں دکھا کر نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے،ان کے لیے گھروں سے بھاگ جانا بھی آسان ہے توشادیوں پہ شادیاں کرنا بھی سہل بنا دیا گیا ہے،یا راتوں میں آزادی سے گھومنا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ڈراموں میں دکھائی جانے والی یہ سب باتیں چھوٹے چھوٹے پیغام رکھتی ہیں،جو نا پختہ ذہنوں پر جمتے جاتے ہیں۔لازمی سی بات ہے ااس کا نتیجہ آج نہیں تو کل تو نکلے گا ۔ایسا لگتا ہے کہ کوئی سینسر بورڈ تو ہے ہی نہیں،نہ ہی اسکرپٹ ایڈیٹر ہوتا ہے جو تبدیل یا تصیح کر سکے،جیسا کہ پہلے پی تی وی میں ہوتا تھا،اب پتہ نہیں وہاں ایسا ہے یا نہیںلہذاسینسر شپ ضروری ہے۔حکومت کو چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہیے اور اقدار کے منافی کہانیوں کو سختی سے چیک کرنے کی ضرورت ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ تعداد بڑھ گئی اور معیار گھٹ گیا ہے۔آج سوشل میڈیا مضبوط ہوگیا ہے ہمیں ٹی وی کے لیے پلاننگ کرنا ہو گی ورنہ مستقبل میں ٹی وی نظر نہیں آئے گا،جیسے ماضی کی کئی روایتیں ختم ہو گئی ہیں۔ہمیں کہانی پہ زور دینا ہوگا۔یہ درست نہیں کہ بڑے رائٹر اپنے ساتھ چھوٹے رائٹر رکھ لیتے ہیں،مرکزی خیال یا کہانی بڑا رائٹر لکھ دیتا ہے اور جونئیر رائٹر سیٹ پر سین لکھ رہا ہوتا ہے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کہانی میں جھول پیدا ہوجاتا ہے،اسکرپٹ کی بول چال بدل جاتی ہے۔اس طرح ہماری تہذیب متاثر ہو رہی ہے۔مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کیا کررہی ہیں،میں کہتی ہوں کہ میں کچھ نہیں کرسکتی۔میں نے چالیس برس ڈرامے بنائے آپ دیکھ لیں آج تک کوئی اعتراض نہیں۔بیماری میں میں نے آٹھ دس برس کام نہیں کیا،تاہم اب میں ایک ’’انکل عرفی‘‘کا ری میک لکھ رہی ہوں۔نئے سال کے لیے ایک فلم بھی بنا رہی ہوں۔

طلعت حسین

گزشتہ برس بننے والے ٹی وی اور تھیٹر ڈرامے کم و بیش مناسب رہے۔کام ہورہا ہے یہ بھی خوش آئند ہے تاہم تبدیلی بتدریج آئی ہے۔ڈرامے کے حوالے سے بنیادی طور پر میری ایک بہت پرانی تھیوری ہے، یونان سے جب ڈراماجدید یورپ میں داخل ہو کربرطانیہ تک پہنچا تووہاں اس نے ’جدیدڈرامے‘ کی شکل اختیار کر لی،جبکہ ہماری تہذیب شاعری کی ہے۔اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں،شیکسپئیر کے زمانے کے بھی حالات تبدیل ہوئے،لیکن شاعری اپنی جگہ رہی۔ہمارے دین میں حقوق العبادکی بہت اہمیت ہے،ڈراما چاہے تھیٹر کا ہو یا ٹی وی کا ،حقوق العباد کے بارے میں ہی ہوتا ہے۔ کیوں کہ ڈرامے میںحقوق العباد کے بارے میں ’’کانسیپٹ‘‘ہوتا ہے۔ہم اسے اب اپنا رہے ہیں،لیکن اب حالات بدل رہے ہیں،خاص کر تھیٹر ڈرامے کی شکل ہی بدل گئی ہے۔اب آہستہ آہستہ تھیٹر پرورش پا رہا ہے اور لوگ اس کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

اچھا ڈراما پی ٹی وی کے زمانے میں ہوتا تھا۔اس دورمیں ایک ٹیلی وژن تھا اوردس پندرہ لکھاری تھے،وہ بھی اعلی درجے کے۔اب ہمارے پاس پچاس کے قریب چینلز ہیں اور لکھاری نہیں ہیں۔وہی نپی تلی کہانیاں ہیں ،ساس بہو کے جھگڑوں پر کہانیاں لکھی جارہی ہیں۔یعنی اب وہ ڈراما نظر نہیں آرہا جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا۔اس کی بہتری اور معیار کو بڑھانے کے لیے ہمیں اس کی اصل روح کے مطابق کام کرنا ہوگا،کیوں کہ آرٹ کی ہر قسم پیسہ بنانے کے لیے نہیں ہوتی۔یہ تبدیلی بتدریج آئے گی۔امید ہے کہ اگلے برس دیگر شعبوں کی طرح ڈراما اور تھیٹر بھی اپنی اصل روح کے مطابق معاشرے کا حصہ بنیں۔

تاجدار عادل

خصوصاً گزشتہ برس اور اس سے بھی کچھ عرصہ پہلے سے ہمارے ہاں ٹی وی ڈراموں کے موضوعات کا فقدان نظر آتا ہے۔ خاص کر گھریلو مسائل و تناز عات کو ڈرامے کا موضوع بنایا جاتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں زیادہ ترمسائل خواتین کے پیدا کردہ دکھائے جاتے ہیں اور ان ڈراموں کو لکھنے والی بھی اتفاق سے خواتین ہی ہیں، جبکہ ماضی میں حسینہ معین اور بجیا ڈرامے لکھتی تھیں ان میں عورت کے مثبت کردار کو موضوع بنایا جا تا تھا، کہ کس طرح عورت معاشرے میں اپنے حق کے لئے کوشاں رہتی ہے، لیکن آج ڈرامے میں خواتین کے کردار کو محدود کر دیا گیا ہے۔ پروڈکشن بلاشبہ اچھی ہے لیکن ’’کانٹینٹ‘‘ پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خاص کر زمانے کی تبدیلی اور نت نئی ٹیکنالوجی آنے کے بعد موضوعات کو وسعت دینی چاہئے۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لئے مثبت فکراجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ظاہر ہے ہم ابلاغ سے ہی کر سکتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ گھریلو مسائل پر تو ڈرامے بن جاتے ہیں لیکن تعلیم جیسے اہم موضوع پر کوئی ڈراما نظر نہیں آتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ڈراموں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور معیار کا خیال بھی رکھا نہیں جا رہا۔ وہی گھسے پٹے موضوعات متواتر چل رہے ہیں۔ دنیا بھر میں ڈرامے کے لئے ’’کانٹینٹ‘‘ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ساری توجہ ڈرامے کے خیال پر دینی چاہئے تاکہ خیال مضبوط اور معیاری ہو۔ معاشرے کی اصلاح کے لئے کام کرنا ضروری ہے،تاہم کراچی میں تھیٹر کے حوالے سے خاصا کام ہوا ہے۔ خاص کر آرٹس کونسل اور ناپا نے بہت معیاری کام کیا ہے لیکن عموماً تھیٹر جس قسم کا ہونا چاہئے ویسا نہیں ہو رہا۔ کیونکہ یہاں ہالز کی بہت کمی ہے۔ ٹی وی ڈرامے کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ تکنیکی حوالے سے ٹی وی ڈراما بہت ترقی کر چکا ہے،کیوں کہ کسی بھی معاشرے میں بے ترتیبی اور انتشار نہیں ہونا چاہیے۔ٹھوس تہذیب اور ترقی ہونی چاہیے۔اس کے لیے جو معیار ہے وہ سب جانتے ہیں کہ مشرق کے معیار الگ ہیں اور مغرب کے الگ،لیکن ایک بنیاد دونوں میں مشترک ہے جو تعلیم ہے،باصلاحیت لوگوں کو آگے لائیں۔گزشتہ برس تو بہت کچھ خاص دیکھنے کو نہیں ملا لیکن امید ہے کہ پالیسز ایسی بنیں کہ چیلنجنگ کام سامنے آئے۔

سیما غزل

پاکستانی ڈراموں اور تھیٹر کی بات کی جائے تو اس حوالے سے اگلے برس امید باندھنے سے پہلے اس کی کمزوریوں پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ مجموعی طورپر دیکھیں تو خاص کر ٹی وی و تھیٹر کےڈراموں کے حوالے سے صورتحال اچھی نظر نہیں آتی، لیکن فلموں کا معیار بہتر ہوا ہے اور جدید تیکنیک بھی استعمال ہوئی ہے۔ ڈرامے کے حوالے سے بات کی جائے تو صورتحال مایوس کن ہے ۔خاص کرکہانی یکسانیت کا شکار ہے،کیونکہ اب کچھ ایسے لوگوں سے لکھوایا جا رہا ہے جو پروفیشنل نہیں ہیں۔دراصل ڈراما بنانے والے چاہتے ہیں کہ کم سے کم پیسے میں کام ہوجائے۔ لوگوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ڈراما بہت بڑی ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کو محسوس نہیں کیا جا رہا۔ بعض لوگوں نے اسے بزنس بنا لیا ہے، لہٰذا انہوں نے معیار پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اسکرپٹ پر دھیان نہیں دیا جاتا۔ جملوں کی درستی بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔یہاں تک کہ اگر منفی کردار دکھانا ہو تو وہ اس قدر منفی ہو جاتا ہے کہ جس ے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ اگر آپ کوئی منفی کردار دکھانا چاہتے ہیں تو کم از کم رشتوں کا توخیال رکھیں۔ حال ہی میں ایک ڈراما م دیکھا ،جس میں ایک منظر میں بیٹا ماں کو کھانے پر ٹوکتا ہے اور غصہ کرتا ہے، اُس کا انداز ماں کے ساتھ انتہائی خراب دکھایا گیا تھا۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں،ٹھیک ہے کہ آپ غلط رویہ دکھائیں لیکن اس قدر نہیں کہ رشتے کی تضحیک ہو ،ماں کا رشتہ تو بہت بلند ہے۔آپ معاشرے کو کیا دے رہے ہیں، ایسی چیزیں دیکھ کر نئی نسل کیا سمجھے گی ۔اگر بدتمیز اولاد دکھانی ہے تو الفاظ کی ادائیگی کے دیگر طریقے ہیں،کیونکہ ماں کے ساتھ ایسا سلوک دکھانے کاکیا طریقہ ہے۔ بچوں کے دماغ پر کس طرح منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس بات کا خیال نہیں رکھا جا رہا بلکہ یہ کہ اب لکھنے والوں کی بہتات ہو گئی ہے۔ زیادہ تر ٹی وی ڈرامے کے ناظرین ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جو یا تو بہت نچلے طبقے سے ہوتے ہیں یا پھر مڈل کلاس سے ہیں، لہٰذا ان تکنیکی باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ غریب طبقے کو دکھا کر ان کا اٹھنا بیٹھنا اس قدر پر تعیش دکھایا جاتا ہے جو ذرا میل نہیں کھاتا۔ ہمیں ناظرین کوصحت مند تفریح فراہم کرنی چاہیے۔

گزشتہ برس میں نے چند ڈرامے دیکھے جس میں کچھ تو یکسانیت کا شکار تھے ،جبکہ کچھ نسبتاً بہتر تھے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے پیغام تھا ورنہ زیادہ ’’محبت ،شادی ، بیاہ اور خاندانی جھگڑوں سےنکل ہی نہیں پاتے۔ اس حوالے سے حکومت کو اپنی ذمے داری پوری کرنا چاہئے کہ ڈراما فلم یا تھیٹر ہماری تہذیب و تمدن سے نہ ہٹے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ غلط اردو بولتے یا لکھتے ہیں ان کی خدمات قطعاً حاصل نہ کی جائیں۔ کیونکہ ان میں سے اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہیں ابھی صرف پڑھنا چاہئے تھا اور وہ لکھ رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں