آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12؍رجب المرجب 1440ھ20؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چلغوزوں کی یاد جس شدت سے سردیوں میں آتی ہے، کسی اور موسم میں نہیں آتی لیکن چلغوزوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمت نے اسے نچلے طبقے تو کیا متوسط طبقے کی دسترس سے بھی تقریباً دور کردیاہے۔ بہر حال چلغوزے آپ کے پاس ہیں تو اس کے کئی فائدے بھی آپ پاسکتے ہیں۔

زمانہ قدیم سے لوگ چلغوزوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ رومن تاریخ کے مطابق 300 قبل مسیح میں رومن افواج میں  چلغوزے اپنی افادیت کی وجہ سے بہت مقبول تھے جبکہ امریکا میں اس کی کاشت 10ہزار سال سے کی جارہی ہے۔ زمانہ قدیم سے مصری طبیب ان کو ادویات کے طور پرتجویز کرتے آرہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ یورپ اور ایشیا میں بھی مقبول ہوتے چلے گئے۔

یہ پائن کےبیج ہوتے ہیں لیکن پائن درخت کی تمام اقسام چلغوزے پیدا نہیں کرتیں، صرف 20 اقسا م ایسی ہیں جن کے چلغوزے آپ ذوق و شوق سے کھا سکتے ہیں۔ چلغوزے کو تیار ہونے میں18مہینے لگتے ہیں اور کچھ اقسام میں تو تین سال بھی لگ جاتے ہیں۔ ان کی کلیاں کِھلنے سے دس دن پہلے انہیں اُتار لیا جاتاہے۔ چلغوزوں کا سائنسی نام Pinus gerardiana ہے، اس کے درخت مشرقی افغانستان، پاکستان اور شمال مغربی بھار ت میں پائے جاتے ہیں،  جو 1800 سے 3350میٹرکی بلندی پر اُگتے ہیں۔

توانائی کی تعمیر

چلغوزوں میں موجود مخصوص غذائی اجزا جیسے کہ مونوسیچوریٹڈ فیٹس، آئرن او ر پروٹین توانائی بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں موجود میگنیشیم اور کچھ دیگر غذائی اجزا تھکن سے بچانے اور جسم میں خلیوں کی مرمت کرنے کے کام آتے ہیں۔

چلغوزے کے فوائد

چلغوزےمیں فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں، جو بھوک بڑھانے کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے کیلئے بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ان میں موجو د میگنیشیم اور پروٹین دل کے امراض اور ذیا بطیس سے بچنے میںمدد کرتے ہیں۔ جسم کوتوانائی دینے کے علاوہ ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس حمل میں، قوتِ مدافعت بڑھانے، بینائی، بالوں اور جِلد کی صحت کیلئے فائدہ مند ہیں۔

ذیابطیس میں فائدہ مند

اگر آپ روزانہ چلغوزے کھا رہے ہیں تو آپ کو ذیابطیس ٹائپ ٹو کنٹرول کرنے میںمدد مل سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق بینائی کم ہونے کی پیچیدگیوں اور اسٹروک سے بھی چلغوزے محفوظ رکھتے ہیں۔ ذیا بطیس ٹائپ ٹو کے مریض جو چلغوزے روزانہ کھاتے تھے ان میں گلوکوز کنٹرول کرنے کی سطح بہتر اور برے کولیسٹرول کی سطح کم دیکھی گئی۔

دل کے امراض میں کمی

عام طورپر چلغوزوں کو دل کیلئے اچھا سمجھا جاتاہے۔ تحقیق سے پتہ چلتاہے کہ چلغوزے کھانے سے دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہونے والی اچانک اموات کے خطرے میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اس میںموجود مونوسیچوریٹڈ فیٹس، وٹامن ای، وٹامن کے، میگنیشیم اور مینگنیز مل کر دل کے امراض کے خلاف مضبوط ڈھال بن جاتے ہیں۔ ان میں موجود پائنولینک ایسڈ صحت مند کولیسٹرول کو سپورٹ کرتا ہے اور بُرے کولیسٹرول کا لیول کم کرنے میںمدد کرتاہے۔ وٹامن کے زخم کے دوران خون جمنے میں اور وٹامن ای سرخ خلیے پیدا کرنے کا کام انجام دیتاہے۔ اس سے فشارِ خون بھی کم رہتاہے۔

دماغی صحت میں بہتری

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ چلغوزے میں وافر مقدار میں آئرن اور ایک منرل جو آکسیجن کو اسٹور کرنے اور ٹرانسپورٹ کرنے کیلئے درکار ہوتاہے، پایا جاتاہے ۔ ان دونوں سے دماغ کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ کچھ رپورٹس یہ بھی کہتی ہیںکہ چلغوزے کھانے سے اینزائٹی، ڈپریشن اور اسٹریس کا علاج کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق غذا میں موجود میگنیشیم دوران ِ بلوغت ہونے والی ڈپریشن اور اینزائیٹی کی خرابیوں کو کم کرنے میں مدد کرتاہے۔ اسی لئے چلغوزے کھانے سے ان تمام معاملات میں بہتری لانے کےساتھ موڈ بھی بہتر ہوتا ہے۔

کینسر کا کم خطرہ

چلغوزے میں موجود میگنیشیم اور دیگر منرلز کینسر کی بہت سی اقسام کا خطرہ کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کےمطابق اگر ہر روز100ملی گرام سیرم میگنیشیم آپ کے جسم میں نہیں جارہاتو لبلبے کا کینسر ہونے کا خطر ہ 24فیصد تک بڑھ سکتاہے۔

وزن میں کمی

چلغوزے میں دل کو صحت مند رکھنے والے فیٹی ایسڈ پیٹ کی چربی گھلانےمیں بھی مدد کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق اپنی غذا میں سیچوریٹڈ فیٹس کو چلغوزوںسے بدل دیں، اس سے آپ کو وزن کم کرنے میںبہت مدد ملے گی۔ اس کیلئے آپ کو خرچ ہونے والی کیلوریز اور ایکسرسائز کے دورانئے میں اضافی تبدیلیاں بھی نہیں کرنی پڑیں گی۔

بالوں اور جِلد کی بہتر صحت

چلغوزوں میںموجود مختلف بنیادی غذائی اجزا جیسے کہ وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس جِلد کو حیرت انگیز فائدہ پہنچاتے ہیں۔ وٹامن Eاور اینٹی آکسیڈنٹس تو ویسے بھی اینٹی ایجنگ کیلئے مشہور ہیں۔ چلغوزوں میں موجود اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات اور آئل حساس جِلد کیلئے بہت موزوں ہے، یہ جِلد کی نشوونما کرتے ہیں اور بہت سی عام شکایات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ یہ جِلد میں نمی برقرار رکھنے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ وٹامن Eبالوں کی نشوونما بھی کرتا ہے اور اسکیلپ کو عمدہ حالت میں رکھتاہے ۔ اس کا تیل بال گرنے سے روکنے کیلئے اکسیر ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں