آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مثالیں ریاستِ مدینہ کی اور ترقی فلم انڈسٹری کی

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے تحریک انصاف کی حکومت ملک بھر میں سینما گھروں کی تعداد ایک ہزار تک بڑھائے گی۔ اس سلسلے میں فواد چوہدری کی ایک اہم امریکی سفارت کار سے بھی ملاقات ہوئی جس میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔ فلم اور میوزک انڈسٹری کی ترقی کے لیے حکومت رعایتوں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کا تعاون بھی دینے کے لیے تیار ہے۔ نہ صرف حکومت کا تہیہ ہے کہ وہ فلم انڈسٹری کو اپنے پائوں پر کھڑا کرے گی بلکہ ایک ٹی وی چینل کی خبر کے مطابق حال ہی میں حکومت نے فلم انڈسٹری سمیت کچھ دوسری صنعتوں کے لیے چھ ارب روپے کی سبسڈی کا بھی اعلان کیا ہے۔ چند روز قبل سعودی ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان فلم اور سینما کے میدان میں تعاون کرنے کی بات ہوئی اور اس سلسلے میں پاکستان سعودی عرب کی مدد کرے گا۔ یہ سب سن اور پڑھ کر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ وہ حکومت کر رہی ہے جس نے خواب تو ریاستِ مدینہ کے رول ماڈل کا دکھایا لیکن عملاً سودی کاروبار کو بڑھایا جا رہا ہے، فلم انڈسٹری کی ترقی اور سینما گھروں کی باتیں ہو رہی ہیں۔ فلم انڈسٹری کی ترقی کے نام پر بھارت کی جانب سے پاک دشمنی کی تمام حدود پار کرنے کے باوجود ہمارے سینما گھروں میں بھارتی فلمیں دکھائی جارہی ہیں۔ ہماری یا بھارتی فلموں میں کیا کچھ دکھایا جاتا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جس فلم انڈسٹری کے ترقی کے لیے حکومت اتنی پریشان ہے اُس سے پیسہ تو کمایا جا سکتا ہے، نوکریوں اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں لیکن ریاستِ مدینہ کا نام لینے والے اپنے اس اقدام کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کیسے Justify کر سکتے ہیں؟ فلم میں آئٹم سانگ یا کسی دوسرے بہانے فحاشی نہ شامل کی جائے تو اُسے کامیابی نہیں ملتی اور بھارتی فلم انڈسٹری اس کام میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری بھی بھارت کی نقالی میں تمام حدیں پار کر رہی ہے لیکن کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ بلکہ اب تو فلم انڈسٹری کو مزید ترقی دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ حکومت کے پاس سینما انڈسٹری کو تو سبسڈی دینے کے لیے پیسے ہیں، حکومت ملک بھر میں سینما گھروں کی تعداد کو تقریباً آٹھ دس گنا بڑھا کر ایک ہزار تک بھی پہنچانا چاہتی ہے لیکن حجاج کرام کے اخراجات میں کچھ رعایت دینے کے لیے حکومت کے پاس کچھ نہیں بلکہ پہلے سے دی جانے والی سبسڈی بھی واپس لے لی گئی ہے۔ ایک خبر کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے اس وقت حکومت 230ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے لیکن حج کی مد میں صرف ساڑھےچار ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی تھی، جو اب واپس لے لی گئی ہے۔ اس پر سیاسی جماعتوں اور عوام کی جانب سے اعتراض کیا جا رہا ہے کہ آخر حکومت ایک مذہبی فریضے سے سبسڈی کیوں واپس لے رہی ہے جبکہ باقی دیگر شعبوں کو یہ سہولت اب بھی فراہم کی جا رہی ہے، یہاں تک کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو کھانا بھی سبسڈی پر فراہم کیا جا رہا ہے۔ حج سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے کے دفاع میں حکومت کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حج تو صرف اُنہی لوگوں پر فرض ہے جو اس کے اخراجات کو برداشت کر سکتے ہیں۔ سینما انڈسٹری کی ترقی اور ہزار سینما گھروں کی تعمیر کی بات کرنے والی حکومت کیا بتانا پسند کرے گی کہ اس عمل کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کیا جواز ہے؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)