امریکا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں سفارش اور رشوت سے داخلوں کے بعد برطانیہ میں بڑا اسکینڈل سامنے آگیا ہے۔ چیٹنگ ویب سائٹس کے ذریعے برطانیہ میں پی ایچ ڈی کے مقالے خریدنے کے اسکینڈل نے تہلکہ مچادیا ہے۔
برطانوی اخبار کا دعویٰ ہے کہ ملک میں آن لائن ملز ہیں جو پی ایچ ڈی کے مقالے 4 لاکھ روپے سے 11 لاکھ روپے میں بیچ رہی ہیں۔
ملز کی فخریہ پیشکش ہے کہ کسی کے باپ کو بھی پتا نہیں چلے گا کہ مقالہ طالب علم نے نہیں، کسی اور شخص نے لکھ کردیا ہے، طالبعلم کا کام صرف پہلے صفحے پر اپنا نام لکھنا ہوگا، باقی مواد لکھا لکھایا مل جائے گا۔
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ بیچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدھار قم دو، آدھا مقالہ خرید لو، بقیہ رقم، بقیہ مقالہ خرید لو۔ استاد کو دکھاؤ، پسند نہ آئے تو مقالہ تبدیل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
شیکسپئر کے ناولوں پر مقالہ ہو یا نفسیاتی امور کے تجزیوں کا، سب ملے گا، ایک مل نے اعتراف کیا کہ اسے روزانہ 100 آرڈر ملتے ہیں، جن میں سے 15 سے 20 پی ایچ ڈی کے مقالوں کے ہوتے ہیں، 80 ہزار الفاظ پر مشتمل پی ایچ ڈی کا مقابلہ 4 ماہ میں تیار کر کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
اخبار میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ آن لائن فرمز کینیا میں پڑھے لکھے افراد سے مقالے لکھواتی ہیں۔
کنگز اکیڈمک مل نے طلبہ کے بھیس میں بات کرنے والے صحافی کو بتایا کہ وہ سالانہ 12ہزار برطانوی طلبہ کو مقالے بیچ رہی ہے۔ 12ہزار میں سے 50 خریدار آکسفورڈ اور کیمبرج میں پی ایچ ڈی کے طلبہ ہیں، تاہم آکسفورڈ اور کیمبرج نے لکھے لکھائے مقالوں پر پی ایچ ڈی ڈگری دینے کا الزام مسترد کردیا ہے۔
اخبار کے مطابق 46 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے چیٹنگ ویب سائٹس کے خلاف پچھلے برس وزیر تعلیم کو خط لکھ کر انہیں بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔