آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرح سلمان

امان پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ وہ نہایت رحم دل اور ہمدرد بچہ تھا۔ اس نے ایک طوطا پالا تھا ،جس کا نام اس نےٹوٹو میاں رکھا۔ جب وہ چھوٹا بچہ تھا، تب ایک دن وہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا۔ راستہ بھٹک کر وہ ادھر ادھر پھر رہا تھا۔تھک ہار کر وہ امان کے کمرے کی کھڑکی پرآ کر بیٹھ گیا ۔ امان نے جب ایک زخمی طوطے کے معصوم سے بچے کو دیکھا تو رہا نہ گیا اور اس نے امی، ابو سے ضد کرکے عارضی طور پر اپنے کمرے میں پناہ دے دی اور یہ وعدہ کیا کہ جب یہ ٹھیک ہوجائے تو وہ خود اس کو اڑا دے گا، مگر بعد میں جب امی اور ابو نے امان کی محبت ٹوٹوکے ساتھ دیکھی تو وہ بھی مجبور ہوگئے اور انہوں نے اسے رکھنے کی اجازت دے دی، اس طرح ٹوٹو میاں، امان کے گھر کے ایک مستقل فرد کی حثیت سے رہنے لگا۔

وقت گزرنے کے ساتھ، امان اور گھر والوں کی توجہ اور محبت پا کر ٹوٹو صحت مند ہوگیا۔ وہ طبیعتاً شرارتی تھا، جب ہی تو اپنی ماں کے لاکھ منا کرنے پر بھی گھونسلے سے نکل پڑا اور راستہ بھٹک کر زخمی ہوگیا تھا۔ ہر وقت نہ جانے اپنی زبان کیا بولتا رہتا ۔ بعض دفعہ امی بھی تنگ آجاتیں اور زور سے ڈانٹ دیتیں تو کچھ دیر منہ پھلا کر بیٹھ جاتا، مگر عادت سے مجبور پھردوبارہ شروع ہوجاتا۔ایک دن جب امان اسکول سے واپس آیا تو ٹوٹو میاں نے باقاعدہ ’’امان آگیا، امان آگیا‘‘ کا نعرہ لگایا تو امان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اس دن اس کے پائوں مارے خوشی کے زمین پر ہی نہ ٹک رہے تھے۔

دن اسی طرح گزرتے رہے۔ ٹوٹو میاں آج کل ہر روز نت نئےجملے سیکھ رہا تھا اور اپنی مزے دار باتوں سے سب کو ہنساتا تھا۔ امان کے دوست بھی ٹوٹو میاں سے ملنے آتےاور اس کی مزے دار باتیں سن کر خوب ہنستے تھے ۔ وہ آزادانہ گھر کے صحن میںپھرا کرتا اور جب تھک جاتا تو بجائے پنجرے میں جانے کے باہر کرسی پر ہی بیٹھنا پسند کرتا، مگر موٹے تگڑے بلے کی دبے پائوں آمدورفت کی وجہ سے امان،اسے پنجرے میں بند کردیتا تھا۔

امان کی امی روز کھانا پکانے کے دوران تیز ہری مرچیں اور کچاپکا امرود ٹوٹو کو کھانے کے لیے دیاکرتی تھیں۔ دونوں ہی چیزیں اس کی مرغوب تھیں۔ ابھی اس نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ جانے کہاں سے ایک طوطی صحن کی دیوار پر آبیٹھی اور للچائی ہوئی نظروں سے ٹوٹوکے کھانے کو دیکھنے لگی۔ ٹوٹو نے قدرے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پیٹھ طوطی کی جانب سے موڑ لی، مگر وہ بھی بڑی ڈھٹائی سے بیٹھی رہی اور آہستہ آہستہ صحن میں پڑی کرسی پر آبیٹھی اور پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ ٹوٹو میاں کی پلیٹ پر جابیٹھی۔ ٹوٹو نے قہرآلود نظروں سے طوطی کو دیکھا اور جھپٹ پڑے۔ طوطی گھبرا کے پیچھے ہٹی اور سہم کر ٹوٹو میاں کو التجائی نظروں سے دیکھنے لگی ۔ اس کمزور اور نحیف سی طوطی پر ٹو ٹو کورحم آ گیا اور اس نے اس بھوکی طوطی کو اپنے کھانے میں شامل کرلیا۔ طوطی نے پیٹ بھرنے کے بعد تشکرسے ٹوٹو کو دیکھا اور ’’پھر‘‘ سے اڑ گئی۔ یہ سارا منظر امی باورچی خانے کی کھڑکی سے دیکھ رہی تھیں۔ امان کے واپس آنے پر انہوں نے اسے ٹوٹو میاں کی رحمدلی اور سخاوت کے بارے میں بتایا تو امان کواس پر بے حد پیار آیا اور فخر بھی محسوس ہوا۔

اب یہ روز کا معمول بن گیا وہ طوطی بلاناغہ کھانے پر بن بلائے ہی پہنچ جاتی اور کھا پی کر ’’پھر‘‘ سے اڑ جاتی۔ ایک دن امان طبیعت کی خرابی کے باعث اسکول نہ جاسکا تو یہ سارا منظر اس نے دیکھا۔ امان نے محسوس کیا کہ بے چارے ٹوٹو ازراہ تکلف کھانے میں ذرا پیچھے تھا، مگر جیسے ہی آگے آنے کی کوشش کرتا، طوطی چونچ مار کےاسے پیچھے ہٹ جانے پر مجبور کردیتی۔ یہ تو زیادتی ہورہی ہے۔ یہ محسوس ہوتے ہی امان کو جیسے جوش آگیا اور وہ دونوں کے قریب پہنچ کر ’’ہش ہش‘‘ کرکے طوطی کو بھگانے کی کوشش کرنے لگے ،مگر الٹا ہی ہوا۔ ٹوٹو نے پلٹ کر امان کی پیر کی چھوٹی انگلی پر کاٹ لیا۔وہ درد سے بلبلا اٹھا۔ امی، اس کی چیخ پر باہر آگئیں۔ امان تکلیف کے باوجود حیرت سے ٹوٹو میاں کو دیکھ رہاتھا ۔ٹوٹو نے امان کو دھوکا دیا۔ اف! یہ خیال ہی ،اس کے لئے بے حد تکلیف دہ تھا۔ وہ روتے ہوئے اپنی امی سے لپٹ گئے۔ طوطی نے یہ ساری صورتحال دیکھ کر اڑ جانے میں ہی عافیت جانی۔ ارے یہ کیا ٹوٹو نے یہ کیا حرکت کی، وہ بھی اڑ کر دیوار پر جا بیٹھا۔ امی اور امان دونوں ہی حیران رہ گئے جب ٹوٹو میاں، طوطی کے ساتھ ’’پھر‘‘ سے اڑ گئے۔

یہ دکھ بھرا منظر دیکھ کر امان کئی دن اداس رہا۔ ٹوٹوگیا تو پھر واپس ہی نہ آیا۔ امی ا ور ابو نے امان کو کافی سمجھایا کہ وہ ہمارے ہاں عارضی مہمان تھا۔ جیسے ہی ان کو اپنا کوئی ساتھی ملا، وہ اپنی دنیا میں واپس چلاگیا۔

اس واقعے کو کئی مہینے گزر گئے۔ ایک دن امان اپنے کمرے میں بستر پر نیم دراز کتاب پڑھنے میں محو تھاکہ اچانک کھڑکی پر انہوں نے ایک چھوٹے سے طوطے کے بچے کو دیکھا۔ بس دل میں ایک دم اس معصوم سے بچے کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا اور انہوں نے جلدی سے اٹھ کر ننھے طوطے کو ہاتھ میں اٹھا لیا۔ جیسے ہی امان نے طوطے کے ننھے بچے کو اٹھایا تو ’’ٹیں ٹیں‘‘ کی مستقل تکرار نے اسے باہر جھانکنے پر مجبور کردیا۔ کیا دیکھتاہے کہ درخت کی ایک ڈال پر ایک طوطا اور طوطی بیٹھے تھے۔ غور سے دیکھنے پر امان نے پہچان لیا کہ یہ ٹوٹو اور ننھا طوطا ان کا بچہ ہے۔ امان نے ٹوٹو کو آواز دی تو وہ فوراً کھڑکی پر آبیٹھا اور ایسے سر جھکا لیا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ میں بہت شرمندہ ہوں، مجھے معاف کردو۔ بس! امان نے ٹوٹو میاں کے چھوٹے سے خاندان کو مسکراتے ہوئے خوش آمدیدکہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں