آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کانگریس کے سینئر ڈیموکریٹک رکن کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلئے گلاس اسٹیگال قوانین کی تجویز

وشنگٹن : کرن اسٹیسی

کانگریس کے ایک ڈیموکریٹ پارٹی کے رکن نے کہا ہے کہ ایک بہت بڑے نفسیاتی دباؤ کے بعد عالمی بینکوں پر ایک طرح کی پابندیاں عائد کرنے کیلئے امریکا کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تابع کرنے کیلئے غور کرنا چاہئے۔

ایوان کی اجارہ داری کے خلاف ذیلی کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈ سیسیلن نے گلاس ااسٹیگال قوانین کا ایک ورژن نافذ کرنے کا مشورہ دیا ہے جو ٹیکنالوجی صنعت پر بینکوں کو تجارتی اور سرمایہ کاری بینکنگ کو علیحدہ کرنے پر مجبور کرے۔

ان کی رائے نے فیس بک، گوگل اور ایمیزون کی جانب سے مارکیٹ کی طاقت پر گرفت کو روکنے کیلئے ڈیموکریٹک پارٹی میں سینئر شخصیات سے بڑھتے ہوئے مطالبوں نیں اضافہ کیا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ڈیوڈ سیسیلن نے کہا کہ ہم نے مالیاتی خدمات کی جگہ میں جو ایک کام کیا وہ گلاس ااسٹیگال ہے، جہاں آپ افعال کو الگ کرتے ہیں۔

یہ ایک دلچسپ آئیڈیا ہے کہ آیا الگ کرنے کے بارے میں سوچنے کا ایک طریقہ کار ہو کہ افراد جومصنوعات اور معلومات فروخت کررہے ہیں بمقابلہ پلیٹ فارمز کیا کرتے ہیں، بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لئے گلاس ااسٹیگال ہے۔

عدم اجارہ داری کا نفاذ امریکی ٹیکنالوجی صنعت کیلئے ایک اہم خطرے کے طور پر ابھررہا ہے، جیسا کہ سیاستدانوں اور ریگیولیٹرز زیادہ محتاط نظر آن شروع ہوگئے ہیں کہ آی بڑی سیلیکون ویلی کمپنیاں مسابقت کی بیخ کنی کررہی ہیں۔

واشنگٹن کی بیکن پالیسی ایڈوائزرز میں ریسرچ تجزیہ کار سیم مک گوان کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ سیسیلن اس سال ٹیکنالوجی میں قابل بحث کے طور پر سب سے طاقت ور شخص ہوں گے۔اگر وہ پالیسی کیلئ تجاویز بنارہے ہیں تو ان کے کاندھوں پر کافی بوجھ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی طرح سے، 2020 کے بعد ان کمپنیوں کیلئے عدم اجارہ داری کارروائی کا حتمی خطرہ ہے۔

ڈیوڈ سیسیلن نے فنانشل تائمز کو بتایا کہ ان کے خیال میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقابلے کی کمی تھی اور کہ وہ مسئلے کیلئے مقابلے پر مبنی حل تلاش کرنے کے خواہاں تھے۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ گلاس اسٹیگال طرز کی علیحدگی سمیت زیادہ سخت ضابطوں کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ان کے صارفین کا ڈیٹا فروخت کرنے کے کاروبار کے حصے سےان کے پلیٹ فارم مکمل طور پر علیحدہ چلانے پر مجبور کرکے یہ کام کرسکتا ہے۔

1933 میں نافذ ہونے والے گلاس اسٹیگال قوانین 1999 میں منسوخ کردیے گئے تھے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک اقدام جس نے بینکوں کو خطرناک ترین سرمایہ کرنے میں مدد دی ،اس وجہ سے مالیاتی بحران واقع ہوا۔

ڈیوڈ سیسیلن نے کہا کہ ہم نے مالیاتی شعبے میں کیا کیا، جو طویل عرصے تک بہت اچھا کام کررہا تھا، پھر ہم نے اسے منسوخ کردیا اور بڑا مسئلہ پیدا ہوا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں