آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج دو نہایت اہم اور اعلیٰ کتب پر کچھ لکھنے کی جسارت کررہا ہوں۔

(1)پہلی کتاب منگولین پاٹ (Mongolian Pot)نہایت ہی عزیز دوست اور ماہر بینکر جناب سراج الدین عزیز نے لکھی ہے۔ سراج بھائی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ نہایت شستہ، سادہ انگریزی میں ان کو کئی تقاریب میں تقریریں کرتے سنا۔ پھر ایک روز ایک یونیورسٹی کی تقریب میں ملاقات ہوئی۔ سراج بھائی ایک اعلیٰ بینکر ہیں، اعلیٰ بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں اور کئی غیر ممالک میں اِن بینکوں کے سربراہ کے طور پر فرائض انجام دیئے ہیں۔ آجکل آپ اپنی شاندار پروفیشنل زندگی کا اختتام بہت ہی اعلیٰ، باعزت عہدہ پر کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سراج بھائی ابھی کئی برس بہت اعلیٰ خدمات انجام دیتے رہیں گے ان شاءاللہ۔ سراج بھائی نے مندرجہ ذیل اعلیٰ کتب تحریر فرمائی ہیں:

(1)In Quest of Mirage (2)Bitter & Sweet, Life & Times of Dad (3)The Essence of Islam (4)Emerging Dynamics of Management۔

آپ انگریزی روزنامہ دی نیوز میں اور دوسرے اخبارات اور رسالوں میں اعلیٰ معلوماتی آرٹیکل لکھتے رہتے ہیں۔ دی نیوز میں جو بھی کالم شائع ہوتا ہے، میں ضرور پڑھتا ہوں۔ اِس طرح اِس اجنبی فیلڈ کی کچھ معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔

سراج بھائی نے کتاب کا نام Mongolian Pot رکھا ہے۔ چین میں یہ لذیذ کھانے کا طریقہ کار ہے، ایک تانبے کے برتن میں اسپرٹ لیمپوں سے پانی اُبالا جاتا ہے۔ پلیٹوں میں گوشت، مچھلی، جھینگے، چائینز گوبی، مشروم، ٹوفو(سویابین) لوگ ڈالتے جاتے ہیں اور ڈھکنا رکھ کر چند منٹ گلاتے ہیں اور پھر چاپ اسٹکس سے کھاتے ہیں۔ سامنے سویاساس اور مرچوں کی چٹنی وغیرہ ہوتی ہے، وہ آپ حسب ِذائقہ ملا لیتے ہیں۔ سردیوں میں یہ نہایت صحتمند اور لذیز کھانا ہوتا ہے۔ چینی اس کو Mongolian Hot Pot کہتے ہیں اور ہم لوگ اس کو پاگل یا دیوانی، یعنی ہانڈی میں تمام چیزیں ڈالی جاتی ہیں۔

عزیز بھائی کی کتاب کا دیباچہ ملک کے نامور صحافی اور برطانیہ میں سابق ہائی کمشنر جناب واجد شمس الحسن صاحب نے لکھا ہے۔ اُن کی انگریزی میں مہارت ومعلومات کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ سفید فام انگریز سے کم نہیں۔ انگریزی تاریخ پر پورا عبور ہے اور بڑی پیاری حکایتیں بیان کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی اعلیٰ کتاب پر اِس سے اعلیٰ دیباچہ کوئی اور نہیں لکھ سکتا تھا۔ سراج بھائی کی کتاب واقعی پاگل یا دیوانی ہانڈی کئی برسوں پر مربوط اُن کے ہر موضوع پر لکھے گئے کالموں اور مضامین کا مجموعہ ہے، جو ایک خزینۂ معلومات ہے۔ اساتذہ، طلبہ، ادیب، بینکرز، تاریخ دانوں وغیرہ کے لئے ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ پڑھ کر لطف اُٹھائیے اور معلومات میں اضافہ کیجئے۔ اِس کی تقریب رونمائی کراچی میں 5؍اپریل کو ہوئی تھی۔ مجھے بھی دعوت نامہ موصول ہوا تھا مگر ناسازیٔ طبیعت اور ڈاکٹروں کے مشورہ کی بنیاد پر میں اس اعلیٰ ودلچسپ فنکشن سے محروم رہا۔ کتاب کی رونمائی تقریب کی تفصیل 6اپریل کے کئی اخبارات میں شائع ہوئی۔ میں تو سراج بھائی کو داغؔ کے الفاظ میں ہی خراج پیش کر سکتا اور دُعا دے سکتا ہوں۔ داغؔ نے کہا ہے۔

خط ان کا بہت خوب، تحریر بھی اچھی

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

کتاب میں بیان کردہ مضامین کے علاوہ انگریزی کے طلبہ اور اساتذہ کو سراج بھائی کی کتاب سے سیکھنا چاہئے کہ اچھی انگریزی سادہ زبان میں کس طرح لکھی جاتی ہے۔ سراج بھائی کی تحریر لارڈ رسل(برٹرینڈ رسل) کی یاد تازہ کرتی ہے۔

(2)دوسری کتاب، سراج بھائی کے جوہر پارے سے مختلف ہماری تہذیب، ثقافت، مذہبی، سنہری اصولوں پر ’’اخلاقیات، اخلاقی قدریں اور تعمیر شخصیت‘‘ ہے۔ اِس کے مؤلف جناب مسرور اختر قریشی صاحب ہیں۔ قریشی صاحب ایک قابل انجینئر ہیں اور دنیا کے کئی ممالک میں اعلیٰ خدمات انجام دی ہیں۔ نارمل ریٹائرمنٹ کے بعد اس قسم کی اصلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جو نہایت ہی قابلِ تحسین کام ہے۔ یہ کتاب وقت کی اہم ضرورت ہے اور تمام والدین کو چاہئے کہ اس کو حاصل کریں، اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور بچوں کی اصلاح کریں، دیکھیں ان میں کون کون سی خامیاں ہیں۔ چند سال پیشتر میں نے چار قسطوں میں اپنے اسی ہر دلعزیز روزنامہ جنگ میں اخلاقیات وکردار پر مضامین لکھے تھے اور ایک امریکن پروفیسر نے بہت سراہا تھا اور اپنے رواج میں جو آزادی تقریر وتحریر اور عمل ہے، اس کا دفاع کیا تھا۔ میں نے ان کو نام نہاد آزادی کے نہایت خراب دور رس نتائج سے آگاہ کیا تھا۔

جناب مسرور اختر قریشی صاحب نے کتاب کی ابتدا ہی حکم اِلٰہی سے کی ہے۔ آپ نے سورۃ القلم، آیت 4کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے ’’اور یقیناً آپﷺ اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں‘‘۔ اس کتاب میں قریشی صاحب نے 281قرآنی آیات اور 902احادیث نبوی کا حوالہ دیا ہے۔ قریشی صاحب نے ان مندرجہ ذیل عنوان پر معلومات فراہم کی ہیں (1)رسول اللہﷺ اور آپ کے خاندان سے متعلق اہم معلومات (2)اعلیٰ اخلاق (3)سلام کے آداب (4)آدابِ گفتگو (5) آدابِ مجلس (6)آدابِ طعام (7)پانی پینے کے آداب (8)سفر کے آداب (9)سونے کے آداب (10)لباس کے آداب (11)مہمان نوازی کے آداب (12)تحفے تحائف لینے اور دینے کے آداب (13)بیمار کی عیادت (14)والدین کی فرمانبرداری، بزرگوں کا احترام اور حُسنِ سلوک (15) یتیموں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق (16) ملازمین سے سلوک (17)طہارت، پاکیزگی اور صفائی (18)آدابِ مسجد (19)قرض لینے اور دینے کے اصول (20)جانوروں اور پرندوں سے سلوک (21)غرور وتکبر (22)عدل وانصاف (23) صبر واستقامت (24) امانت ودیانت داری (25)ناپ تول کے بارے میں احکامات (26)جھوٹ، غیبت، طنز، عیب جوئی (27) چوری (28)دھوکہ دہی اور فراڈ (29) کام چوری اور کاہلی (30) حرام مال کمانے اور کھانے کی سخت ممانعت (31)خودکشی (32)بُرائی کو روکو (33)حسد اور دل آزاری (34)یقین و توکل (35) زکوٰۃ، صدقہ، انفاق۔ اس کے علاوہ اس اہم کتاب میں کلام مجید کی سورتوں اور آیات کی تفصیل، حکومت کے رشوت ستانی کے اقدامات، کتاب کے ریفرنسزشامل ہیں۔

جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا ہے یہ کتاب نہ صرف جوانوں، بزرگوں بلکہ اُس سے زیادہ بچوں کی تربیت کے لئے بہت اہم ہے اور گھر میں ہونی چاہئے۔ اللہ پاک قریشی صاحب کو اس اعلیٰ کتاب کی تیاری پر جزائے خیر دے۔ آمین!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں