آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ابھی کچھ روز ہوئے دنیا نے کتاب کا دِن منایا۔ ہم نے ملک تیونس کی ایک تصویر دیکھی، یومِ کتاب کے موقع پر تعلیمی اداروں کے لڑکے لڑکیاں تیونس کی شاہراہ بو رقیبہ کے درمیانی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتابیں پڑھتے ہیں۔ ذرا تصور کیجئے، یہاں سے وہاں تک، تاحدِ نگاہ جوان لڑکے لڑکیاں کتابیں کھولے بیٹھے ہیں اور انہماک سے سر جھکائے پڑھ رہے ہیں۔ یہ دنیا والوں کے لئے پیغام کا ڈھنگ ہے کہ کتاب سے محبت کرو اور اُس سے بڑھ کر یہ کہ کتاب کا احترام کرو۔ بعد میں ہم نے ٹیلی وژن پر دیکھا، دنیا بھر میں کتاب کا دن منایا گیا۔ ہمارے شہر ملتان میں قائداعظم میڈیکل کالج میں بھی یہ دن منایا گیا اور ادارے کے نہایت قابل اور مقبول سربراہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے کتاب کے موضوع پر بہت ہی خیال افروز خطبہ دیا۔

ہمارے معاشرے میں کتاب کو ہمیشہ بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ کتاب سے محبت کی نشانیاں ہم نے اُن لوگوں کے ہاں دیکھیں جو کتاب کو عزیز از جان تصور کرتے ہیں۔ مجھے ملتان کے لطیف الزماں خاں مرحوم ہمیشہ یاد رہیں گے جن کے پاس غالب کے موضوع پر کتابوں کا بڑا ذخیرہ جمع تھا۔ میں خاص طور پر اُن کے گھر گیا اور دیکھا کہ سینکڑوں کتابوں پر کاغذ چڑھا کر بڑے سلیقے سے آراستہ کر رکھا ہے۔ اوپر سے یہ کہ ہر کتاب کا ریکارڈ محفوظ ہے کہ کہاں رکھی ہے اور لمحہ بھر میں کیسے نکالی جائے۔ خود چونکہ نہایت خوش خط تھے، کتابوں کا رجسٹر دیکھنے کے قابل تھا۔

سنا ہے غالبیات پر ویسا ہی ذخیرہ آنجہانی کالی داس گپتا رضا کے پاس بھی تھا۔ وہ چونکہ بمبئی میں تھا، میں وہاں تک نہ پہنچ سکا۔ میرا تو ایمان ہے کہ کتاب پڑھنا تو خیر دنیا کی بڑی نیکی ہے، کتابوں پر نگاہ کرنا بھی کسی عبادت سے کم نہیں۔ مجھے یہ شرف حاصل رہا ہے کہ کتابوں کی زیارت کے لئے میں نے دور دور کے سفر کئے اور نہ پوچھئے کیا کیا دیکھا۔ میرے بڑے دورے کا مرکزی خیال ہی یہ تھا کہ دیکھیں بزرگوں کی چھوڑی ہوئی کتابیں کہاں اور کس حال میں ہیں۔ کہیں تو یوں رکھی تھیں کہ جیسے پلکوں سے جھاڑ پونچھ کر سجائی گئی ہوں، کہیں کتابیں نڈھال پڑی تھیں، کہیں دیواروں پر دیمک نے آمدورفت کے رستے تراشے ہوئے تھے، کہیں معلوم ہوا کہ چند روز پہلے تک بڑا ذخیرہ رکھا تھا لیکن مقدس جان کر اُنہیں دریا میں بہا دیا گیا۔ ایک جگہ کسی نے کتابوں کا ذخیرہ پلاسٹک کے تھیلوں میں باندھ کر کنویں میں ڈال دیا تھا، جھنڈیر لائبریری والوں نے کنویں میں اتر کر نکالیں تو اُن میں ایک سے ایک نادر اور نایاب کتابیں تھیں جو شکر ہے کہ اب محفوظ ہیں۔ میں نے کتابوں کے کتنے ہی ذخیروں کا نوحہ سنا جو محفوظ تھے مگر آگ کی نذر ہوگئے اور پانی اور سیلاب میں تباہ ہونے والے کتنے ہی ذخیروں کے مزار تو میری یہ آنکھیں دیکھ چکی ہیں اور میری ہتھیلیاں کتنے ہی آنسو جذب کر چکی ہیں۔

اگلے وقتوں کے لوگ بڑے پیارے اور بھولے تھے۔ اُس وقت اُن پر ٹوٹ کے پیار آتا ہے جب پرانی کتابوں پر لکھا دیکھتا ہوں ’جس کتاب پر مصنف کے دستخط نہ ہوں اُسے جعلی تصور کیا جائے‘۔ اور بزرگوں کی اِس ادا پر تو صدقے واری جانے کو جی چاہتا ہے جب قدیم کتابوں پر لکھا ہوتا ہے’ اے دیمک کے بادشاہ، تجھے نہ جانے کس کی قسم کہ اِس کتاب کو اپنی خوراک نہ بنانا‘۔ کیسے زمانے تھے جب امراء اور رؤسا دور دراز کے سفر پر نکلتے تھے تو اُن کی کتابوں کا ذخیرہ ساتھ چلا کرتا تھا۔

جس زمانے میں ہندوستان کے نواب، راجا اور مہاراجا اپنے کتب خانے پر ناز کیا کرتے تھے اور چونکہ دولت بہت تھی، دنیا بھر کی نادر اور نایاب کتابیں کھنچی کھنچی ہندوستان چلی آتی تھیں۔ تاتاریوں نے جو لاکھوں کتابیں دریا میں پھینکی تھیں، اُن میں سے بچائی جانے والی کچھ کتابیں پٹنہ کی لائبریری میں محفوظ ہیں، اِسی طرح ہسپانیہ میں عربوں کے دیس نکالا کے بعد عظیم الشان کتابوں کے جو الاؤ جلائے گئے تھے، اُن میں ادھ جلی کتابیں رام پور تک آگئی تھیں۔ بھوپال تو علم کا گہوارہ تھا، وہاں کے شاہی محل میں نہ جانے کتنی کتابیں آج تک رکھی ہیں، پتا نہیں سلامت ہیں یا نہیں، حیدرآباد دکن کے محل میں تو نایاب کتابوں سے بھری الماریاں رکھے رکھے خاک ہوگئیں۔ اب کوئی کہاں تک ماتم کرے اور کتنے آنسو بہائے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ہم سب کی طرح کتابوں کے بھی مقدر ہوتے ہیں۔ اُن کے حق میں بھی دعا کی جاسکتی ہے۔

پاکستان کے کچھ شہروں میں خاص طور پر کراچی اور لاہور میں پرانی کتابوں کے بازار لگانے کا جو سلسلہ چلا ہے، کوئی کچھ بھی کہے، کتابوں کے حق میں اچھا ہوا ہے۔ اُن بازاروں میں اُن گھروں کی کتابیں بکنے آتی ہیں جہاں گھر والوں کو اُن کی قدروقیمت کا احساس نہیں اور جہاں اُن کے پڑھنے اور قدر کرنے والے بھی کوئی نہیں۔ بازار میں آکر یہ کتابیں کچھ بھی ہو قدر دانوں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتی ہیں اور ردّی، آگ یا پانی کی نذر نہیں ہوتیں۔ کچھ لوگوں نے تو فٹ پاتھوں سے خریدی ہوئی کتابوں کے ایسے ایسے ذخیرے کر لئے ہیں کہ رشک آتا ہے۔ یہی نہیں، کچھ احباب نادر کتابوں کو از سرِ نو چھاپ رہے ہیں اور اُن مرحومین کو حیاتِ نو عطا کررہے ہیں۔ یہ بھی بڑی نیکی کا کام ہے، یہ لوگ اُن کتابوں سے روپیہ پیسہ کمائیں یا نہ کمائیں، ہم جیسوں کی دعائیں ضرور کماتے ہیں۔

آپ کو ہو نہ ہو، مجھے یقین ہے، کتاب بھی دھیمے لہجے میں سہی، قدر کرنے والوں کو دعا ضرور دیتی ہے اور دعا بھی کسی درویش جیسی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید