آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بلوچستان :تھیلے سیمیا کا مرض شدت اختیار کرگیا

’’ہم 12 بہن بھائی ہیں، ان میں سے چار کو تھیلے سیمیا کا مسئلہ ہے، ایک بھائی اور تین بہنیں، چاروں مجھے سے چھوٹے ہیں، میرے والد کاچھوٹا موٹا کاروبار ہے، تقریبا ہر مہینے بہنوں اور بھائی کو خون لگوانا پڑتا ہے، کبھی تو خون کا بندوبست ہوجاتاہے اور کبھی کبھار بہت مشکل ہوتی ہے، ڈاکٹر صاحبان کہتے ہیں کہ تازہ خون لائیں، زندگی بہت مشکل ہے، مجھ سے بڑےتین بھائی ہیں کبھی وہ انہیں خون کےلئے تھیلے سیمیا سینٹر لاتے ہیں کبھی میری ذمہ داری ہوتی ہے، اپنے بیمار بہنوں اور بھائی کو دیکھتا ہوں، ان کی بیماری اور بےبسی پر دل خون کےآنسوروتا ہے‘‘

یہ الفاظ ہیں 18 سالہ نوجوان عطاء اللہ کےجو کوئٹہ شہر کے وسطی علاقے جناح روڈ پر واقع تھیلے سیمیا کیئر سینٹر میں تھیلے سیمیا میں مبتلا اپنے دو بہن بھائی کےلئے خون کی متنقلی کے لئے موجود تھا۔

عطاء اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’خون نہ ہونے کی وجہ سے چاروں بچوں کو اکٹھےسینٹر نہیں لاسکتے، اب تو علاقے میں بھی لوگ ہم سے کتراتے ہیں کہ کہیں یہ لوگ بچوں کے لئے خون ہی نہ مانگ لیں، اب تو یہ مسلسل اور مستقل مسئلہ ہے‘‘

کم و بیش یہی الفاظ کوئٹہ کےنواحی علاقے سریاب کے رہائشی محمد سرفراز کے بھی ہیں جن کہ چار میں سے دو بچے تھیلے سیمیا کا شکار ہیں۔

یہ صرف عطاء اللہ یا سرفراز کی کہانی نہیں ہے بلکہ اب اس طرح کے بہت سے گھر ہیں جہاں تھیلے سیمیا کےشکار ایک سے زائد بچے موجود ہیں جس سے ان کی بےبسی اور مالی اور معاشرتی مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ جب اس حوالے سے اس شعبہ کے ماہر اور بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال میں ہیماٹالوجی کےشعبہ کےسربراہ اور تھیلے سیمیا کیئر سینٹر کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر ندیم صمد شیخ سے وجوہات سے متعلق بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ تھیلے سیمیا خون کی ایسی موروثی جنیاتی بیماری ہے، جو تھیلے سیمیامائنز کےجین کےحامل والدین سےبچوں میں منتقل ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تھیلے سیمیا کی صورتحال تشویشناک اس لئے ہورہی ہے کہ یہاں رسم و رواج کی وجہ سے خاندان میں پے در پے شادیوں یعنی کزن میرج کی شرح بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ سے تھیلے سیمیا کا مرض شدت اختیار کررہاہے، اس حوالے سے لوگوں میں شعور و آگہی کا فقدان ہے، اگر کسی شخص کے جین میں تھیلے سیمیامائنر ہو اور اس کی بیوی بھی تھیلے سیمیا مائنر کےجین کی حامل ہوگی تو ان کی اولاد تھیلے سیمیا میجر کاشکار ہوگی۔ اس میں کچھ بچے صحتمند اور تندرست بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس کابہرحال احتمال ہے کہ کچھ بچے نارمل ہوں اور کچھ بچے تھیلے سیمیا کاشکار ہوں۔

پروفیسر ڈاکٹر ندیم صمد شیخ کا کہنا تھا کہ ایک انداز ے کے مطابق بلوچستان میں ہر سال تھیلے سیمیا کےدو ہزار نئےکیسز سامنے آرہے ہیں، صوبے کے ہر ضلع میں تھیلے سیمیا کیئر سینٹر نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات بڑھ رہی ہیں، کچھ تو انتقال خون اور نگہداشت کےلئے کوئٹہ پہنچ جاتے ہیں لیکن زیادہ فاصلوں اور غربت کی وجہ سے زیادہ تر یہاں نہیں پہنچ پاتے اور اس طرح وہ خون کی بروقت منتقلی نہ ہونے، مرض کی پیچیدگی یا دیگر وجوہات کی بناء پر انتقال کرجاتے ہیں یا پھر وہ اس حوالے سےضرورت کےلئے پنجاب یا سندھ چلے جاتے ہیں۔

یاد رہے بلوچستان میں صرف کوئٹہ میں تھیلے سیمیا کےمریضوں کی نگہداشت اور ضروری سہولیات کی فراہمی کے لئے دو مراکز قائم ہیں۔ ان میں سے ایک بولان میڈیکل کمپلیکس اسپتال اور دوسرا مرکز سنڈیمن صوبائی ہیڈکوارٹر اسپتال سے متصل ایک عمارت میں قائم ہے۔

پروفیسر ندیم صمد شیخ کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری سب سے زیادہ توجہ اس بات پر ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ان کے خاندان میں تھیلے سیمیا کیسے آیا؟ بچے تھیلے سیمیا کا شکار کیوں ہوئے؟ اگر ایک بچہ تھیلے سیمیا میجر کا پیدا ہوگیا تو اگلا بچہ ایسا نہ ہو۔ اس حوالے سے دوران حمل ٹیسٹ سے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کےعلاوہ اندرون صوبہ کسی دوسرے ضلع میں تھیلے سیمیا کےمراکز موجود نہیں۔ اس صورتحال میں اسکرین شدہ خون کا انتقال یقینی نہ ہونے سے تھیلے سیمیا کے مریض ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا بھی شکار ہورہے ہیں۔

تھیلے سیمیا سٹی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر عدنان مجید کےمطابق کوئٹہ کےعلاوہ دیگر شہروں میں تھیلے سیمیا کیئر سینٹر اور اسکرین شدہ خون کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے تھیلے سیمیا کاشکار بچوں میں غیر اسکرین شدہ خون لگادیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں میں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا وائرس بھی منتقل ہوجاتاہے۔ اس طرح کے بچے ہمارے پاس رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایک تو تھیلے سیمیا کا مرض اور اس پر دیگر جاں لیوا امراض کا شکار ہوجانا ان کےلئے بڑی مصیبت کا باعث بن رہا ہے۔

اس حوالے سے ضرورت اس بات کی ہے کہ مرض کی روک تھام کےلئے آگہی کے ساتھ اس حوالے سے آگہی بھی ضروری ہے کہ صاف اور اسکرین شدہ خون ہی بچوں کو لگوایاجائے بصورت دیگر ان کی صحت کے مسائل بہت بڑھ جائیں گے۔

ڈاکٹر عدنان مجید کا یہ بھی کہنا تھا کہ تھیلے سیمیا کے ایک مریض کی نگہداشت اور سہولیات کی فراہمی پر اوسط ڈیڑھ لاکھ سے چار لاکھ روپے سالانہ خرچ آتا ہے۔

سرکاری شعبے کےعلاوہ زیادہ تر لوگ اس مرض کے علاج کےمتحمل نہیں ہوسکتے، سرکاری شعبے میں بھی وسائل بہت محدود ہیں، تھیلے سیمیا کیئر سینٹرز کا بجٹ انتہائی کم ہے۔ اس لئے ہمیں مریضوں کی ادویات اور دیگر ضروریات کے لئے کئی مخیرحضرات سے مدد اورتعاون لینا پڑتا ہے۔

تھیلے سیمیاکی روک تھام کےحوالےسے ممتاز سماجی کارکن اور چیئرپرسن تنظیم ادارہ بحالی مستحقین مسز ثریا الہ دین کا کہنا تھا کہ اس جان لیوا مرض سے بچاو کےلئے بھرپور آگہی کی ضرورت ہے۔ جس انداز میں پولیو کے خاتمے کےلئے مہم چلائی جاتی ہے، اس طرح تھیلے سیمیا کی روک تھام کےلئے بھی بھرپور مہم چلائی جانی چاہئے۔

بلوچستان میں ایک جانب تھیلے سیمیا کےمرض کی تشویشناک صورتحال اور اس پرسہولیات کافقدان، ان سب نے مرض کی صورتحال کو مزید گھمبیر کردیاہے۔

اس حقیقت کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ صحت کے دیگر مسائل کےحل کےعلاوہ تھیلے سیمیا کےمرض کی تشویشناک ہوتی ہوئی صوررتحال پر بھرپور توجہ دی جائے۔

اس کےلئے بھرپور آگہی مہم کےساتھ ساتھ تھیلے سیمیا کاشکار بچوں کےلئے ضلع کی سطح پر تھیلے سیمیا کیئر سینٹر قائم کئے جائیں۔

صحت سے مزید