• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ماہِ رمضان کے روزے رکھنا ہر مسلمان، بالغ، عاقل، صحت مند، مقیم، مردوعورت پر فرض ہے، جس کی ادائیگی کے ذریعے خواہشات کو قابو میں رکھنے کا ملکہ پیدا ہوتا ہے اور وہی تقویٰ کی بنیاد ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ (سورۃ البقرہ ) زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے کے لئے روزہ کا بڑا اثرہے۔ اسی ماہِ مبارک کی ایک بابرکت رات میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم آسمانِ دنیا پر نازل ہوئی، جس سے استفادہ کی بنیادی شرط بھی تقویٰ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم میں ہے: یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے متقیوں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈر نے والوں کے لئے۔ غرض رمضان اور روزہ کے بنیادی مقاصد میں تقویٰ مشترک ہے۔

قرآن اور رمضان کے درمیان چند مشترک خصوصیات: ۔قرآن اور رمضان کی پہلی اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہے، جیساکہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔ دوسری مشترک خصوصیت شفاعت ہے۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ روزہ اور قرآن کریم دونوں بندے کے لئے شفاعت کرتے ہیں۔ روزہ عرض کرتا ہے کہ یا اللہ، میں نے اسے دن میں کھانے پینے سے روکے رکھا، میری شفاعت قبول کرلیجئے، اور قرآن کہتا ہے کہ یا اللہ، میں نے رات کو اسے سونے سے روکا ، میری شفاعت قبول کرلیجئے، پس دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔ (مسنداحمدوطبرانی) تیسری خصوصیت جو رمضان اور قرآن دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے وہ قرب الہٰی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے، ایسے ہی روزے دار کو بھی اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے کہ روزے کے متعلق حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، میں خود ہی روزے کا بدلہ ہوں۔ مضمون کی طوالت سے بچنے کے لئے قرآن ورمضان کی صرف تین مشترک خصوصیات کے ذکر پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔

ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق: قرآن کریم کو رمضان المبارک سے خاص تعلق اور گہری خصوصیت حاصل ہے۔ چنانچہ رمضان المبارک میں اس کا نازل ہونا، حضور اکرم ﷺکا رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا، حضرت جبرائیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم ﷺکو قرآن کریم کا دور کرانا، تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا، صحابۂ کرام ؓاور بزرگانِ دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوت قرآن میں مشغول رہنا چاہئے۔ ماہ ِرمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کریم کا ماہِ رمضان میں نازل ہونا ہے۔ اس مبارک ماہ کی ایک بابرکت رات میں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرمﷺ پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصے میں قرآن مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے ،جیساکہ مسند احمد میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مصحف ابراہیمی ، تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔ نزولِ قرآن اور دیگر مقدس کتب وصحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ دیگر کتابیں جس رسول ونبی پر نازل ہوئیں، ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ میں، جب کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر رمضان کی مبارک رات یعنی لیلۃ القدر میں ایک بار نازل ہوا اور پھر تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت نازل ہوتا رہا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: بے شک ،ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارا ہے ،یعنی قرآن شریف کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اس رات میں اتارا ہے۔ آپ کو کچھ معلوم بھی ہے کہ شب قدر کیسی بڑی چیز ہے ، یعنی اس رات کی بڑائی اور فضیلت کا آپ کو علم بھی ہے ، کتنی خوبیاں اور کس قدر فضائل اس میں ہیں۔ اس کے بعد چند فضائل کا ذکر فرماتے ہیں، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، یعنی ہزار مہینوں تک عبادت کرنے کا جتنا ثواب ہے، اس سے زیادہ شب قدر کی عبادت کا ہے اور کتنا زیادہ ہے؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اس رات میں فرشتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں اور یہ خیر وبرکت فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔

سورۃ العلق کی ابتدائی چند آیات (اِقْرَاْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق....) سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد آنے والی سورۃ القدر میں بیان کیا کہ قرآن کریم رمضان کی بابرکت رات میں اتراہے، جیساکہ سورۃ الدخان کی آیت ۳ ’’اِنَّا اَنْزَلْنَاہٗ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ ‘‘ہم نے اس کتاب کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے) اور سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۵ ’’شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فیہ القرآن ‘‘(رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا) میں یہ مضمون صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ غرض قرآن وحدیث میں واضح دلائل ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر رمضان کی مبارک رات میں ہی نازل ہوا، اس طرح رمضان اور قرآن کریم کا خاص تعلق روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے۔

رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مظہر نماز تراویح بھی ہے۔ احادیث میں وارد ہے کہ ہر سال ماہِ رمضان میں آپ ﷺ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا ،اس سال آپ ﷺ نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ (بخاری ومسلم) نمازِ تراویح آپ ﷺ نے شروع فرمائی اور مسجد میں باجماعت اسے ادا بھی فرمایا، لیکن اس خیال سے اسے ترک کردیا کہ کہیں امت پر واجب نہ ہوجائے اور پھر امت کے لئے اسے ادا کرنے میں مشقت ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے (رمضان کی) ایک رات مسجد میں نماز تراویح پڑھی۔لوگوں نے آپ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر دوسری رات کی نماز میں شرکاء زیادہ ہوگئے، تیسری یا چوتھی رات آپﷺ نماز تراویح کے لئے مسجد میں تشریف نہ لائے اور صبح فرمایا کہ میں نے تمہارا شوق دیکھ لیا اور میں اس اندیشے سے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر رمضان میں فرض نہ کردی جائے۔ (صحیح مسلم، الترغیب فی صلاۃ التراویح)

(…جاری ہے…)

تازہ ترین