آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے خشکی اور پانی دونوں جگہوں سے ٹیک آف اور لینڈنگ کرنے والے ایمفیبیس جنگی جہاز مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کر دیا۔

امریکا نے دفافی نظام بھی مشرق وسطیٰ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے قبل امریکا طیارہ بردار بیڑا اور بمبار طیارے وہاں تعینات کر چکا ہے۔

امریکا نے بحری بیڑے اور بی ففٹی ٹو بمبار طیارے بھی خلیج روانہ کیے تھے، جبکہ جوہری صلاحیت کے حامل کئی بمبار طیارے اور دیگر بحری جنگی جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔

امریکا کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی طاقت جمع کرنےکا جواز ایرانی حملوں کا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ ایران اور اس کی پراکسی فورسز امریکی فوج اور مفادات پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔

ترجمان پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس کی اس وضاحت کو دہرایا کہ امریکا ایران سے جنگ نہیں چاہتا، تاہم امریکی فوج، اتحادیوں اور خطے میں اپنے مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا، امریکا نے ایران سے درپیش خطرے کی تفصیل نہیں بتائی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں