آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ میں سگ گزیدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، 6 ماہ کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد سگ گزیدگی کا شکار ہوچکے ہیں۔

صوبے کے کئی اضلاع میں ویکسین نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈی جی ہیلتھ سندھ ڈاکٹر مسعود سولنگی کا کہنا ہے کہ ہرضلع میں ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے ۔

حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں آوارہ اور پاگل کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ سگ گزیدگی کے واقعات حیدرآباد سمیت اندرون سندھ میں پیش آئے ہیں جن میں حیدرآباد میں 3 ہزار، بدین میں 3487، دادو میں 8358، گھوٹکی میں5077، قمبر میں 9021، لاڑکانہ میں 3932، میر پور خاص میں 3298، نوشہروفیرز میں 7572، شکار پور میں 4918، شہید بے نظیرآباد میں 4000 اور عمرکوٹ میں 3966 کتے کے کاٹنے کے واقعات پیش آئے۔

بیشتر اضلاع میں ویکسن ناپید ہے، لیکن لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ صرف سول اسپتال میں ویکسین کی سہولت موجود ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کو مارنے کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کریں تو سگ گزیدگی کے واقعات سے بچا جا سکتا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں