آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ٹیم مینجمنٹ میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری مکمل

ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی بدترین کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم مینجمنٹ میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری مکمل ہو گئی ہے، کوچ مکی آرتھر،بولنگ کوچ اظہر محمود،چیف سلیکٹرانضمام اورمینیجر طلعت علی کو فارغ کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کوئٹہ میں ہنگامہ خیز اجلاس اور قانونی کارروائی کے بعد بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ 19جون کو لاہور میں طلب کی گئی ہے۔اجلاس میں شرکت کے لئے ایم ڈی وسیم خان اپنا دورہ مختصر کرکے منگل کو لاہور پہنچ رہے ہیں۔اجلاس میں ڈومیسٹک کرکٹ کی اصلاحات پر بھی بات کی جائے گی۔

‏سینئر کھلاڑیوں کے مکی آرتھر کے ساتھ اختلافات سامنے آ گئے

‏سینئر کھلاڑیوں کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے ساتھ...

امکان ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیٹ اپ کو لانے کے لئے ورلڈ کپ کی تباہ کن کارکردگی کو جواز بنایا جائے گا اور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو آئندہ سیزن سے ختم کر دیا جائے گا۔

پی سی بی بورڈ آف گورنرز میٹنگ میں کل ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اور ڈومیسٹک کرکٹ ڈھانچے کی تبدیلی پر بات ہوگی۔

پی سی بی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں تباہ کن کارکردگی کے بعد ٹیم انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا ارادہ رکھتی ہے،انتظامیہ کے زیادہ تر لوگ اپنے عہدوں سے محروم ہوجائیں گی۔کئی کوچز اور سلیکٹرز نے عہدے بچانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے تین سال بعد مکی آرتھر کے ساتھ معاہدہ نہ کرنے اور انہیں گھر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔مکی آرتھر کی لابنگ اور ڈپلومیسی بھی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

21جون کو چیئرمین احسان مانی آئی سی سی کے مہمان کی حیثیت سے لندن پہنچ رہے ہیں۔پی سی بی گورننگ بورڈ ،پی سی بی کا سب سے بااختیار اور پالیسی ساز ادارہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ ہر تین ماہ بعد ہوتی ہےلیکن چوںکہ پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں مشکل ہے اس لئے ٹیم کی کارکردگی بھی زیر بحث آسکتی ہے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کے بعد منیجر طلعت علی ملک کی رپورٹ اہم ہوگی۔مکی آرتھر بھی ٹورنامنٹ کے بعد اپنی رپورٹ بورڈ کو دیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باوجود جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لیں گے، ورلڈکپ کے بعد کپتان، سلیکٹرز اور کوچزکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائےگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر،منیجر طلعت علی،بولنگ کوچنگ اظہر محمود دیگر کوچنگ اسٹاف اور پوری سلیکشن کمیٹی کو فارغ کیا جاسکتا ہے۔

پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان اس وقت تمام کرکٹ معاملات کے براہ راست نگراں ہیں۔وسیم خان نے تبدیلیوں کے حوالے سے صلاح مشورے شروع کردیئے ہیں جبکہ اپنی نوکریاں بچانے کے لئے بہت سارے لوگ متحرک ہیں۔

حکومتی شخصیات کے قریب تصور کئے جانے والے سابق کرکٹرز نے عہدوں کے حصول کے لئے لابنگ شروع کردی ہے۔جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی اگلی کمٹمنٹ ستمبر اور اکتوبر میں ہے، سوچ سمجھ کر فیصلے ہوں گے، ٹورنامنٹ کے دوران کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہوسکتے۔

یاد رہے کہ شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے ہمراہ دیگر قومی کرکٹرز کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ تنازع کھڑا ہوا کہ کھلاڑی پاک بھارت میچ سے ایک رات قبل ہوٹل میں موجود تھے اور اس حوالے سے کرکٹرز کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کہتے ہیں کہ ایک بڑی ہار بہت ساری چیزوں کو منظر عام پر لے آتی ہے،مکی آرتھر تین سال پہلے جب ہیڈ کوچ بنے تھے ان کے کھلاڑیوں کے ساتھ اختلافات کی خبریں آتی رہیں۔عمر اکمل اور محمد عرفان ایسے کھلاڑی تھے جن کے کیئریئر مکی آرتھر کی وجہ سے داو پر لگ گئےاب ورلڈ کپ کی کارکردگی کی وجہ سےسنیئر کرکٹرز اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے ساتھ اختلافات بھی سامنے آ گئے۔

انگلینڈ میں ون ٖ ڈے سیریز کے دوران کرکٹرز کوچ کی غیر ضروری سخت ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو گئے تھے انہوں نےکھلاڑیوں نے مکی آرتھر کے رویے کی شکایت کی تھی۔

پی سی بی سے بھی کئی اختلافات انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران ہوئے ۔کھلاڑیوں نے مکی آرتھر سے برا ہ رست بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔

انگلینڈ میں چوتھا ون ڈے 340 رنز کر کے بھی ہارنے کے بعد مکی آرتھر نے کھلاڑیوں کو ڈانٹا ۔پانچویں ایک روزہ میچ میں بھی شکست کے بعد کھلاڑیوں کو کوچ سے ڈانٹ ڈپٹ کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کو معاملات سلجھانے کے لئے انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انضمام الحق نے نہ چاہتے ہو ئے بھی رمضان المبارک میں انگلینڈ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ابھی تک کھلاڑیوں اور کوچ کے درمیان تعلقات مثالی نہیں ہو سکے ہیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید