آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نعرے بازی، دشنام طرازی اور شیخ چلی جیسے خیالی پلائو پکانے والوں کے ہاتھوں بس یہی گل کھلنا باقی رہ گئے تھے۔ پارلیمنٹ چل رہی ہے، نہ حکومت۔ کالے دھن کی واپسی ہو رہی ہے اور نہ معیشت سنبھل رہی ہے۔ بجٹ آیا تو ایسا کہ کوئی راضی ہے نہ پُراُمید۔ مہنگائی بے قابو ہوئی جاتی ہے، معیشت سکڑتی، کاروبار مندا، بیروزگاری بڑھتی، روپیہ ڈوبتا اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ ایسے میں اوسان خطا نہ ہوں تو کیا ہوں۔ لے دے کے وہی کنٹینر والی تنقید باقی بچ رہتی ہے۔ سو آئی ایم ایف کے بجٹ کے ہاتھوں معاشی بیل ’’تبدیلی‘‘ کے علمبرداروں کے ہاتھ سے پھسلی تو پھر سے قربانی کے بکروں کی پکڑ دھکڑ کا شور ایسے بپا کیا گیا کہ بجٹ پہ بحث کی جگہ پارلیمنٹ مچھلی منڈی کو بھی مات دے گئی۔ پھر مملکت کی پتوار اُنہی ہاتھوں اور چڑھی جن کے باعث نوبت یہاں پہنچی کہ انجامِ گلستان کی خیر نہیں۔ پاپولسٹ نعرہ بازوں کے ہاتھوں جو دُنیا میں ہو رہا ہے، ہمارا مقدر اُسی قماش کے حکمرانوں کے ہاتھوں کیسے مختلف ہو سکتا تھا۔ بیرونی ممالک سے ڈالروں کی بارش ہوئی، نہ لوٹی ہوئی دولت کے انبار برآمد ہوئے۔ اور بات پہنچی بھی تو اسی کشکول کی درازی پہ جسے توڑنے کی قسمیں کھائی گئی تھیں۔ خیر سے چینی، عربی اور خلیجی اربوں ڈالروں کے قرضوں کے بعد اب آئی ایم ایف کے چھ ارب ڈالرز کے ساتھ ساتھ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے اربوں ڈالرز کے علاوہ کپتان کی حکومت نے 5000ارب روپے کا مزید قرضہ صرف 11ماہ میں قوم کے سر لاد دیا ہے جبکہ گزشتہ حکومت کے پانچ برس میں یہ 10,660ارب روپے بڑھا تھا۔ ملکی تاریخ کے سب سے بھاری ٹیکسوں والے بجٹ میں 5,555ارب روپے کے ٹیکس لگانے کے بعد بھی بجٹ خسارہ اعلیٰ ترین سطح یعنی 8.2رہے گا۔

بھلا کوئی پوچھے کہ جب معیشت تین فیصد کی شرح نمو سے بھی کم رینگ رینگ کر چل رہی ہو تو اتنے زیادہ ٹیکسوں کی کیسے متحمل ہو سکتی ہے؟ پہلے ہی جاتے سال میں ایف بی آر 4435ارب روپے کے ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ چار کھرب کا ہندسہ بمشکل کراس ہوگا۔ ایسے میں 1400ارب کے نئے ٹیکس کیسے وصول ہوں گے؟ اگر ہو بھی گئے تو خسارہ کم ہونے کے بجائے پھر بھی بڑھ جائے گا لیکن ایسی حکومت جو کفایت شعاری کے ڈھونگ رچاتے نہیں تھکتی، اس کے جاری غیر پیداواری خرچے گزشتہ سال میں 2000ارب روپے یعنی 48فیصد زیادہ ہوئے۔ اگلے برس بھی قرضے اور دفاع پہ اُٹھنے والے اخراجات ہمارے کل محاصل کے 67.4فیصد ہوں گے جو درحقیقت گزشتہ بجٹ کے تخمینہ سے 11فیصد زیادہ ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ، تعلیم و صحت پہ خرچ کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ فی کس آمدنی کم اور مہنگائی آسمان پہ۔ تنخواہوں اور اُجرت میں معمولی اضافے اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار سے اس حکومت کی ’’تبدیلی‘‘ کا نقاب اُتر گیا ہے۔ اُلٹا کالے دھن والوں کو ایسی ترغیبات دی جا رہی ہیں کہ سابق ’’کرپٹ حکمران‘‘ بھی ششدر ہو گئے ہیں۔

لے دے کہ پھر وہی ڈھنڈورا پیٹنا رہ جاتا ہے جسے سُن سُن کر ہمارے کان پک گئے ہیں اور ہمارے تیزابی رجعت پسندوں کے پاس کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ جو کاٹھ کی ہنڈیا جمہوریت کی چتا پہ چڑھائی گئی تھی۔ اُس نے تو جلنا ہی تھا۔ اب موصوف وزیراعظم قرضوں میں گھپلوں پہ تحقیقاتی کمیشن بنا رہے ہیں تو انہیں معلوم پڑے گا کہ مملکت کا پیٹ کتنا کشادہ ہے اور یہ جو نحیف و دست نگر معیشت پہ آہنی بوجھ لادا گیا ہے وہ اس کے بس سے باہر ہے۔ اس بوجھ کو ہلکا کرنے کا مہم جویانہ کام نواز شریف کر پائے نہ آصف علی زرداری۔ انہیں بھی خزانہ خالی ملتا رہا اور عمران خان کو بھی۔ جوں جوں جمہوری تماشا ساکھ کھو رہا ہے اور معیشت کی جان نکل رہی ہے، ویسے ویسے دوسرے طاقتور اداروں کی ذمہ داریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ نیشنل اکنامک کونسل جیسے آئینی ادارے کے ہوتے ہوئے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل (NDC)تشکیل کر دی گئی ہے جو اب آرمی چیف کی شمولیت سے معاشی ترقی کی راہ سُجھائے گی۔ ہمارے ملک کا عجب مسئلہ ہے جس کا کام اُسی کو ساجھے والی منطق کے برعکس یہاں معاشی ماہرین کو لانے کے بجائے طاقتوروں کو لانے سے معاشی مسئلہ کیسے حل ہو گا؟

اس گمبھیر صورتِ حال کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ حزبِ اختلاف اپنی اُلجھنوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ جو حشر اس بجٹ کے ہاتھوں غریبوں کا ہونے والا ہے اُس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اوپر سے حکومت اپوزیشن کے خلاف اپنے جاہ و جلال کے باوجود تنکوں کے سہارے چل رہی ہے۔ جن پتوں پہ تکیہ کیا گیا تھا، وہ پتے ہوا دینے لگے ہیں۔ باوجود یہ کہ حکومت پارلیمنٹ میں بجٹ کے معاملے پہ اکثریت کھو سکتی ہے، حزبِ اختلاف کی یہ حکمت نہیں یا پھر ہمت نہیں کہ اس کا باجہ بجا سکے۔ ایک عجب سیاسی خلا پیدا ہوا چاہتا ہے۔ جو جانے کون پُر کرے۔ پھر سے ایک گھڑ سوار یا پھر عوامی لہر۔ پُرانا پاکستان ہو یا نیا پاکستان، اس کی سب پارٹیاں اپنے اپنے طبقاتی و علاقائی مفادات میں پھنسی ہیں اور مملکت کو درپیش خوفناک بحران اور عوام الناس کی بے چینیوں کا حل پیش کرنے والا کوئی کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔ شریف اور بھٹو خاندان کے جانشینوں کو فکر ہے بھی تو اپنے اپنے بزرگوں کی۔ وہ گرم سرد ہوتے رہتے ہیں اور بس یونہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ تاریخ کو اُن کی مجبوریوں سے غرض ہے نہ مملکت کے پاسداروں کے تزویراتی پاکھنڈوں سے۔ اور ملک و عوام کی حالت بدلنے والی نہیں جب تک بنیادی مخمصوں (Paradoxes)سے جان نہیں چھڑائی جاتی۔ ایک نئے حل، نئی راہ اور نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کی نفسا نفسی، مفاد پرستوں کی پینترے بازیوں اور جنگجوئیت پسند عزائم سے فرصت ملے تو کوئی سوچے کہ جمہوریت کا تماشا بنا کر کیا ہاتھ آیا اور اب معیشت کے جنازے پہ کوئی کیا دُعائے مغفرت کرے۔ تاآنکہ اس ملک کے عوام اپنے لئے، اپنی دھرتی کے لئے اور ملک کے مستقبل کو بدلنے کے لئے کوئی انقلابی کروٹ لیں یا پھر یونہی سسکتے رہیں، مرتے رہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ادارتی صفحہ سے مزید