آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موجودہ حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ کامیاب ہوئی یا ناکام، مجھے اس بحث میں نہیں الجھنا۔ میرے لئے دو سوال زیادہ اہم ہیں۔ پچھلی حکومت کی طرح موجودہ حکومت کیلئے بھی ٹیکس ایمنسٹی کا اجرا کیوں ضروری تھا؟ اور عوام اور کاروباری طبقہ کیوں خوفزدہ ہے؟ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک قدرتی ارتقا کے نتیجے میں نئے دور میں داخل نہیں ہوتے بلکہ زمانہ جب چال چل جاتا ہے تو یہ پیچھے پیچھے گھسٹتے گھسٹتے چلتے ہیں۔ جدید معیشت کو قدرتی انداز میں کمپیوٹرازڈ اور ڈاکیومنٹڈ ہوئے عرصہ گزر گیا لیکن ہمارے ہاں ابھی تک زیادہ تر معیشت کمپیوٹر اور ڈاکومنٹیشن کی رسائی سے باہر ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس ملک چلانے کے پیسے نہیں، آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے سے بے پناہ قرضوں کی واپسی کیلئے محصولات کے ذرائع بڑھانے کا پریشر بھی ہے، پھر علاقائی سیکورٹی کی صورتحال جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات حرب کی متقاضی ہے جو انتہائی مہنگے داموں میسر آتے ہیں۔ ان سارے مسئلوں کا حل سیاسی استحکام کے علاوہ صرف محصولات بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ محصولات کیسے بڑھیں؟ پہلےسے جو لوگ ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں انکو ریاست پہلے ہی نچوڑ چکی ہے۔ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی ہی واحد راستہ ہے جو معیشت کے دستاویزی ہونے کے بغیر ممکن نہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایمنسٹی اسکیموں سے محصولات کا حصول مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ جو لوگ ان سے مستفید ہو رہے ہیں انکے پاس زیادہ تر نہ تو حرام کی کمائی ہے اور نہ ہی محصولات دینے کی استطاعت۔

ایمنسٹی کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ اس سے کالا دھن سفید ہوتا ہے۔ ایسا ضرور ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسکا حصہ کم ہوتا جارہا ہے۔ بہت سے ایسے لوگ اپنی جان چھڑانے یا بچانے کیلئے اپنے اثاثے ڈکلیئر کر رہے ہیں جن کی کمائی حق حلال کی ہے(باہر کی کمائی، کیش کاروبار کی کمائی، فیملی تنازعات اور انکے حل کے باعث اثاثوں کی غیر رسمی تقسیم، اپنی جائیداد مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے عزیزوں کے نام رکھنا وغیرہ وغیرہ) لیکن انہوں نے اسکا ریکارڈ نہیں رکھا۔ کاروباری لوگوں کے سوا بہت کم لوگ ریکارڈ رکھتے ہیں، انکا سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح اپنے اخراجات پورے کر لیں اور اگر کچھ بچ جائے تو چھت بنا لیں۔ لیکن اب لوگوں کو ڈر ہے کہ حکومت ان سے ریکارڈ مانگے گی اور نہ ہونے پر وہ انہیں چور بنا کر بہت زیادہ شرح پر ٹیکس لگا دے گی۔ موجودہ حکومت نے ایسے لوگوں کو خوب ڈرا کر ان سے ٹیکس وصول کر لیا ہے۔ اسی طرح چھوٹے کاروباری لوگوں کا پیسہ اگرچہ ظاہر نہیں یا کم ظاہر ہے لیکن وہ چوری اور ڈاکے کا پیسہ نہیں ہے وہ انکی حق حلال کی کمائی ہے۔ ایسے بہت سے لوگ اس ایمنسٹی میں کم شرح پر ٹیکس دے کر ٹیکس نیٹ میں آئے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ پے در پے ایمنسٹی اسکیموں کے باوجود ابھی بھی کروڑوں لوگ اس نیٹ سے باہر ہیں جس میں زیادہ ترغریب عوام جن کے تھوڑے بہت اثاثے ہیں اور چھوٹے کاروباری لوگ ہیں۔ اسکی کئی وجوہات ہیں۔ اول، ایسے لوگ غریب یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور مہنگائی اور بالواسطہ طریقے سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹیوں کے بوجھ تلے اس قدر دب چکے ہیں کہ انکے پاس ایمنسٹی میں بھی دینے کو کچھ نہیں۔ دوم، ان میں زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں یا انہیں اپنے اثاثے ڈاکیومنٹ کرنے کے بارے میں شعور اور ادراک نہیں ہے۔ سوم، ایسے لوگ حکومتی اداروں سے بجا طور پر خوفزدہ ہیں۔ انہیں واپڈا اور گیس، ریونیو اور کبھی کبھار تھانے کچہری سے واسطہ پڑتا ہے اور انکا جو تجربہ ہے اسکی وجہ سے وہ ان اداروں میں ایف بی آر کا اضافہ نہیں کرنا چاہتے جو ہر وقت ان سے حساب مانگتا رہے۔ پھر عام آدمی کیلئے موجودہ نظام اس قدر پیچیدہ ہے کہ وہ نہ تو اسکو خود سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی اسکی استطاعت ہے کہ وہ کسی ماہر کی خدمات لے سکے، جبکہ یہ کام اتنا حساس نوعیت کا ہے کہ ایک صفر کا غلط اضافہ اسکو ’’چور‘‘ بنا کر اسکے سارے اثاثوں سے محروم کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسے کروڑوں غریب اور متوسط عوام کے خدشات اور مسائل کے مدنظر انکو ڈاکیومنٹیشن کے دائرے میں لانے کیلئے علیحدہ سے آسان اسکیمیں نکالے۔ ان طبقوں کو ڈاکومنٹیشن میں لانے کیلئے خوف نہیں بلکہ پیار، مدد اور شعور کی ضرورت ہے جبکہ محصولات بڑھانے کیلئے ریاست کو سیاسی استحکام، آئین و قانون کی حکمرانی اور جدید تعلیم اور کاروبار سے محصولات بڑھانے کے طریقوں پر غور کرنا چاہئے۔