آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی ایشیا‘ ایٹم بم کی ممکنہ جنگ کے علاوہ جس بم کی ممکنہ تباہی کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے وہ آبادی کا بم ہے۔ جی ہاں! آبادی میں سالانہ اضافے کے اعتبار سے یہ سب سے بڑاعلاقہ ہے۔ اس حوالے سے بھار ت د نیا میں سب سے آگے ہے اور ہر سال اس کی آبادی میں ایک کروڑ ستر لاکھ کا ا ضافہ ہوتا ہے،دوسرا نمبر چین کا ہے جبکہ حیران اور پریشان کن حد تک حقیقت یہ ہے کہ تیسرا نمبر پاکستان کا ہے جس کی آبادی میں سالانہ پچاس لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پاکستان اب آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ اسی طرح جنوبی ایشیا میں دنیا کا آٹھواں بڑا ملک بنگلہ دیش بھی ہے۔ جنوبی ایشیا میں مجموعی طور پر تقریباً اڑھائی کروڑ کا ا ضافہ ہوتا ہے جو کہ پوری دنیا کے کُل اضافے کا تیس فیصد ہے اور یہ ہر حال میں ایک انتہائی تشویش کی بات ہے۔

پوری دنیا میں اس بات پر اتفاق ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی ایک خطرناک عمل ہے۔ اسی لئے اسے ایک سست بم (Gradual Bomb) سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ چین نے 1979میں جب ’’ایک جوڑا، ایک بچہ‘‘ کا سخت ترین قانون لاگو کیا تو دنیا کے کسی بھی ملک نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔ چین میں دوسرے بچے کی پیدائش پر مالی سزا دی جاتی تھی۔ چین نے 2016سے اس قانون میں نرمی کرتے ہو ئے د وسرے بچے کی اجازت دے دی مگر لوگ اب ایک بچے کی پالیسی سے اتنے مانوس اور اس کے اتنے قائل ہو چکے ہیں کہ وہ ایک بچے کی پرورش پر اکتفا کو ہی مناسب سمجھتے ہیں۔ چین کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ایک بچے کے قانون سے تقریباً 45 کروڑ اضافے کی بچت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 تک کل آبادی کے اعتبار سے بھارت چین کی جگہ لے کر دنیا کا پہلا بڑا ملک بن جائے گا۔ واضح رہے کہ شروع میں جب مغربی ممالک نے چین کو آبادی پر کنٹرول یعنی پاپولیشن پلاننگ کی ترغیب دی تو چین نے اسے کمیونزم کے خلاف ایک سازش جانا مگر پھر اسی ملک نے دنیا کا سب سے خطرناک قانون لاگو کر کے آبادی کو کنٹرول کیا۔ دنیا میں پہلے بات صرف روٹی کپڑا اور مکان کی ہوتی تھی مگر اب نوعیت صاف پانی ہوا،صاف دھوپ اور زمین تک آ پہنچی ہے۔ دنیا کے ہر چوتھے شخص کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور اس تعداد میں ہر سال بھیانک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح سانس لینے کے لئے صاف ہوا ناپید ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ وقت زیادہ دور نہیں جب صاف ہوا کے سلنڈر بھی فروخت ہوا کریں گے، شہروں میں آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ماحولیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ شہروں کے لوگ Breathing نہیں بلکہ smokingکر رہے ہیں۔ اسی طرح شہروں میں تعمیرات اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ بارش کا پانی زمین میں جذب نہیں ہو سکتا جس سے نہ صرف زیر زمین پانی کی سطح نہ صرف بہت نیچے جا چکی ہے بلکہ کئی شہروں میں زیر زمین پانی ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹائون اور ہمارا اپنا شہر کراچی اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ دنیا میں مزید آبادی کی گنجائش ختم ہوچکی ہے اس کا اندازہ سادہ طریقے سے اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بناسپتی گھی، برائلر مرغی اور سب سے بڑھ کر مصنوعی کھادوں اور مصنوعی بیجوں کا استعمال 1960اور 1970کی دہائی میں بڑھتی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہی شروع ہوا تھا۔ اب مصنوعی کھادوں کا استعمال اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کوئی فصل تو درکنار اب کوئی سبزی بھی اس کے بغیر کاشت نہیں ہوتی۔ مصنوعی یعنی کیمیکلز سے بننے والی کھاد جب مسلسل زمین میں ڈالی جاتی ہے تو یہ زمین میں جذب ہو کر آرسینک پیدا کر کے زیر زمین پانی کو آلودہ کرتی ہے یہی وجہ ہے کے پاکستان کے 80فیصد علاقوں کا پانی پینے کے قابل نہیں۔

قیام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی سوا تین کروڑ تھی جو اب 21کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور جیسا پہلے ذکر ہوا، پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ صدر ایوب خان کے دور میں آبادی کنٹرول سے متعلق پروگرام شروع ہو گیا تھا جو بھٹو دور میں بھی جاری رہا بلکہ بھٹو دور میں آبادی کنٹرول کرنے سے متعلق فلمیں بھی بنائی گئی تھیں علاوہ ازیں دیگر موضوعات کی فلموں میں بھی آبادی کنٹرول کرنے کا پیغام دیا جاتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے ضیاء دور میں اس پروگرام کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا جس سے آبادی میں اضافے پر قابو پانے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا۔ سابق چیف جسٹس نے اس حوالے سے متعدد بار بیانات دیئے تھے جس سے یہ لگا کہ حکومتی سطح پر یہ احساس جاگا ہے مگر موجودہ حکومت کی ترجیحات میں آبادی کنٹرول کرنے سے متعلق ترجیح جتنی واضح ہونا چاہئے وہ نظر نہیں آتی۔ کچھ عرصہ قبل محکمہ آبادی کی جانب سے علماء کرام کے بیانات پر مبنی ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا مگر یہ سلسلہ بھی رک سا گیا ہے۔ اسی طرح ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول کی سطح سے آبادی سے متعلق مضامین نصاب کا حصہ بنائے جائیں تاکہ آبادی کے بم کو پھٹنے سے قبل ہی ناکارہ بنایا جا سکے۔