آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عورت شوہر کی طر ف سے محبت اور توجہ چاہتی ہے

صدیوں سے یہ سوال اْلجھن بنا ہوا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہے۔ ماضی میں ماہرین نفسیا ت نے بھی جو جواب دیے وہ اْدھور ے ہیں ۔بالآخر دور جدیدکے نفسیات دانوں نے عورت کی جونفسیات بیان کی ہے ۔ اس کے مطابق محبت انسانی زندگی کے انتشار میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔بہ قول شاعر شاخِ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا وہ ناپائے دار ہوگا۔ لیکن شادی کے بندھن میں بندھ جانے والے دراصل دل کی دودھڑکنیں ہیں جو دو وجودوں میں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ گاڑی کے دوپہئے ہیں جو ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں ۔ یقیناََ دور جدید کی عور تیں ، اس سوال کا جواب جانتی ہیں کہ شادی سے قبل کی محبت اور رشتہ ازواج میں بندھ جانے کے بعدکی محبت میں کیا فرق ہے ۔ لیکن بعض آزاد خیال اور آزاد زندگی بسر کرنے والی عورتیں شاید پورا سچ بول کر اپنے دائرہ عمل کو( گھریلو زندگی سے وابستہ کرکے) اپنی زند گی کو محدود نہیں کرنا چاہتیں ، مگر دور جدید کے نفسیات کے ماہرین کا، رشتہ ازواج میں بندھ جانے والی عورت کیا چاہتی ہے؟ کے سوال کے بارے میں تجزیہ ہے کہ وہ عام طوروہی چاہتی ہے جو مرد چاہتا ہے۔یعنی وہ کام یابی، مرتبہ،دولت ،محبت ، شادی ،بچوں اور خوشیوں کی طلب گار ہوتی ہے ۔وہ اپنی تکمیل چاہتی ہے۔بلکہ وہ چاہتی ہے کہ سب لوگ، خاص طورپر اس کا شوہر اس رازسے آگاہ ہو جائے ۔

ہمارے لوک گیتوں میں محبوبہ اور بیوی دونو ں کے روپ میں عورت سونے چاندی اور کبھی ہیرے جوہرات کی فرمائش کرتی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ اس کی فطری طلب ہے، تاکہ وہ قیمتی جواہرات سے اپنے حسن کو زیادہ سے زیادہ جازب نظر بنا سکے۔لیکن دورجدید کی تعلیم یافتہ اور مہذب خواتین کا رویہ کسی قدر مختلف ہے۔وہ تحفوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتیں،بلکہ محبت کو ترجیح دیتی ہیں۔ زیادہ ترخواتین گراں قدر تحفوں کی موجودگی میں مرد سے سچی اور ذاتی محبت کا اظہار مانگتی ہیں ۔عورت کے دل میں ایسے تحائف جگہ بنا سکتے ہیں جن سے مرد کی دلی محبت اوروارفتگی کا اظہار ہوتا ہو ۔مگرماہرین کے مطابق ایسا کوئی روگ نہیں جس سے نجات ممکن نہیں ۔ یعنی اس کے لئے ضروری ہے کہ خوشیوںکی شمع بجھنے نہ پائے ۔ یہ شمع روشن رکھنے کے لئے مرد کو چاہیے کہ وہ عورت کی دل کشی کو نظر انداز نہ کرے ۔ کم ہی خواتین کو اپنے حسن کا یقین ہوتا ہے۔ اس لئے عورت کے حسن کی تعریف فقط دورجوانی تک محدود نہیںہونی چاہیے۔عمرکے ساتھ عورت کی خوب صورتی کم ہوجانے کے باوجو د اس کے حسن کو سراہا جانا ضروری ہے ور نہ عورت مرد کی توجہ نہ پاکر اندیشوں میں اْلجھ کر رہ جائے گی اور خاوند کی محبت کو بھی شک کی نظروں سے دیکھے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ جب عورت کو گول مول اور مبہم الفاظ میں جتلایا جائے کہ وہ دل کش ہے تو یہ مسئلے کا حل نہیں ہوتا ۔وہ واضح اور براہِ راست اقرار چاہتی ہے ۔ جیسے، تمہارے بالوں کا یہ انداز مجھے پسند آیا، یا اس لباس میں تم خوب صورت نظر آرہی ہو ۔یعنی وہ اپنے حسن کی تفصیلات کو پسند کرتی ہے۔اس طرح وہ سمجھتی ہےکہ مرد محض باتیں نہیں بنا رہا اور نہ ہی رسمی جملے ادا کر رہا ہے، بلکہ اس کے برعکس وہ پوری توجہ دے رہا ہے۔اس طرح عورت کی خود اعتما د ی اور عزت نفس میں اضافہ ہوتا ہے ۔ماہرین کے مطابق سچائی کے بجائے محبت اور ہم دردی سے کام لیجئے۔اسے دیدہ زیب لباس پہننے پر آمادہ کیجئے ۔یوں محبت کو قائم رکھا جاسکتا ہے ۔ ازواجی زندگی کو خوش گوار بنانے کے لئے خوشیوں کی شمع جلائے رکھنا ضروری ہے ۔ اسے کسی صورت بھی نظر انداز نہ کیا جائے ۔عورت کو مرد سے مشورہ لینے کا کم ہی شوق ہوتا ہے ۔زیادہ ترعورتوں کی گفتگو اپنے ساتھی سے مسائل کا تجزیہ کرنے اور مسائل کا حل تلاش کے لئے نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے جذبوں کے اظہار اور جذبوں میں ایک دوسرے کو شریک کرنے کے لئے بولتی ہے۔لہٰذا وہ اْس وقت تک بولتی چلی جاتی ہے جب تک دل کا بوجھ ہلکا نہ ہو جائے ۔

ماہرین کا کہناہے کہ عورت کے نقطہ نگاہ سے اہم بات یہ ہے کہ مرد گھریلو کام کاج میں اس کا ہاتھ بٹائے ۔ عورت کی اس قسم کی مدد صحت مند ازواجی زندگی کو قائم رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن جدید دور کے ماہرین نفسیات نے عورت کی نفسیات کا صحیح ادراک بعد از خرابیِ بسیارکیا ۔ اسلام نے عورت اورمرد کو انسانیت کے دائرے میں برابر کا شریک قراردیا ۔فرق یہ ہے کہ مرد قوام، مضبوط ا عصاب کا مالک ہوتا ہے اور عورت صنف نازک ہے۔ مردوں اورعورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسر ے کے لیے ہمیشہ لباس کا کام دیں ۔ یعنی ایک دوسرے کے عیب چھپائیں۔ایک دوسرےکےلیے زینت کا موجب بنیں،پھر جس طرح لباس سردی گرمی کے ضرر سے انسانی جسم کو محفوظ رکھتا ہے اْسی طرح مرد اورعورت سْکھ دْکھ کی گھڑیو ں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔اور پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی دل جمعی اور سکون کا باعث بنیں۔

نصف سے زیادہ سے مزید