آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سےپیوستہ)

آئیے آج وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پچھلے ہفتہ ختم کیا تھا۔ بات ہو رہی تھی بھٹو کی قومیائے جانے کی پالیسی کی، اُس سے ایک بہت بڑا جھٹکا یہ لگا کہ پنشن تو برائے نام بڑھی لیکن اکثر قیمتیں 100سے 200گنا بڑھ گئیں۔ 25سال پرانی گاڑی پر 384 روپیہ ٹیکس سالانہ دیتے تھے جو اب 7200ادا کرنا پڑا۔ نئے پاکستان کا کچھ تلخ ہی تجربہ ہو رہا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر مبشر حسن نے پرائیویٹ سیکٹر سرمایہ کاروں اور پبلک سیکٹر کے مالیاتی اداروں کے سربراہان کو اسلام آباد بُلایا اور اُنہیں قومیائے سیکٹروں کے علاوہ دوسرے تمام سیکٹروں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی مگر سرمایہ کاروں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتماد بہت کم ہو گیا تھا۔ اُن کے مطابق قومیائے جانے کی پالیسی ناقص تھی۔ مثلاً ولیکا اسٹیل اور کیمیکل جو کہ مشینری لگانے کے آخری مراحل میں تھیں اور جلد پیداوار شروع کرنے والی تھیں، ایک لمبے عرصے کے لئے التوا میں چلی گئیں۔ درآمد شدہ مشینری کو installنہ کیا جاسکا اور پروڈکشن بھی شروع نہ کی جاسکی۔ لاہور میں ماڈرن اسٹیل مل کی صرف زمین ہی حاصل کی گئی اور وہ زمین کا ٹکڑا ہی قومیا لیا گیا۔ ایک اور انڈسٹری جو نوشہرہ میں تھی پر IDBPکے ستر، اسی فیصد قرضے تھے۔ اس کو قومیا کر وہ قرضے بھی قومیائے گئے جن کی ادائیگی پبلک سیکٹر میں آنے کے بعد سوالیہ نشان بن گئی۔ جب اُس وقت کے گورنر اسٹیٹ بینک، جناب غلام اسحٰق خان نے ڈاکٹر مبشر حسن کو اس انڈسٹری سے متعلق اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے ہنس کر جواب دیا کہ قومیائے جانے کی مہم میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا)کا بھی تو حصّہ ہونا چاہئے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وقت نے ثابت کیا کہ ستر کی دھائی کے شروع میں ہونے والی معاشی اصلاحات میں گہری سوچ اور دور اندیشی کی کمی تھی۔ معاشی اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں مگر اندھا دھند قومیائے جانے کی پالیسی سے سرمایہ کاری کا ماحول مجروح ہوا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے مزدوری کے مواقع بڑھنے کے بجائے کم ہوئے اور عوام کی مالی حالت بہتر نہ ہو سکی۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید جب اقتدار میں آئیں تو انہوں نے غالباً انہی وجوہات کی بنا پر سوشلسٹ اقتصادی پالیسیوں کی جگہ پرائیویٹ سیکٹر پر مبنی پالیسیوں کو ترجیح دی۔

شروع سے ہی پاکستان کی معاشی ترقی کا انحصار ٹیکسٹائل انڈسٹری، زراعت اور خوراک کی فراہمی پر رہا ہے۔ جس میں ملک نا صرف خود کفیل تھا بلکہ ان مصنوعات میں اس کی برآمدات بھی بڑھی ہوئی تھیں۔ مختلف ادوار میں ملکی حالات کی وجہ سے اس شعبے میں خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی، اس کی برآمدات متاثر ہوئیں اور زرِ مبادلہ میں کمی واقع ہوئی۔ بجلی اور گیس کے بحران نے بھی اس میں کلیدی کردار ادا کیا اور ٹیکسٹائل انڈسٹری زوال کا شکار ہوگئی۔ جس کے نتیجے میں درآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ ملک میں سیاحت کے شعبے میں ترقی اس کی معیشت کا ایک اہم ستون ہے جو کہ نظرانداز کیا گیا۔ اس کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اس شعبے کی وجہ سے سالانہ اربوں ڈالر کما رہے ہیں جن سے ان کی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی وفاقی سطح پر پہلی مرتبہ اقتدار میں آئی ہے۔ اِس حکومت کو بھی ماضی کی طرح اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکومتی ٹیم محصولات کے اضافے اور اقتصادی اصلاحات کے لئے دِن رات کوشاں ہے۔ اِن اہداف کی اہمیت سے انکار نہیں مگر اصلاحات کے نام پر کئے جانے والے اقدامات سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہونا چاہئے نہ کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہو، سرمایہ کار خوف زدہ ہوں اور سرمایہ کھینچنے پر مجبور ہوجائیں۔ صارف کی ڈیمانڈ اِس حد تک کم ہوجائے کہ صنعتی اور زرعی پیداوار گرنا شروع ہو جائے۔ افراطِ زر زیادہ اور محدود آمدنی رکھنے والوں کی قوت خرید کم ہوجائے اور ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضانہ نہ ہو۔ پاکستان کا بیرونِ ملک ادائیگیوں کا خسارہ، اندرون ملک ادائیگیوں کے خسارے سے زیادہ اہم ہے کہ ڈالر اور غیر ملکی کرنسی چھاپی نہیں جاسکتی۔ دو تین سال کی مدّت میں Merchandise Exportکا خاطر خواہ بڑھنا بھی محال ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر کم کرنے سے درآمدات تو کم کی جاسکتی ہیں مگر برآمدات میں اضافہ اتنا نہیں ہوتا جس سے بیرونی ادائیگیوں کے عدم توازن پر قابو پایا جا سکے۔ اس لئے ایک دو سال کی قلیل مدّت میں بیرون ملک ادائیگیوں کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز قابل غور ہیں:

1۔ 1972ءکی پرائیویٹ سیکٹر کی عدم اعتماد کی پالیسیوں کی جگہ پرائیویٹ سیکٹر سرمایہ کاروں کا فوری اعتماد حاصل کیا جائے۔ پرائیویٹ سیکٹر ہی بیرونی سرمایہ کاری اپنی کوششوں سے لیکر آئے گا۔ جس سے حکومت کو بیرونی قرضے کم کرنے میں مدد ملے گی۔

2۔ ایک ہی جست میںغیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی معیشت اور ٹیکس نیٹ میں لانےکے اِس قابلِ قدر مقصد کو مرحلہ وار حاصل کیا جائے تاکہ چھوٹا سرمایہ کار اپنے چھوٹے بزنس کا طریقہ کار بدلتے ہوئے ٹیکس قوانین کے مطابق ڈھال سکے۔ یہ بات پیش نظر ہونی چاہئے کہ Non-documentedاکانومی ہی روزگار کے مواقع بڑی تعداد میں پیدا کرتی ہے۔ خوف کی فضا میں وہ یہ خدمت بہتر طور پر انجام نہیں دے سکتی۔

3۔ فی الفور، تربیت اور غیرتربیت یافتہ لیبر اور مین پاورکی غیرممالک میں exportکے لئے معاہدات کئے جائیں۔Merchandise export بڑھانے میں زیادہ وقت لگتا ہے جبکہ لیبر ایکسپورٹ کم عرصے میں کی جاسکتی ہے۔

4۔ بیرون ملک مالیاتی اداروں اور ملکوں سے بیرونی قرضوں کی ری شیڈولنگ کیلئے مذاکرات کئے جائیں۔مشرف حکومت میں غالباً ایسی rescheduling حاصل کی گئی تھی۔

(نوٹ)ایمنسٹی اسکیم کو چھوڑ کر باقی جتنے اقدامات کئے گئے ہیں انہوں نے تاجروں، صنعتکاروں اور عوام کی کمر توڑ دی ہے اور ملک میں سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ میں کراچی میں اپنے نہایت کامیاب بڑے صنعتکاروں سے بات چیت کررہا تھا کہ ان عوام مخالف اقدامات کے بجائے (بمشکل 70ارب کی آمدنی) اگر مشرف نے جو 252ارب روپے جو قرضوں کے معاف کر دیئے تھے وہ وصول کرلئے جاتے تو احسن اقدام ہوتا اور وہ لوگ آج بھی ارب پتی ہیں اور اربوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔ سب نے مجھ سے اتفاق کیا کہ یہ اقدام یقیناً مناسب و بہتر ہوتا۔ بہرحال یہ کام ہمارے حکمرانوں کی سمجھ بوجھ پر منحصر ہے اور وہ عنقا ہے۔