آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ذوالحجہ 1440ھ 17؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی عہد میں سندھی ادب کا جائزہ لیا جائے تو اس زمانے کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر کارنامہ جدید سندھی رسم الخط اور حروفِ تہجی کا اجرا ہے۔ اس کے علاوہ پرنٹنگ پریس کے قیام اور طباعتی سہولتوں کی فراہمی بھی برطانوی سرکار کی مرہون منت ہیں جس کی بدولت سندھی زبان میں نئی نئی کتابوں کی اشاعت کا تیز رفتار سلسلہ شروع ہوا۔ اس دور کے جن مصنفین نے اپنی تخلیقات سے سندھی ادب کو مالا مال کیا ان میں مرزا قلیچ بیگ، بیدل فقیر، ڈاکٹر ہوت چند مول چند گربخشانی، بھیرومل مہر چند آڈوانی، لعل چند امر ڈنومل، دیوان دیارام گدومل، دیوان پرمانند میوا رام، محمد صدیق مسافر، نندی رام میرچندانی،سید میراں محمد شاہ اول، میر عبد الحسین سانگی، مرزا غلام رضا بیگ، مرزا صادق علی بیگ، آخوند لطف اللہ، محمد صدیق میمن، حکیم فتح محمد سیہوانی،نادر بیگ مرزا، امر لعل ہنگورانی، مولانا دین محمد وفائی اور شمس الدین بلبل جیسے رجحان ساز ادیب سر فہرست ہیں۔

شمس الدین بلبل 21 فروری 1857ء کو میہڑ، ضلع دادو میں پیدا ہوئے۔اس وقت کے دستور کے مطابق فارسی، عربی اور سندھی کی تعلیم میہڑ ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد محکمہ انجینئرنگ میں دروغہ مقرر ہو گئے۔ وہ ایک ذہین اور قابل شخص تھے، جن کی قابلیت کے جوہر کی تشہیر کے لیے میہڑ کافی نہ تھا۔ لہٰذا وہ 1889ء میں محسن سندھ خان بہادر حسن علی آفندی کے پاس کراچی تشریف لے آئے، جنہوں نے ان کی اہلیت اور علمی استعداد سے استفادہ کرنے کے لیے ان کی ادارت میں ایک ہفت روزہ اخبار ’’معاون‘‘ جاری کیا۔ اس اخبار کی وساطت سے شمس الدین بلبل نے سندھ مدرسۃ الاسلام اور سندھ محمڈن ایسوسی ایشن کے مقاصد کی تشہیر و اشاعت کی خدمات احسن طریقے سےانجام دیں، یوں وہ حسن علی آفندی کے دست و بازو بن گئے۔ 1895ء میں حسن علی آفندی کی وفات کے بعد شمس الدین بلبل نے کراچی کو خیرباد کہا اور اپنے آبائی قصبے میہڑ میں آکر سکونت پذیر ہوگئے ، وہیں سے گھر بیٹھ کر اخباروں کو ایڈٹ کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ہفت روزہ معاون کے بعد وہ کراچی گزٹ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے، مگر یہ اخبار جلد بند ہو گیا۔ لاڑکانہ کے اخبار ’’ خیرخواہ‘‘ کے بھی کچھ عرصہ ایڈیٹر رہے۔ سکھر سے نکلنے والے اخبار روزنامہ ’’الحق‘‘ کی ادارت کے فرائض بھی سنبھالے، حیدرآباد کے اخبار ’’مسافر‘‘ میں بھی کام کیا۔آخر میں سیٹھ حاجی احمد میمن کے مشہور اخبار روزنامہ ’’آفتاب‘‘ سکھر کے مستقل ایڈیٹر بن گئے، جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانانِ سندھ کی قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ شمس الدین بلبل کی حاکمِ وقت اور با اثر شخصیات تک بڑی رسائی تھی۔ ریاست خیرپور کے تالپر حکمران خاندان، امراء اور وزراء سے ان کے گہرے مراسم تھے۔شمس الدین بلبل، نقشبندی طریقت پر مخدوم نظام الدین صدیقی پاٹائی کے مرید تھے۔ بدعتی پیروں کے سخت مخالف تھے اور ان کے خلاف گاہےبہ گاہے روزنامہ آفتاب میں مضامین بھی لکھتے رہتے تھے۔ 1906ء میں میہڑ میں مدرسۃ الاسلام کا قیام ان کا اہم کارنامہ ہے، یہ مدرسہ اب ہائی اسکول میہڑ کے نام سے موجود ہے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا، ان کا ذاتی کتب خانہ بہترین مانا جاتا تھا جس میں سندھی، فارسی، اردو اور عربی زبانوں میں ہزاروں کتب موجود تھیں۔ نامور محقق سید مظہر جمیل نے انہیں سندھی زبان کے اکبر الہٰ آبادی کا خطاب دیاہے۔ شمس الدین بلبل نے سب سے پہلے طنز و مزاح کو سندھی شاعری میںذریعۂ اظہار بنایا۔ خوش فکر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلبل صاحبِ طرز نثر نگار بھی تھے۔ان کی نثر ظرافت آمیز اور پُر مذاق ہوتی تھی، جس کی وجہ سے ہر شخص ان کی تحریروں کو ذوق و شوق اور لطف کے ساتھ پڑھتا تھا۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے سندھی ادب میں گراں قدر اضافے کیے۔ شاعری کے مقابلے میں ان کی نثری تصانیف زیادہ ہیں۔ ان کے قلمی آثار میں دیون بلبل سندھی، دیوان بلبل فارسی، کریما نیچرل، شمس المکاتیب، جھٹ سوال پٹ جواب، عقل اور تہذیب، بہارستانِ بلبل، آئینۂ ظرافت، گنجِ معرفت، بہارِ عشق اور دیگر کتب شامل ہیں۔ شمس الدین بلبل اپنے پیچھے گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑ کر 13 ستمبر 1919ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ تعلیم، صحافت اور سندھی علم و ادب کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔

وادی مہران سے مزید