آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیّد سلیم گردیزی

وادی جنت نظیر (مقبوضہ) کشمیر جو آج ظلم و ستم کی چکی میں پس کر لہو لہو ہوچکی ہے۔ اپنی خوب صورتی اور دل فریبی کے حوالے سے ہمیشہ غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یہاں آنے والے غیر ملکی سیاحوں نے اس کی خوب صورتی کے گن گائے ہیں۔ ایسے ہی غیر ملکی مصنفین میں ایک مشہور برطانوی مصنف اور شاعر ،تھامس مور بھی تھے، جنہوں نے 1817میں کشمیر کے بارے میں ایک رومانوی نظم ’’لالہ رخ‘‘ لکھی۔ اس نظم کی مغرب میں بے حد پذیرائی ہوئی اور 1880تک اس کے ایک لاکھ سےزائد نسخے فروخت ہوچکے تھے۔ معروف کشمیری محقق اور ریسرچ اسکالر،سید سلیم گردیزی نے جب کشمیر میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی لکھی ہوئی کتابوں کا جائزہ لیا تو اس طویل نظم کے با رے میں دلچسپ حقائق بھی درج کیے جنہیں قارئین کی دل چسپی کےلیے ذیل میںپیش کیا جارہا ہے۔

’’نئی صدی کا سورج نئے امکانات، نئی امنگوں، نئے ولولوں اور نئے عزائم کے ساتھ طلوع ہوا۔ ا یسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں اپنی فتح کے جھنڈے کام یابی سے گاڑچکی تھی۔ برصغیر میں انگریزوں کا اقتدار مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جارہا تھا۔ جارج فاسٹر اور اس جیسے دوسرے لوگ جو کمپنی کی ملازمت کے دوران ہندوستان میںاقامت پذیر رہے، انہوں نے مغلیہ فن تعمیر کی دل کشی کے افسانے اپنے یورپی ہم وطنوں کے سامنے اس آب و رنگ سے پیش کیےکہ ہندوستان کے فن تعمیر کو دیکھنے کی خواہش اہل برطانیہ کے سینوں میں مچلنے لگی۔ شاہی خاندان بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے کیوں رہتا۔ پرنس آف ویلز نے 1815میں جان ناش نامی ایک ماہر تعمیرات کو یہ مشن سونپا کہ وہ محلات اور شاہی باغات کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش ہندوستانی طرز پر کرے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے انگلستان کی سادہ اور سپاٹ عمارتوں کی جگہ مغلیہ فن تعمیر نے لے لی اور جا بہ جا مینارے، محرابیں اور گنبد تعمیر ہونے لگے، باغات لگنے لگے اور زندگی ایک نئی چہل پہل، ایک نئی ترتیب سے آشنا ہونے لگی۔ کشمیری شال تو برطانوی فیشن کا ایک لازمی جزو بن گیا۔ کوئی عورت اس وقت تک فیشن ایبل کہلانے کی مستحق نہیں سمجھی جاسکتی تھی جب تک اس کے شانوں پر کشمیری شال یا دو شالہ نہ لہرارہا ہوتا۔کشمیری شال کے یورپ میں متعارف ہونے کی کہانی بھی دل چسپ ہے، جب کشمیر افغانوں کے قبضے میں تھاتو کشمیر کے گورنر عطا محمد نے اپنے افغان بادشاہ کو قیمتی کشمیری شال کا تحفہ پیش کیا۔ کچھ عرصے بعد عراق کا باشادہ اور اس کی ملکہ کابل آئے تو افغان بادشاہ نے وہ شال عراقی حکم راں کو پیش کی۔ عراق کے حکم راں نے یہ شال اپنے دوست مصر کے حکم راںخدیو مصری کو پیش کی۔ ان ہی دنوں نپولین بونا پارٹ اور اس کی ملکہ جوزفین قاہرہ کے دورے پر آئے تو خدیو مصر نے یہ نایاب تحفہ ملکہ جوزفین کو پیش کردیا۔ ملکہ جوزفین کے شانے پر کشمیری شال کیا لہرائی ،یورپی خواتین کے لیے یہ اسٹیٹس سمبل بن گئی۔ جوزفین نے شالیں جمع کرنا اپنا مشغلہ بنالیا۔ کہا جاتا ہے کہ ملکہ جوزفین کے پاس دو سو قیمتی شالوں کا ذخیرہ تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مونا لیزا کی مشہور زمانہ پینٹنگ ،جسے دنیا میں مصوری کا عظیم شاہ کار ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اس میں عورت نے جو شال ا وڑھی ہوئی ہے وہ کشمیری شال ہی ہے۔

مغرب میں سونے کی چڑیا، ہندوستان اور جنت ارضی کے بارے میں قصے کہانیاں ، فن تعمیر کے تذکرے، باغوں اور بہاروں کے قصے اور باشندگانِ جموں و کشمیر کے لباس اور اندازو اطوار کے با رے میں معلومات اس قدر عام ہوچکی تھیں کہ اب ہندوستان اور کشمیری اہل مغرب کے تصورات میں رچ بس گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مشہور برطانوی مصنف اور شاعر تھامس مور نے جب 1817میں کشمیر کے بارے میں ایک رومانوی نظم ’’لالہ رخ‘کے عنوان سے لکھی تو اسے مغرب میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ لالہ رخ کا مصنف تھامس مور آئرلینڈ کا رہنے والا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کشمیر تو کیا کسی بھی ایشیائی ملک کی سیاحت نہیں کی تھی۔ کشمیر کی جس قدر حقیقی تصویر کشی اس نے کی ہے اس سے اس کے تخیل کی جولانی کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ اس کی معلومات کا ابتدای ماخذ برنیئر اور دوسرے سیاحوں کی زبانی حاصل ہونے والی معلومات اور خصوصاً D.Herblote کی مرتب کردہ علوم شرقیہ کی ڈائریکٹری ہے۔

تھامس مور کی بیان کردہ منظوم افسانوی دا ستا ن ’’لالہ رخ‘‘ کا کردار فرانکوئس برنیئر کے بیان کردہ اورنگ زیب عالم گیر کے سفر کشمیر کے دوران شاہی خاندان کی اہم ترین شخصیت روشن آراء بیگم سے ملتا جلتا ہے۔ تھامس مور کی لالہ رخ ایک متحرک اور انسانی جذبات سے لبریز شخصیت ہے۔ قطع نظر اس کے کہ ’’لالہ رخ‘‘ کے افسانے کی تاریخی حیثیت اور حقیقت کیا ہے؟ تھامس مور کی نظم میں بیان کردہ کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ’’لالہ رخ‘‘ مغل شہنشاہ کی چہیتی بیٹی ہے جس کی شادی کی تقریب شالیمار باغ، سری نگر میں منعقد ہونی طے پائی ہے۔ اسی سلسلے میں شاہی قافلہ سری نگر کی جانب رواں دواں ہے۔ شہزادی لالہ رخ کا قافلہ بڑی شان و شوکت اور آن بان سے دہلی سے سوئے کشمیر روانہ ہوتا ہے۔ راستے کی چند منزلوں کے بعد شہزادی لالہ رخ اکتا جاتی ہے۔ اس کی اکتاہٹ دور کرنے کے لیےقافلے ہی سے ایک خوب صورت اور خوش گلو شاعر کو تلاش کرلیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ شہزادی کو اپنی نظمیں سنائے اور اسے رفاقت مہیا کرے۔ وہ شاعر شہزادی کو بڑے ترنم اور سوز سے نظمیں سناتا ہے۔ شہزادی اس کی وجیہ شخصیت، انداز و اطوار، خوش اخلاقی اور خوب صورتی کے سامنے اپنا دل ہار بیٹھتی ہے اور اس کے عشق میں گرفتار ہوجاتی ہے۔

عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالب

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

عشق ایسا جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ چند ہی روز میں شہزادی کی حالت غیر ہوجاتی ہے۔ اس پر دیوانگی کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ رنگ پیلاپڑ جاتا ہے۔ وہ کم زور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ڈاکٹر، حکیم، وید اس کے علاج کے لیے بلائے جاتے ہیں، لیکن’’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی‘‘ کا معاملہ ہے۔ دریں اثناء قافلہ سری نگر پہنچتا ہے۔ شہزادی ’’لالہ رخ‘‘ کو شالیمار باغ میں بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف، بلکہ اس کے احتجاج کے علی الرغم طے شدہ پروگرام کے مطابق شہزادےسے کردی جاتی ہے۔ شادی کی تقریبات شالیمار باغ میں دھوم دھام سے منعقد ہوتی ہیں۔ لیکن شہزادی کی حالت غیر ہوتی جاتی ہے۔ بالآخر شہزادی کی رخصتی ہوجاتی ہے اور وہ ٹوٹے دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ جب شہزادے کے حجلہ عروسی میں پہنچتی ہے تو اس کی خوش گوار حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ وہی شہزادہ اس کا جیون ساتھی بن چکا ہے جو ایک شاعر کا بھیس بدل کر اس کا شریک سفر تھا اور جس کے عشق میں وہ گرفتار ہوچکی تھی۔

اہل مغرب’’لالہ رخ‘‘ جیسی شاہ کار نظم کے لیے کس درجہ مضطرب تھے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ مشہور پبلشر لانگ مین نے تھامس مور کو کتاب کا آغاز کرنے سےپہلے ہی ایک خطیر رقم دے کر کتاب کے حقوقِ اشاعت اپنے لیے محفوظ کرالیے تھے تاکہ اس کی اشاعت سے وہ بےپناہ مالی فائدہ اور شہرت حاصل کر سکے۔ 1817سے 1880تک جب لانگ مین کے حقوق اشاعت ختم ہوئے تو اس کتاب کے ایک لاکھ کے لگ بھگ نسخے بِک چکے تھے جو اس دور کے تناظر میں ایک محیر العقول بات تھی۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی۔ اسے پہلی مرتبہ 27جنوری 1822کو اسٹیج کیا گیا تو شائقین نے اسے بےحد سراہا اور اس کے بعد تو برطانیہ ، فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک میں اسے اتنی مرتبہ ا سٹیج کیا گیا کہ شاید ہی کسی اسٹیج شو کو ایسی پذیرائی ملی ہو۔ شائقین کی دل چسپی کم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی رہی۔ لالہ رخ کا ایک بند بہ طور نمونہ نذرِ قارئین ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے:

کون ہے جس نے کشمیر، جنت نظیر کے بارے میں نہ سنا ہو

اس کی ہری بھری وادیاں ، شفاف جھرنے، جھلیں

جیسے محبت بھری نیلگوں آنکھیں ان کے ہم دوش ہوں

فطرت کی رعنائیوں نے کشمیر کو ایک جنت ارضی کا روپ دے دیا ہے