آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین بھارت ترقی پذیر ممالک نہیں، مزید تجارتی فائدہ نہیں اٹھانے دینگے، ٹرمپ

کراچی(نیوزڈیسک)امریکی صدر نے کہا ہے کہ بھارت اور چین ترقی ترقی پذیر ممالک نہیں ہیں اور انہیں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے مزید فوائد حاصل کرنے نہیں دیے جائیں گے۔دوسری جانب اثناامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لگ بھگ 150 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر یکم ستمبر سے دس فیصد محصولات عائد کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک ڈبلیو ٹی او سے فائدہ اٹھاتے رہے لیکن وہ اب ایسا مزید نہیں ہونے دینگے۔امریکی صدر نے سب سے پہلے امریکا کی پالیسی دہراتے ہوئے بھارت پر تنقید کی جس نے امریکی مصنوعات پر ڈیوٹی لگائی اور ملک کو ٹیرف کنگ قرار دیا۔امریکا اور چین موجودہ حالات میں ایک تجارتی جنگ میں ہیں اور ایسا امریکی صدر کی جانب سے چینی مصنوعات پر ٹرمپ کے سزا کے طور پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ہوا ہے۔ٹرمپ نے بھارت اور چین سے متعلق کہا کہ دونوں ممالک سالہا سال سے ہم سے فوائد حاصل کررہے تھے،دونوں ترقی پذیر ممالک ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ فائدہ حاصل کررہے تھے لیکن اب وہ ایسا مزید نہیں ہونے

دینگے،دریں اثناامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لگ بھگ 150 ارب ڈالر کی چینی مصنوعات پر یکم ستمبر سے دس فیصد محصولات عائد کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد کرسمس کے موقع پر صارفین کو مہنگائی کے اثرات سے بچانا ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے جن چینی مصنوعات پر ٹیکس استثنٰی دیا گیا ہے ان میں لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور کھلونے شامل ہیں۔حکام نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کی دیگر ہزاروں مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ برقرار ہے۔ ان مصنوعات میں کپڑے، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر الیکٹرانک مصنوعات شامل ہیں جن پر ٹیکس یکم ستمبر سے نافذ العمل ہو گا۔ماہرین کے مطابق امریکی حکومت کے اس فیصلے اور تجارتی مذاکرات کے ایک اور دور کے امکانات کے بعد اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی ہے جب کہ ممکنہ مہنگائی سے پریشان صارفین نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔

دنیا بھر سے سے مزید