آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یاسر حسین کی فنکاروں سے کشمیر کا ساتھ دینے کی اپیل


اداکار یاسر حسین نے پاکستانی فن کاروں سے اپیل کی ہے کہ’ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کا ساتھ دیں‘، ’جو اپنے مُلک کا نہیں وہ کسی کا نہیں ہوسکتا۔‘

اداکار یاسر حسین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹا گرام پر ساتھی فنکاروں کو ویڈیو پیغام دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کھل کے بات کریں، اس سے آپ کی فین فالوونگ کم نہیں ہوگی۔

اداکار یاسر حسین اکثر سوشل میڈیا پر پاکستان سے محبت کا اظہارِ خیال کرتے نظر آتے ہیں، آج کل وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے میں نمایاں کر دار بھی ادا کر رہے ہیں۔

یاسر حسین نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میں نے اور اداکار ’سمیع خان‘ نے ’اووم پوری ‘کے ساتھ ایک بھارتی فلم میں کام کیاہےجو دونوں ممالک کا مشترکہ منصوبہ تھا، انہوں نے کہا کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت میں ہمارا بہت اچھا وقت گزرا اور اِسی دوران ہم جب بھی وہاں موجود بھارتی لوگوں سے بات کرتے تو وہ ہم سے پوچھتے تھے کہ کیا آپ نے کبھی اداکار فواد خان سے ملاقات کی ہے؟‘


اداکار نے کہا کہ بھارتی لوگوں کا ہم سے اس طرح سے پاکستانی فن کاروں کے بارے میں پوچھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میں پاکستانی فن کاروں کی فین فالوونگ بے حد زیادہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھارت کے لوگ پاکستانی فن کاروں کو اس قدر پسند کرتے ہیں لیکن جب دِل کرتا ہے تو پاکستانی آرٹسٹ کو دُھتکار بھی دیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ لیجنڈ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم جن کی آواز دنیا بھر میں پسند کی جاتی ہے، اُن کے گانوں پر بھارت نے پابندی عائد کردی، یہ ہمارے لیے افسوس کا مقام ہے۔‘

انہوں نے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فن کاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’پاکستانی فن کاروں کی بھارت میں مقبولیت کی وجہ پاکستان ہے، پاکستان میں جو انہوں نے کام کیا اُس کے بعد ہی بھارتی فلم انڈسٹری نے پاکستانی فن کاروں کو بھارت میں کام کرنے کا موقع دیا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم بچپن سے یہ ہی سُنتے اور دیکھتے آرہے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر ظلم وستم کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ میرا تعلق آزاد کشمیر سے ہے میں جب بھی اپنے گاؤں جاتا تھا تو گاؤں والے کہتے تھے کہ آگے مقبوضہ کشمیر ہے جو بھارتی جارحیت کا شکار ہے۔‘

انٹرٹینمنٹ سے مزید