آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ چند برسوں کے دوران ضلع شکارپور میں معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے درجنوں واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہوچکے ہیں۔ ان واقعات کے تدارک میں پولیس کی کوئی قابل ذکر کارکردگی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی وجہ سے والدین خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ چھ روز قبل تحصیل گڑھی یاسین میں تھانہ نئوں امروٹ کی حدود گاؤں اللہ بخش کھوسہ میں نامعلوم شخص نے آٹھ سالہ لڑکی سمیعہ کھوسہ کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اسے گاؤں کے باہر پھینک دیا ۔ اسے زخمی حالت میں پڑا دیکھ کر گاؤں کے لوگوں نے ضلعی ہیڈ کوارٹر سول اسپتال شکارپور پہنچایا، جہاں سے حسبِ معمول سہولتیں نہ ہونے کا بہانہ بناکر اسے سول اسپتال سکھرمنتقل کیا گیا،جہاںلیڈی ڈاکٹرنے طبی معائنے کے بعد بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی ۔لیکن وہاں بھی اسے علاج معالجے کی فراہمی کی بجائے لاڑکانہ کے سول اسپتال منتقل کرنے کے لئے کہاگیا۔متاثر ہ بچی کے والد نے صحافیوں کوبتایا کہ ہم اپنی زرعی اراضی پر دھان کی کاشت کر رہے تھے اور ہماری بیٹی اکیلی ہونے کی وجہ سے وہاں کھیل رہی تھی جسے اچانک کسی نامعلوم شخص نے اغوا کرکے مبینہ طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بنایااورزخمی حالت میں گاؤں کے باہر پھینک کر فرار ہوگیا۔واقعے کے بعد ڈاکٹر اسپتالوں کے چکر لگوارہے ہیں جبکہ پولیس واقعے کا مقدمہ درج کرنے سے گریزاں ہے۔

مذکورہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی لاڑکانہ، عرفان بلوچ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شکارپور میں نگراں ایس ایس پی سکھر عرفان سموں کو ملزم کی گرفتاری اور متاثرہ لڑکی کی دیکھ بھال کے احکامات جاری کئےجب کہ انچارج ویمن کمپلینٹ سیل سکھر ریجن ،رخسانہ منگی نے سکھر اسپتال پہنچ کر متاثرہ لڑکی کو لاڑکانہ اسپتال منتقل کرنے سے روکتے ہوئے اسے اپنی زیرِ نگرانی سکھر میں ہی علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کہا۔ ہوش میں آنے کے بعدمتاثرہ بچی نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ پنی خالہ کے کہنے پر وہ ایک شخص کے پاس گئی تھی جو موٹر سائیکل پر سوار تھا، اس نے اسےاغوا کرکے ماڑی شہر پہنچایا جہاں ایک کمرے میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زیادتی کی ۔پولیس نےلڑکی کے بیان پر متاثرہ بچی کی خالہ کو حراست میں لے کر پولیس ویمن سیل شکارپور،کے حوالے کردیا۔ اس سلسلے میں ڈی ایس پی مدیجی، ذوالفقار پٹھان نے صحافیوں کو بتایا کہ آئی جی سندھ کے احکامات پر اس واقعے کی چھان بین شروع کردی گئی ۔ متاثرہ لڑکی کی خالہ امام زادی عرف امی کو شک کی بنا پر حراست میں لے کر جب پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے بتایا کہ اس نے متاثرہ لڑکی کو ایک شخص محبوب عرف بابو بنگلانی نامی ملزم سے کپڑے لانے کو کہا ۔ لڑکی جب اس کے پاس گئی تو مبینہ ملزم نے اسے دبوچ کر موٹرسائیکل پر بٹھایا اور اسے ماڑی کے علاقے میں لے گیا،جہاں اس نے بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے بیہوشی کی حالت میں اس کے گاؤں کے باہر پھینک دیا۔

واقعے کے مرکزی ملزم کی عدم گرفتاری، پولیس کی جانب سے واقعے کی ایف آئی آر درج نہ کرنے پر وکلاء،سیاسی،سماجی و مذہبی تنظیموںکے رہنماؤں سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین کو انصاف فراہم کرنےاور ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کردیا۔احتجاجی مظاہروں کے بعد تھانہ نئوں امروٹ میں لڑکی کے والدبدرالدین کھوسہ کی مدعیت میں شکارپور کے رہائشی ملزم محبوب علی عرف بابو بنگلانی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیاجس میں ایک نامعلوم شخص کو بھی شامل کیا گیا جبکہ متاثرہ لڑکی کی خالہ امام زادی عرف امی زوجہ نصراللہ کھوسہ کو ملزمان کی سہولت کار کے طور پر شامل تفتیش رکھا گیا ہے۔ عوام کے شدید ردعمل کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائیاں کر کے پانچویں روز ملزم بابو بنگلانی کو گرفتار کرلیا۔

ایس ایس پی شکارپور کے دفتر میں ایڈیشنل آئی جی سکھر جمیل احمدنے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ملزم محبوب علی عرف بابو بنگلانی،8سالہ لڑکی سمیعہ کے ساتھ زیادتی کے بعد شکارپور سے فرار ہوکر سانگھڑ پہنچا تھا،جہاں خفیہ ذرائع سے اطلاع ملنے کے بعد ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی۔اسی طرح کا واقعہ ایک روز قبل، گڑھی یاسین میں تھانہ آغا فارم کی حدود میں پیش آیا جہاں ایک لڑکی فوزیہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا۔ اس واقعے میں ملوث ملزمان، لیاقت اور شوکت کو گرفتار کیا گیا تھا۔پورے پاکستان سمیت سندھ بھر میں بچوں کے ساتھ ززیادتی کے بڑھتے ہوئے یہ واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں،جوکہ نہ صرف پریشان کن بلکہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔یہاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تو سامنے آجاتے ہیں لیکن اس میں ملوث مجرمان کو ملنے والی سزاؤں کی شرح انتہائی کم ہے۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس طرح کے افسوسناک واقعات میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ پایا جارہاہے۔جبکہ اس طرح کےواقعات کو صرف سخت ترین اور عبرتناک سزاؤں سے ہی روکا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایسے واقعات کی نشاندہی کرنی چاہئے، تاکہ ان درندہ صفت لوگوں کو جرم کرنے سے پہلے ہی قانون کی گرفت تک پہنچایا جاسکے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید