آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشمیر، مودی کی آج جوابدہی، جی سیون میں شامل امریکی صدر، برطانوی وزیراعظم، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور فرانسیسی صدر بھارتی وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھائیں گے

 جی 7 اجلاس، مودی سے عالمی رہنما مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر بات چیت کرینگے


کراچی(جنگ نیوز)مقبوضہ کشمیر پر مودی سے آج جوابدہی،جی سیون میں شامل امریکی صدر ، برطانوی وزیراعظم، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ اور فرانسیسی صدر بھارتی وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھائینگے،امریکی حکام کا کہناہےکہ ہم وادی کی صورتحال باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں، انسانی حقوق کا احترام ضروری ،مواصلات و نقل و حرکت پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں، کشیدگی کے خاتمے کیلئے صدر معاونت کرینگے، غیرملکی میڈیا کےمطابق ٹرمپ مودی سے ملاقات کے دوران علاقائی کشیدگی کم کرنے کے بھارتی منصوبے سے متعلق سننا چاہیں گے جبکہ مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین پر مذاکرات کیلئے زوربھی دیںگے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جی 7سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے فرانس پہنچ گئے ہیں ، جہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور دیگر معاملات پر گفتگو کی جائیگی جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے عالمی رہنما مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر بات چیت بھی کرینگے، اطلاعات کے مطابق عالمی رہنما جی 7اجلاس میں مقبوضہ کشمیرمیں امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کیلئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر زور بھی دینگے۔ میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی حکام کا کہناہےکہ امریکا کشمیر کی صورتحال کو باریک بینی سے دیکھ رہا ہے اور صدر ٹرمپ اس تنازع کے حل کیلئے معاونت پر تیار ہیں۔دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے پر ایک تجزیہ میں کہا گیا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی سے مقبوضہ کشمیر کے آرٹیکل 370 کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد کشیدگی میں اضافے کو کم کرنے کے منصوبے کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حیثیت سے کشمیری عوام کے انسانی حقوق کے احترام کے متعلق بھی بات ہو سکتی ہے۔انڈیا اور پاکستان کے مابین ثالثی کی تجویز کے بعد سے صدر ٹرمپ مسلسل کشمیر کے بارے میں بات کرتے رہے ہیں خواہ کئی بار غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ کیا ہے۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کی اپنے انداز میں انوکھی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر ایک بہت ہی پیچیدہ جگہ ہے،یہاں ہندو بھی ہیں اور مسلمان بھی ، میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ مل کر شاندار طریقے سے رہ سکتے ہیں، ایسی حالت میں میں صرف ثالثی کر سکتا ہوں،آپ کے پاس دو کاؤنٹی ہیں جو زیادہ دنوں تک اکٹھے نہیں رہ سکتے اور براہ راست میں کہوں تو صورت حال بہت دھماکہ خیز ہے۔

اہم خبریں سے مزید